اسلام آباد( جنگ نیوز، خبرایجنسیاں)وزیر اعظم عمران خان نےکہا ہے کہ انگریزی زبان اور لباس کا استعمال احساس کمتری، حقیقتاً سافٹ امیج نہیں ، اگر ہمیں اپنے سافٹ امیج کو فروغ دینا ہے تو ہمیں پاکستانیت کو فروغ دینا ہو گا، وہ ہمارا سافٹ امیج ہے،جسے خود سے شرم آئے دنیا اس کی عزت نہیں کرتی،ہارنے سے ڈرنےوالا شخص کبھی جیت نہیں سکتا۔
خطرات مول لینےسے ہی کامیابی ملتی ہے،امریکی جنگ میں اسکا ساتھ دیا ہمیں بنیاد پرست قرار دیکر برا بھلا کہا گیا،فلم انڈسٹری کے زوال کی وجہ بھارت کی نقالی،فلم انڈسٹری فحاشی کلچر کے بجائے اپنا اصل مواد لائے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخارنے کہاہےکہ دہشتگردی کیخلاف جنگ تقریباًجیت چکے ہیں، اس نے قومی تشخص کو بہت نقصان پہنچایا،اب اسے بہتر بنانے کا وقت آگیاہے۔
وفاقی وزیر فواد چوہدری کاکہناہےکہ امریکا چین تناؤ کم کرنے کیلئے پاکستان کردارادا کرنے کوتیار ہے۔ ہفتے کو نیشنل امیچور شارٹ فلم فیسٹیول سے خطاب کرتے ہوئےوزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اگر ہمیں اپنے سافٹ امیج کو فروغ دینا ہے تو پاکستانیت کو فروغ دینا ہو گا۔
پاکستانی فلمی صنعت نے ابتدا میں ہی بھارت کی نقالی شروع کردی تھی ، دنیا میں صرف اصل چیز بکتی ہے، نقل کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، مہنگی سے مہنگی پینٹنگ لے لیں اور اچھی سے اچھی کاپی کر لیں ،اس کی کوئی قدر نہیں ، نصرت فتح علی خان کا انتقال نہ ہوتا تو مغرب میں بہت نام ہوتا ،چاہتا ہوں ہماری فلمی صنعت میں کچھ اصل اور نئی سوچ لے کر آئیں۔
میرا زندگی کا تجربہ ہے جو شخص ہارنے سے ڈرتا ہے، وہ کبھی جیت نہیں سکتا، ہمیشہ جیت اسی کی ہوتی ہے جو بڑے بڑے خطرات مول لیتا ہے،پاکستان میں سب سے زیادہ آمدن کا سبب سیاحت ہو گی، ہم تاریخی اور مذہبی سیاحت پر بھی توجہ دے رہے ہیں اور پاکستان میں جو منفرد پہاڑی سلسلے ہیں ایسے دنیا میں کہیں نہیں کیونکہ دنیا کی آدھی بلند چوٹیاں ہمارے ملک میں ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ یہ پاکستان میں نیا آغاز ہے، مجھے یہ شارٹ فلمز دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ اب ہم صحیح سمت میں جا رہے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ ہالی وڈ میں فحاشی کو فروغ دیا گیا جو وہاں سے ہوتی ہوئی بالی وڈ تک آئی اور یہاں بھی اسی طرح کے کلچر کو فروغ دیا گیا، میں ترک صدر طیب اردوان سے درخواست کر کے ارطغرل ڈرامہ پاکستان لے کر آیا، اس میں ایک متبادل ثقافت ہے جسے لوگ دیکھنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے نئے فلمسازوں کو مشورہ دیا کہ وہ ناکامی سے نہ گھبرائیں اور اپنی اصل چیز لے کر آئیں ۔انہوںنے کہاکہ میں کئی مرتبہ سن چکا ہوں کہ ہمیں پاکستان کے سافٹ امیج کو فروغ دینا چاہیے، یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بعد شروع ہوا جب ہم نے اس جنگ میں شرکت کی جس کی میں نے ہمیشہ مخالفت کی۔
اس وقت دنیا نے ہمیں خطرناک اور بنیاد پرستوں کا ملک قرار دیا تو ہم نے دفاعی حیثیت اپناتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان کا سافٹ امیچ ابھرے کا تو دنیا کہے گی کہ یہ بہت زبردست ملک ہے لیکن حقیقتاً سافٹ امیج کوئی چیز نہیں ہوتی، آپ احساس کمتری سے اس چیز پر لگ جاتے ہیں۔
سافٹ امیج یہ نہیں کہ ہم ان جیسے کپڑے پہن لیں بلکہ یہ سافٹ امیج خودداری سے آتا ہے، دنیا اس کی عزت کرتی ہے جو پہلے اپنی عزت کرتا ہے، جس میں احساس کمتری ہوتی ہے وہ دنیا کی نقالی کررہا ہوتا ہے کیونکہ اس میں اعتماد نہیں ہوتا اور دنیا اس کی عزت نہیں کرتی۔
انہوں نے کہاکہ اگر ہمیں اپنے سافٹ امیج کو فروغ دینا ہے تو ہمیں پاکستانیت کو فروغ دینا ہو گا، وہ ہمارا سافٹ امیج ہےہم نے امریکا کا جنگ میں ساتھ دیا اور ہمیں ہی برابھلا کہا گیا۔
عمران خان نے کہا کہ مجھے اپنے نوجوانوں سے بہت امیدیں ہیں، ہماری 60 فیصد نوجوان آبادی انتہائی باصلاحیت ہے اور یہ تکنیکی صلاحیتیں حاصل کرنے کے بعد اپنے ملک میں موجود منفرد کہانیوں کو اجاگر کریں گے۔
نیشنل امیچور شارٹ فلم فیسٹیول کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئےپاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ دہشتگردوں نے پاکستان کے تشخص کو نقصان پہنچایا، انسداد دہشتگردی جنگ تقریباً جیت چکے ہیں۔