• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مولانا حافظ عبد الرحمٰن سلفی

ارشادِ ربانی ہے! دنیا کی زندگی کی مثال تو بالکل بارش جیسی ہے جسے ہم آسمان سے برساتے ہیں ،پھر اسی سے زمین کا سبزہ اور روئیدگی مل جل کر وہ چیزیں اگتی ہیں جو انسان بھی کھاتے ہیں اور چوپائے بھی یہاں تک کہ جب زمین سرسبز ہو گئی آراستہ ہو گئی اور وہاں کے رہنے والوں نے اندازہ لگا لیا کہ اب ہم نفع پانے پر قادر ہو گئے کہ ناگہاں ہمارا حکم اس پر رات کو یاد ن کو آپہنچا ہم نے اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکا ،اس طرح سے کہ گویا کبھی کچھ تھا ہی نہیں۔ غور و فکر کرنے والوں کے لئے ہم اسی طرح سے اپنی نشانیاں کھول کھول کر بیان فرما دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سلامتی کے گھرکی طرف بلانا چاہتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ راست پر لاکھڑا کرد یتا ہے ۔( سورۂ یونس)

ان آیات مبارکہ میں دنیا کی رونق اور اس کی فنا ہونے والی چند روزہ زندگی پر بربادی اور بے رونقی کی مثال زمین کے سبزے سے بیان کی گئی ہے کہ آسمان سے بارش کاپانی برسا اور زمین لہلہا اٹھی اور طرح طرح کے پھل پھول سبزیاں اناج اور باغات پیدا ہو گئے اور انسانوں اور جانوروں کے کھانے پینے چرنے چگنے کی چیزیں چاروں طرف پھیل پڑیں۔ زمین ہری بھری اور سرسبز و شاداب ہو گئی ہر جانب ہریالی ہی ہریالی نظر آنے لگی۔ 

زمیندار خوش ہو گئے باغات والے پھولے نہیں سماتے کہ اس مرتبہ پھل اور اناج بکثرت ہے اور خوب ہی منافع حاصل ہوگا کہ ایکا ایکی آندھیوں کی جھکڑ چلنے لگے بے موسمی طوفان بادوباراں اور برف باری ہوئی اولے گرے کھیتیاں برباد کھڑی فصلیں تباہ و تاراج ہوئیں پھل تو پھل پتے بھی جل گئے ،درخت جڑوں سے اکھڑ گئے، تازگی خشکی سے بدل گئی۔ کھیت اور باغات ایسے ہو گئے کہ گویا کبھی تھے ہی نہیں۔

یہی حال دنیا کا ہے کہ روح آسمان سے آئی او رخاکی جسم میں داخل ہو گئی وہ جسم پیدا ہو کر توانا و جوان ہوا ۔ ماں باپ عزیز و اقارب سب یہ سمجھنے لگے کہ یہ شخص ہمیں فائدہ پہنچائے گا کہ ناگہاں آفت ارضی و سمائی نازل ہوئی اور وہ مرگیا گویا تھا ہی نہیں۔ لوگوں کی ساری امیدیں خاک میں مل گئیں۔ دنیاکی یہ سرسبز شادابی چند روز ہ ہے، لہٰذا اس پر فریفتہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ دانائی کا تقاضا ہے کہ آخرت کی زندگی جو کبھی ختم نہیں ہونے والی اس کے لئے انسان جدوجہد کرے اور اس کا عیش و آرام اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط رکھنے سے ہی حاصل ہو گا۔ 

دنیا کی محبت انسان کورب کریم کی یاد سے غافل کر دیتی ہے اور وہ اس کے حصول کے لئے جائز ناجائز حرام حلال کی تمیز بھلا بیٹھتا ہے نتیجتاً چند روزہ آسودگی تو شاید اسے حاصل ہو جائے ،مگر آخرت کی ناکامی و نامرادی اس کا مقدر بن سکتی ہے۔ دنیاوی لذات کی حقیقت کیا ہے ؟ جس کے لئے ہم رات دن ایک کئے دیتے ہیں اور تمام شرعی و اخلاقی حدود پامال کردیتے ہیں حدیث مبارکہ میں بڑی وضاحت سے اس کی قلعی کھول دی گئی ہے۔

تفسیر ابن کثیر میںحدیث مصطفیٰ ﷺ ہے کہ قیامت والے دن ایک بڑے دنیا دار کروڑ پتی کو جو ہمیشہ ناز و نعمت ہی میں رہا، اسے جہنم میں ایک غوطہ دے کر پوچھا جائے گا کہ بتائوتمہاری زندگی کیسی گزری؟ وہ جواب دے گا، میں نے تو کبھی کوئی راحت دیکھی ہی نہیں ،کبھی آرام و سکون کا نام بھی نہیں سنا۔ اسی طرح ایک دوسرے شخص کو جس پر دنیا کی زندگی میں آرام کی ایک گھڑی بھی نہیں گزری تھی لایا جائے گا اور اسے جنت میں غوطہ لگاکر پوچھا جائے گا۔ بتائو دنیا میں کیسے رہے؟وہ جواب دے گا کہ پوری عمر میں نے کبھی رنج و غم کا نام بھی نہیں لیا کبھی دکھ اور تکلیف کو دیکھا ہی نہیں۔

اس حدیث شریف سے واضح ہوتا ہے کہ دنیا اور اس کی حقیقت کیا ہے؟اللہ تعالیٰ اپنے آخری پیغام ہدایت یعنی قرآن مجید اور سرور کائنات علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے مختلف احادیث مبارکہ میں دنیا کی محبت میں مبتلا ہونے کے مرض سے بچنے اور آخرت کی تیاری کے احکامات ارشاد فرمائے ہیں، تاکہ اہل عقل و دانش عبرت حاصل کریں ایسانہ ہو کہ اس چند روزہ اور فانی دنیا کے چکر میں پڑ کر اپنے خالق و مالک کو بھلا بیٹھیں اور اس ڈھل جانے والے سراب کو آب حیات اور سائے کو اصلی اور پائیدار سمجھ لیں، اس کی رونق چند روزہ ہے اور بالآخر اسے فنا ہو جانا ہے۔ دنیا وہ چیز ہے جو اپنے طلب کرنے والوں سے بھاگتی اور نفرت کرنے والوں سے لپٹتی ہے۔ 

چنانچہ دنیا کی حقیقت کو سورۂ کہف میں اس طرح بیان کیا گیا ۔ترجمہ! ان کے سامنے دنیا کی زندگی کی مثال بیان کیجئے کہ وہ پانی کی طرح ہے۔ جسے ہم آسمان سے اتارتے ہیں اس سے زمین کو روئیدگی ملتی ہے، پھر آخر کار وہ چورا (چورا) ہو جاتی ہے جسے ہوائیں لیے اڑتی پھرتی ہیں۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ مال و اولاد تو دنیا ہی کی زندگی کی زینت ہیں۔ ہاں البتہ باقی رہنے والی نیکیاںتیرے رب کے نزدیک ازروئے ثواب اور آئندہ کی اچھی توقع کے بہت ہی عمدہ ہیں۔

اسی طرح سورۂ آل عمران میں واضح کیا گیا:ترجمہ! لوگوں کے لئے نفسانی خواہشات کی چیزوں کو مزین کیاگیاہے عورتوں اوربیٹوں سے اور جمع کئے ہوئے خزانوں سے سونے اور چاندی سے اور نشان زدہ گھوڑوں سے اور جانوروں اور کھیتی سے یہ دنیا کی زندگی کا فائدہ ہے اور لوٹنے کا اچھا ٹھکانہ تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ آپ ﷺ کہہ دیجئے کیا میں تمہیں ا س سے بہت ہی بہتر چیز نہ بتائوں تقویٰ والوں کے لئے ان کے رب کے پاس جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ بیویاں اور اللہ کی رضامندی ہے اور سب بندے اللہ کی نگاہ میں ہیں۔

متاع دنیا خواہشات نفسانی اور مال و دولت فانی اور زوال پذیر ہے، اس لئے اہل اللہ ان باتوں کی طرف زیادہ توجہ نہیں کرتے اور جو شخص بھی قرآن و حدیث کی روشنی میں گہری نظر سے دنیا کا مطالعہ و مشاہدہ کرے گا، وہ اس دنیا کو مردہ اورسڑی ہوئی لاش سے بھی زیادہ برا سمجھے گا اور اس کی محبت کو دل سے نکال کر اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت سے اپنے قلب کو منور کرے گا۔ دنیا کی بے وقعتی اور بے قیمتی پرسرورِ عالمﷺ کی یہ حدیث انتہائی فکر انگیز ہے۔

روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺبازار میں تشریف لے جا رہے تھے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم بھی ہمراہ تھے۔ آپ ﷺ کا گزر بکری کے مرے ہوئے بچے کے پاس سے ہوا جس کے چھوٹے چھوٹے کان تھے۔ آپ ﷺنے اس کے کان کو پکڑ کر فرمایا۔ اس مرے ہوئے بکری کے بچے کو ایک درہم میں لینا کون پسند کرتا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ ہم کسی حالت میں بھی اسے لینا پسند نہیں کرتے اسے لے کر ہم کیا کریں گے۔ آپﷺ نے فرمایا: اچھا پھر مفت ہی لے لو۔ لوگوں نے کہا، اگریہ زندہ ہوتا ،تب بھی عیب دار تھا، اس کے چھوٹے چھوٹے کان ہیں ،اب اس مردہ بچے کو لے کر ہم کیا کریں گے۔ سرورعالم ﷺ نے صحابہ کرام ؓ سے فرمایا کہ یہ دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس مردہ لاش سے بھی زیادہ ذلیل و خوار ہے۔(صحیح مسلم)پرہیزگار اور سمجھ دار لوگ اس دنیا کو سڑی گلی اور مردہ لاش جان کر اسے کسی طرح لینا پسند نہیں کرتے، بلکہ اس کی طرف دیکھتے بھی نہیں۔

امام غزالی ؒنے ایک حدیث بیان کی ہے۔ترجمہ! رسول اللہ ﷺایک کچرے کے ڈھیر پر کھڑے ہوگئے اورصحابہ کرام ؓ سے فرمایا: آئو تم دنیا دیکھو۔آپﷺ نے اس ڈھیر پر سے گلا سڑا کپڑا اور بوسیدہ اور گلی ہوئی ہڈی لے کر فرمایا کہ یہ دنیا ہے۔ دنیا کی زینت اس کپڑے کی طرح ہے اور جسم کی ہڈی اس سڑی ہوئی ہڈی کی طرح ہے۔ یعنی مرنے کے بعد جسم بھی گل سڑجائے گا اور ہڈی بھی گل سڑ جائے گی اور کپڑا بھی پرانا ہوکر چیتھڑے ہو جائے گا۔(احیاء العلوم)

حقیقت تو یہ ہے کہ دنیا کی محبت میں مبتلا ہوکر یادالٰہی سے غافل ہوجانا نہایت خسران کا باعث ہے۔ یہ دنیا اہل ایمان کے نزدیک ہمیشہ قابل تفرت رہی ہے جبکہ کفار کا وطیرہ رہا ہے کہ وہ رب کی معرفت کے حصول کی بجائے دنیا اور اس کے ساز و سامان ہی کو زندگی کی معراج سمجھتے ہیں۔ سرور کائناتﷺ کا فرمان عالی شان ہے۔ جس نے دنیا سے محبت کی اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا اور جس نے آخرت سے محبت کی اس نے دنیا کو نقصان پہنچایا۔ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی رہنے والی ہے ۔(مسند احمد)

کوئی ضروری نہیں ہے کہ دنیا کی محبت رکھنے والے کی ہر چاہت پوری ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ جس کے لئے چاہے اس کے ارادے کسی حد تک پورے کر دے البتہ ایسے دنیا پرست لوگ آخرت میں خالی رہ جائیں گے۔ دنیا طلبی انہیں جہنم کے گڑھے میں انتہائی بری حالت اور ذلت و خواری کے ساتھ پہنچا دے گی۔ کیونکہ انہوں نے باقی رہنے والی زندگی کو فانی زندگی اور آخرت پر دنیا کو ترجیح دی تھی۔

تازہ ترین