• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عمران کو اجلاس میں شریک ہونا چاہئے تھا، میجر جنرل (ر) اعجاز اعوان


کراچی (ٹی وی رپورٹ) تحریک انصاف کی رہنما ملیکہ بخاری نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں خارجہ اور دفاعی کمیٹیوں کے ارکان کے ساتھ پارٹیوں کے نمائندے مدعو تھے اسی لیے وزیراعظم اجلاس میں نہیں تھے،تحریک انصاف کی سینئر سیاسی قیادت اجلاس میں شریک تھی جو وزیراعظم کو بریف کرسکتی ہے

پاکستان کی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ وہ جیوکے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان منیب فاروق سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں نواز شریف کے ترجمان محمد زبیر اور دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل (ر) اعجاز اعوان بھی شریک تھے۔

محمد زبیرنے کہا کہ وزیراعظم کبھی بھی قومی سلامتی کمیٹی کی بریفنگ میں نہیں آئیں گے کیونکہ ایسی چھوٹی بریفنگ میں سب سے ہائے ہیلو کرنا پڑتا ہے، پاکستان نے ماضی میں جو غلطیاں کیں وہ نہیں دہرانی چاہئیں۔میجر جنرل (ر) اعجاز اعوان نے کہا کہ وزیراعظم کو جمہوری رویئےکے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ضرور شریک ہونا چاہئے تھا، ممکن ہے شہباز شریف اور بلاول بھٹو ایسے سوالات پوچھنا چاہتے ہوں جن کے جوابات آرمی چیف یا ڈی جی آئی ایس آئی نہیں دے سکتے ہوں۔

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل (ر) اعجاز اعوان نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس وقت اور نوعیت کے اعتبار سے اہم ہے، خطے میں انتہائی اہم اسٹریٹجک تبدیلیاں ہورہی ہیں ایسے وقت ملک میں سیاسی فالٹ لائنز بہت واضح ہیں

میجر جنرل (ر) اعجاز اعوان کا کہنا تھا کہ نائن الیون کے بعد امریکا نے اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت افغانستان پر القاعدہ کیخلاف حملہ کیا تھا، کیا وزیراعظم عمران خان کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کو اقوام متحدہ کی قرارداد کا حصہ نہیں بننا چاہئے تھا، امریکی انخلاء کے بعد افغانستان کے اندر لڑائی ہوگی جس سے پاکستان بری طرح متاثر ہوگا، افغان میں خانہ جنگی کی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین پاکستان آسکتے ہیں۔

تازہ ترین