• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مختلف محاذوں پر حکومت کی پے در پے کامیابیاں اپوزیشن کے اعصابی تناؤ میں مسلسل اضافے کا باعث بن رہی ہیں، اڈوں کی فراہمی کے جواب میں ’’ایبسولیوٹلی ناٹ‘‘ نے مہنگائی کے باعث وزیراعظم عمران خان کی گرتی ہوئی مقبولیت کا گراف یکدم بلند کر دیا ہے، ایسا بلند کہ ہمسایہ ملک بھارت کے ٹاک شوز میں چیخم دھاڑ سنی گئی کہ عجب جذباتی قوم ہے، ایک ہی بیان سے پچھلا سب کچھ بھول بھال گئی۔ حکومتی ترجمان سیاسی بساط پر بڑی مہارت سے چالیں چل رہے ہیں، حالانکہ سب پرانے اور منجھے ہوئے کھلاڑی نہیں، کچھ نوآموز بھی ہیں لیکن جس کمال سے سر اور تال باندھتے ہیں، سامعین و ناظرین نظرانداز کرکے آگے بڑھ ہی نہیں سکتے۔ اپوزیشن کے گلوکاروں کے سروں میں اب سوز تو ہے ساز نہیں، سوز بھی اپنی ناکردہ کاریوں کا، وہ عوام کا یہ یقین حاصل کرنے میں بھی ناکام ہو چکے ہیں کہ انہیں عوامی مسائل اور مصائب کا کوئی رنج ہے، این آراو، این آراو کی تکرار سے وزیراعظم عمران خان عوام کے قلوب و اذہان میں یہ راسخ کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں کہ ان کے مخالفین کے درد کا درماں صرف اور صرف این آر او اور مقدمات سے نجات ہے، ڈیجیٹل ایج میں رائے عامہ کے گھوڑے کی طنابیں اپنے ہاتھ میں رکھنا مہارت تامہ کا متقاضی ہے، بلاول بھٹو زرداری کے دورہ امریکہ کو حکومتی ترجمانوں کی جانب سے جس انداز سے پیش کیا گیا، مقاصد خواہ کچھ بھی ہوں وضاحتوں کیلئے طویل عرصہ درکار ہوگا، بےچارہ مرتضیٰ وہاب دوسرے بیانیے کی جنگ لڑتا رہتا ہے لیکن اس شور میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے، اسے اپوزیشن کی بدقسمتی کہئے یا حکومت کی خوش نصیبی وہ جس مسئلے پر آواز اٹھانے یا بالفاظ دیگر سیاست کرنے کی کوشش کرتی ہے الٹا انہی کے گلے پڑ جاتی ہے،ترقیاتی بجٹ کمیشنوں کی نذر ہونے کی بجائے کہیں خرچ کئے ہوتے تو غریبوں کے بچے ایئر کنڈیشنڈ میں نہ سہی پنکھوں تلے ہی سو سکتے، اندھیرے اور گرمی سے نہ بلکتے۔ کل تک جو حکومت آج گئی، کل گئی کے نعرے لگارہے تھے باہم دست و گریباں ہوکر درماندہ قوم کیلئے تفریح کا سامان پیدا کررہے ہیں، حکومتی حکمت عملی کے باعث استعفے مانگنے والے خود ہی اپنے مطالبے سے مستعفی ہوگئے، طرفہ تماشہ یہ کہ حکومت کو گھر بھیجنے کا موقع سامنے پاکر مسلم لیگ (ن) کے ارکانِ اسمبلی پتلی گلی سے نکل گئے، کہتے تھے بجٹ منظور نہیں ہونے دیں گے لیکن وقت آنے پر تیسری بار کان لپیٹ کر پرانی تنخواہ پر کام کرنےلگے، قوم کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ کبھی پیپلز پارٹی اور کبھی مسلم لیگ(ن) کھلواڑ کیا کرتی ہے، پھر بھی یہی توقع ہے کہ عوام ان کے مگرمچھ کے آنسوؤں کے سیلاب سے پگھل جائیں گے، حکومت کی حکمت عملی کے باعث بجٹ آسانیاں لایا، تنخواہوں میں اضافہ ہو گیا، کووڈ کے محاذ پر حکومت نے دانشمندی سے نمٹتے ہوئے کسی بڑی بدمزگی یا سیاست بازی کا راستہ روکے رکھا، لوگوں کو آسانیاں فراہم کیں، میسج سسٹم متعارف کرایا اور آبرو مندانہ انداز میں ویکسی نیشن کا عمل جاری رکھا، لوگ برسرعام کہتے ہیں کہ پرانے جغادریوں کی حکومت ہوتی تو فوٹو سیشن تو ہوتے لیکن غریب عوام کورونا سے لاوارث مر جاتے، لاک ڈاؤن کے ایام میں احساس پروگرام کے چند ہزار نادار دیہاڑی داروں کیلئے لاکھوں کے برابر تھے۔ برس ہابرس کے آزمائے ہوئے اپوزیشن کے شیرجوان اپنی شبانہ روز کہہ مکرنیوں کے باعث رہی سہی ساکھ بھی کھو رہے ہیں، مریم اچانک تنقید کرتے کرتے خاموش ہوتی ہیں تو اس پر کہیں سے آسرا ملنے کا تاثر قرار دیا جاتا ہے، ایک اسٹیج پر چچا بھتیجی اکٹھے نہ ہوں تو باہمی سیاسی چشمک سمجھی جاتی ہے، بہرحال حقیقت جو بھی ہو مبصرین کا خیال ہے کہ حالیہ دنوں میں سیاسی اسٹیج پر حکومتی کارکردگی بہرحال بہتر جا رہی ہے، حکومت اور اس کے اکابرین جو چاہتے ہیں وہ تاثر دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور اپوزیشن روزانہ کی بنیاد پر اپنا رہا سہا اعتماد کھو رہی ہے۔ پی ڈی ایم کی تشکیل چند ماہ پیشتر کی ہی تو بات ہے، آسماں بھی حیرت سے تک رہا تھا جب عہدو پیماں کی آہنی زنجیریں پاؤں کے بجائے مالا سمجھ کر گلے میں ڈالی گئیں، حکومت کو گھر بھیجنے کی تاریخ پہ تاریخ دینے والے نوجوان رہنماؤں کا حسنِ بیان و صورت بہرحال ٹی وی اسکرینوں کی زینت بن رہا تھا، باہم شیریں لہجے اور مولانا فضل الرحمٰن اور آصف زرداری جیسے زیرک سیاست دانوں سے بہتر تدبیری کی توقعات بھی وابستہ کر لی گئی تھی پھر اچانک ملتان کے آم جیسے میٹھے سید زادے کی نشست نے لہجوں میں رس گھولنا شروع کردیا، مریم اور بلاول کے بزرگوں سے مایوس عوام ان سے امیدیں باندھ ہی رہے تھے کہ ان کی سیاست ناتجربہ کاری کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھ گئی، ایفائے عہد کی جوان ہوتی تمنائیں اور قربتیں بیچ چوراہے کے تماشہ بن گئیں، حکومتی حکمت عملی کامیاب ہو گئی۔ پہلا، دوسرا، تیسرا بجٹ ہو یا سینیٹ کا الیکشن، وزیراعظم کے اعتماد کے ووٹ کا مرحلہ ہو یا اپوزیشن کی تحریک ہر موقع پرحکومتی مہارتِ تامہ نے اپوزیشن کو چاروں شانے چت کیا، اس حکومت نے جس کے بارے اپوزیشن کا دعویٰ تھا کہ نوآموز ناتجربہ کار حکومت ہے، میں تو اکثر سوچتا ہوں جب اس نوآموز اور ناتجربہ کار حکومت نے اپوزیشن کو کہیں کا نہیں چھوڑا تو جب موجودہ حکمران تجربہ کار ہو گئے تو اپوزیشن کا کیا بنے گا؟

تازہ ترین