• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک زمانہ پتھر کا زمانہ کہلاتا تھا جب لوگ غاروں میں رہتے تھے اور پتھروں سے شکارکرتے تھے، اس کے بعد فولادکا زمانہ یعنی (Iron Age) آیا جب انسان نے اوزار اور ہتھیار بنانا شروع کئے۔

پھرقرون وسطیٰ (Medieval Age) کا دور تھا جس میں جاگیردارانہ اور غاضبانہ طور طریقے اپنائے گئے اور کمزور اور طاقتور میں فرق واضح ہوا پھرعلوم کا دور (age of Renaissance) یعنی حیات نو کا دور آیا جب انسان نے تہذیب کلچر اور فلاسفی جیسے مضامین پر غورکیا۔ اس کے بعد ’’بنانے کا عمل‘‘ کا دور آیا پھر انسان، صنعتی ترقی کے دور میں داخل ہوگیا۔ اس کے بعد کا دور تھا اسکول ایج کا دور شروع اس میں پہلی جماعت سے لے کر اعلی تعلیم کے حصول کیلئے بڑے بڑے تعلیمی ادارے، خوبصورت عمارات، بہترین اساتذہ، کشادہ روشن کلاس رومز، تختہ سیاہ یا بلیک بورڈ، چاک، کتابیں، کاپیاں، پنسلیں، ربڑ، شاپنر، خوبصورت اجلے یونیفارم اور چمکتے دمکتے چہروں والے طالب علم، امتحان، نتیجہ، کامیابی اور ناکامی، سب ہنسی خوشی لکھ پڑھ رہے تھے۔ پھر دنیا میں کوروناکی وبا پھیل گئی۔ 

رفتہ رفتہ سارے تعلیمی ادارے بند ہونا شروع ہوگئے۔ سارے اسکول، کالج، یونیورسٹیاں سمٹ کر جادو کی ڈبیہ میں بند ہوگئے جسے Tablet اور Lap Top کے نام سے دنیا جانتی ہے۔ شکر الحمداللہ، اللہ کے کرم سے یہ اسکول ایج کا دور تاریخ کا حصہ بنتے بنتے رہ گیا اور کورونا کی وبا کا زور ٹوٹنے لگا، رفتہ رفتہ تعلیمی ادارے کھلنا شروع ہوگئے ہیں اور اب درس و تدریس کا عمل بھی ایس او پیز کے ساتھ شروع ہوگیا ہے۔ دوستو! آپ سب کی ذمہ داری دوہری، تہری نہیں بلکہ چہری ہوگئی ہے۔ ایک تو ہمیں یہ کوشش کرنا ہے کہ مورخین کی اسکول ایج کا ذکرنہیں کریگا۔ 

جی ہاں یہ ممکن ہے یہ ہمارے اور آپ کے اختیار میںہے کہ ہم مورخ کا ہاتھ روک دیں… یہ ممکن ہے کیونکہ ہم اور آپ ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد کریںگے تو انشاء اللہ کورونا کو یقینی شکست ہوگی اوررفتہ رفتہ ہم نارمل زندگی گزارنے لگیں گے۔ پر ہماری ذمہ داریاں تو بہت بڑھ گئی ہیں، صرف کلاس روم میں ٹیچر سے پڑھنا، سمجھنا، امتحان کی تیاری اور رزلٹ کا انتظار ہی نہیں بلکہ موجودہ حالات میں کچھ دوسری ذمہ داریاں اور مسائل بھی ہیں جن سے نمٹنا بھی بہت ضروری ہے۔ سب سے پہلے تو کورونا کی و جہ سے تعلیمی ااروں کی بندش کے دوران جو آن لائن کلاسز ہوئی ہیں کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سارے طالب علم اس طریقے سے مستفید ہوئے ہیں؟ 

نہیں ہر گز نہیں کیونکہ ورچوئل اور فزیکل ایجوکیشن میں بہت زیادہ فرق ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ لیپ ٹاپ اور اسمارٹ فون بہت سے طالب علموں کی دسترس سے دور تھے۔ چند اچھے تعلیمی اداروں کے سوا زیادہ تر تعلیم کا سلسلہ منقطع رہا ہے، اس لئے جو طالب علم وسائل کی کمی کی وجہ سے تعلیم کا سلسلہ برقرار نہیں رکھ سکے ہمیں ان کی مدد کرنا ہے، انہیں تعلیم میں اپنے برابر لانے کیلئے ہر طرح کا تعاون اور اخلاقی مدد کرنا ہے۔

وہ طالب علم ضروری نہیں کہ آپ کے ہی اسکول یا کالج کے ہوں وہ کسی بھی اسکول کے ہوں، کہیں بھی ہوں کوئی طریقہ اپنائیے، کوئی گروپ بنائیے تاکہ وہ دوست تعلیمی میدان میں پیچھے نہ رہ جائیں۔ یاد رکھیں وہ الفاظ بھی تحفہ ہوتے ہیں جو دوسروں کوآگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔ لڑکھڑاتے ہوئے کو دیکھ کر آگے بڑھنے کی بجائے اسے تھام لینا چاہئے، جب آپ اس کا ہاتھ تھامتے ہیں تواللہ پاک آپ کا ہاتھ تھام لیتا ہے۔

دوسری بات ہمیں جو سوچناہے، وہ ہے کتاب اور کاغذ کی حرمت کو پہچاننا، اپنی گفتگو کو شائستگی کے سانچے میں ڈھالنا، بدزبانی اور گالم گلوچ سے دور رہنااور اس بات پر یقین کرنا ہے کہ گالی پاکستان کے کسی بھی صوبے کا کلچر نہیں ہے۔ پاکستان کی ثقافت تو محبت، رواداری، امن اور بھائی چارہ ہے۔ گالی بہادری نہیں انسانی احترام سے انکار ہے اور اس سے انسانی مزاج میں تشدد پیدا ہوتا ہے، جس کے ہم متحمل نہیں ہوسکتے۔ ٹھیک ہے، اسمبلی ممبران ہمارے بڑے ہیں مگر افسوس یہ ہے کہ یہ ہمیں جب ملتے ہیں ان کی سدھرنے کی عمرگزرچکی ہوتی ہے، مگرجب ہم تو باشعور ہیں صحیح اور غلط کو پہچان سکتے ہیں۔ 

اپنے آپ کو سدھار سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ ہمارا اخلاق ہمارا حسن اور ہماری زبان ہمارا ظرف ہے۔ شعور کی ایک سطح وہ ہے جہاں انسان بدکلامی کا جواب بدکلامی سے دیتا ہے۔ شعور کی دوسری سطح وہ ہے جہاں انسان بدکلامی کے جواب میں خاموشی اختیار کرتاہےاور بدکلامی کرنے والے کو اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔ شعورکی تیسری سطح بھی ہے، اسمیں انسان نہ صرف یہ کہ اپنے جذبات پر قابو رکھتا ہے بلکہ برے اخلاق کاجواب بہترین اخلاق سے دیتا ہے۔ شعور کی یہ ہی تیسری قسم بدترین دشمن کوبھی بہترین دوست میں تبدیل کردیتی ہے اور یوں معاشرے کا اچھا اخلاق پروان چڑھتا ہے۔ 

ہمیں تو ہمارا دین بھی صبر، متانت اور تحمل سکھاتا ہے جو تہذیب یافتہ معاشرے کی پہچان ہے۔ نظریاتی اختلاف کو ذاتی دشمنی بنانا اور دلیل کی بجائے تذلیل کا طریقہ اپنانا بھلا کیسی دانشمندی ہوسکتی ہے۔ یہ اسمبلی اور ٹیلی ویژن پر چیختے چلاتے لوگ آج ہیں لیکن کل توہمارا ہے۔ کیاہم متشدد، مشتعل ہجوم بننا پسند کریں گے… ہمیں تو اس ملک کی باگ دوڑ سنبھالنی ہے…اسے بہت آگے لے کر جانا ہے۔

اقبال نے کہا تھا

سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

سب سے پہلے اپنے آپ سے اپنے لوگوں سے، اپنے ملک سے محبت کریں۔ اللہ پاک نے ہمیں بہت زیادہ نوازا ہے پاکستان کی صورت میں۔ یہ گندہ پانی، ٹوٹی سڑکیں، کچرے کے ڈھیر، بجلی کی لوڈشیڈنگ جیسے مسائل حل کیلئے آپ کے منتظر ہیں… ہاں یہ درست ہے کہ اس وقت آپ بے اختیار ہیں مگر آپ اس ملک کا مستقبل ہیں اس ملک کے معمار ہیں۔ 

میکائولے نے کہا تھا ’’اگر تم کسی قوم کو جنگ کے بغیر فتح کرنا چاہتے ہو تو اسے احساس کمتری میں مبتلاکردو‘‘ ہم محکوم نہیں ہیں ،ہم ایک خوبصورت تہذیب یافتہ باوقار معاشرے کی تعمیر کریں گے۔ اتحاد، یقین اور تنظیم پرعمل کرتےہوئے ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ فلاحی معاشرہ اعلان سے نہیں عمل سے تشکیل پاتا ہے اور یہ تبدیلی برسوں کا تسلسل ہوتی ہے۔

’’کسب کمال کن کہ عزیز جہاں شوی‘‘

(شیخ سعدی)

اب میں ایک اور بہت بڑے مسئلے کی طرف جو ہر عمرکے بچوںاور جوانوںکو درپیش ہے وہ ہے زیادتی، تشدد اور بدسلوکی۔ میڈیا ہمیں روزانہ ہی دکھلا اور بتلارہا ہے کہ کم عمر بچے اور بچیوں سے لے کر نوجوانوں تک کو جنسی اور جسمانی تشدد کا سامنا بھی ہے اور خطرہ بھی… چاہے وہ گھر ہو، محلہ ہو، مدرسہ ہو، اسکول ہو یا ٹیوشن سینٹر، بازار ہو یا پھر کوئی تفریحی مقام، جوان خطرے میں ہے۔ سوچئے کہ کیا کرسکتے ہیں اور کیاکیا جاسکتا ہے۔ کیا ہم ایسی خبریں پڑھ کر، سن کر خوف اور تکلیف کا شکار ہو کر خود کوغیر محفوظ محسوس کرتے رہیں گے یا ہم کچھ کرسکتے ہیں۔ 

سب سے پہلے تواپنے اندر یہ یقین پیدا کرلیں کہ ہم کرسکتے ہیں۔ ہم کمزور یا کمتر نہیں ہیں… اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ یہ معاشرہ خراب ہے یا یہ ملک رہنے کی جگہ نہیں تو اسے یہ کہنے سے روک دیں… جرم اور مجرم سے نفرت کے ساتھ ساتھ اس سے بچائو کا بھی سوچیں، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں انصاف کانظام بہت صبر آزما ہے اور سالوں انتظارکرنا پڑتا ہے اس وقت تک مظلوم ذہنی، جسمانی اور روحانی طور پر مفلوج ہوجاتا ہے۔ 

اس لئے ہمیں چاہئے کہ اپنے آپ پر اعتماد کرتے ہوئے سب سے پہلے کامیابی کا یقین رکھتے ہوئے دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ مل کرمتحد ہوجائیں۔ اپنے اندر تنظیم پیدا کریں۔ طلبہ یونین توقصہ پارینہ ہوچکیں۔ دوستو! ساتھیو کوئی ایسا پلیٹ فارم تشکیل دو جس میں ہر بچہ ہر دوست، ہر ساتھی حصہ لے، چاہے وہ اسکول کا طالب علم ہو یامدرسہ کا بچہ، چاہے وہ پڑوسی ہو یا رشتہ دار، چاہے وہ چائے خانے کا چھوکرا ہو یا ورکشاپ کا چھوٹا، چاہے وہ گھروں میں کام کرنے والا ملازم ہو یا سڑک پر رہنے والا اسٹریٹ چائلڈ، چاہے وہ کھیتوں میں کام کرنے والا بچہ ہو یا بھٹے پرکام کرنےوالا ننھا مزدور، سب کی خبر گیری سب سےرابطہ ضروری ہوگیا ہے۔ 

کسی کوکوئی ضرورت کوئی مسئلہ تو نہیں کسی کے ساتھ کوئی زیادتی تو نہیں ہو رہی، کوئی ہراسمنٹ کا شکار تو نہیں، کسی پر تشدد تو نہیں ہورہا…ممکن ہے بالکل ممکن ہے… یہ بھی دھیان رکھیں کہ بچوںا ور دوستوں کو تعلیم کے حصول میں مشکلات تونہیں… کہیں زیادہ نمبروں کا لالچ تو نہیں دیا جارہا، کہیں امتحان میں پاس کرنے کاآسرا تونہیں دیا جارہا… محتاط ہوجائیں کسی استاد کسی معلم کے پاس، یا کسی ٹیوشن سینٹر یا کسی آفس میں اکیلے نہ جائیں ہمیشہ دو دو یاچار چاربچوں کے گروپ کی شکل میں لوگوں سے رابطہ کریں۔ چپڑاسی، سوئپر اور ڈرائیور وغیرہ سے بھی محتاط رہیں۔

٭…کسی کے ساتھ کوئی مسئلہ ہو تو چھپائیں نہیں بلکہ بتائیں۔

٭…کسی دھمکی سے ڈریں نہیں بلکہ والدین یا سرپرست کو بتائیں/اطلاع دیں۔

٭…اپنے تعلیمی ادارے میں جنسی اور جسمانی تشدد سے بچنے کیلئے آگہی کے لیے پروگرام ترتیب دیں۔ اس کے لئے سوشل میڈیا سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ سندھ اور پنجاب میں چائلڈ پروٹیکشن والوں سے 1121 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

جڑ جائیں، مل جائیں، زیادتی کےخلاف ایک اور ایک گیارہ بن جائیں۔

کچھ لوگ تمہیں سمجھائیں گے

وہ تم کو خوف دلائیں گے

جو ہے وہ بھی کھوسکتا ہے

پر تم جس لمحے میں زندہ ہو

یہ لمحہ تم سے زندہ ہے

یہ وقت نہیں پھر آئے گا

تم اپنی کرنی کر گزرو

جو ہوگا دیکھا جائے گا

نوجوان ساتھیو! اپنی تعلیم کے حصول میں سنجیدگی اور محنت شامل کرلیں۔ دیکھیں اللہ پاک کی رضا اور رحمت کیسے ہمیں اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔

اس سے پہلے کہ خواب مر جائیں

اپنے خوابوں کی زندگی مانگو