• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

معاشرے کی تعمیر اور اقدار کی ترویج کےلئے نوجوان نسل کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے۔ لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان سمیت تیسری دنیا میں مسائل کے حل اور مستقبل کے تحفظ کےلئے ٹھوس منصوبہ بندی نہیں کی جاتی۔ اسی لیے ان ممالک میں نوجوان نسل کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے حکومتی سطح پر خاطر خواہ انتظام بھی نہیں کیا جاتا۔ آج نوجوان نسل کا حال یہ ہے کہ انٹر نیٹ نے انہیں اپنے آپ اور ارد گرد سے غافل کردیا ہے۔ اہل مغرب اسی انٹر نیٹ کو استعمال کر کے افق کی بلندیوں تک جا پہنچے ہیں ،جبکہ ہم نے اس کو محض فیس بک اور یوٹیوب تک محدود کر دیا ہے ۔

یہ ایک افسوس ناک امر ہے کہ انفار میشن ٹیکنالوجی کے منفی اثرات مثبت پر غالب آگئے ہیں۔جی تھری اورفور تھری پیکج نے نوجوانوں کو کمپیوٹر سے بے نیاز کر دیا ہے ۔جہاں تک ہمارے تعلیمی اداروں کی صورتحال ہے اس حوالے سے بھی ملک بھر میں سرکاری و غیر سرکاری اور سرکاری ا سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں کا ایک وسیع نیٹ ورک ہےجس پر حکومت کی کوئی گرفت نہیں ہے ۔ آخرہم اپنی نوجوان نسل کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں۔ اب یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ ان اداروں سے مستقبل کے دانشور اور ادیب پیدا ہوں گے۔

تعلیمی ادارے واحد موثر ذریعہ ہیں جن سے نوجوان نسل کی مثبت تعمیر ممکن ہے، تاہم ہمارے تعلیمی ادارے ایسا کرنے میں یکسر ناکام ثابت ہوئے ہیں ۔ دنیا بھر میں قوم اور نوجوان نسل کواقدار ،قومی ثقافت اور اخلاقیات سے روشناس کروایا جاتا ہے اس کے برعکس ہمارے ہاں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ معاشروں کی تعمیر وترقی شاہراؤں اور عمارتوں کی جدت سے نہیں ہوا کرتی بلکہ اس کےلئے نسل نو کے مزاج کو اصولوں اور اخلاقیات کے مطابق ڈھالنا پڑتا ہے ۔ سڑکیں اور عمارتیں تو بن جائیں گی، مگر ایسی سڑکوں کو بدصورتی سے کون محفوظ رکھے گا ،جس پر سفر کرنے والے اس پر ہر قسم کی گندگی پھیلاتے رہیں۔

ان سڑکوں پر ٹریفک کے اصولوں کے منافی ڈرائیونگ کریں اور ٹریفک احکامات کو نظر انداز کر دیں۔جگہ جگہ سے شاہراؤں کو کاٹ کر یوٹرن بنا لیے جائیں ، چوک وچوراہے مچھلی منڈی کا منظر پیش کریں تو کیا سڑک کی تعمیر سے خوبصورت معاشرہ وجود میں آسکتا ہے ؟۔اسی طرح آپ فلک بوس عمارتیں بنا ڈالیں، مگر یہاں رشوت ، دھاندلی اور بدعنوانی کا بازار گرم ہو تو کیا ایسی عمارتیں کسی مہذب معاشرے کا عکس ثابت ہو سکتی ہیں؟ معاشرے کی خوبصورتی اخلاقیات سے مزین افراد سے تشکیل پاتی ہے۔ 

عادت واطوار کےلئے اس نسل کی تعمیر کرنا پڑتی ہے جو ابھی اسکول کے پرائمری لیول سے شروع ہوتی ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست اپنے وسائل کا خاطر خواہ حصہ نئی نسل کےلئے مختص کرے اور ان میں مثبت اقدار پیدا کرنےکےلئے منصوبہ بندی کرے ۔ اگر آج اپنی نوجوان نسل کو بچا لیا اور انہیں اچھا پاکستانی اور اچھا مسلمان بنا لیا تو مستقبل میں رشوت خوری، بدعنوانی، قتل وغارت گری ، دہشت گردی، کام چوری ،جعلسازی ، ذخیرہ اندوزی اور بدعنوانی جیسے مسائل بالکل ختم نہیں تو نصف ضرور ہو جائیں گے ۔ جو وسائل ہم قومی ادارہ احتساب اور اینٹی کرپشن جیسے محکموں پر خرچ کر رہے ہیں اگر یہ وسائل بچوں کو اچھا انسان، پاکستانی اور مسلمان بنانے کےلئے بروئے کار لائے جائیں تو ممکن ہے آنے والی نسل قومی خزانے کا دفاع کرنے والی سپاہ بن جائے، بجائے اس کے کہ وہ اس خزانے کو شیر مادر سمجھ کر ہڑپ کرنے لگیں ۔

یہ لمحہ فکریہ ہے کہ نوجوان نسل کو کس بے دردی سے ضائع کیا جارہا ہے۔ اگران کی تعمیر کے معاملے میں غفلت جاری رہی تو پھر پاکستانی معاشرہ تہذیب اور اخلاقیات سے محروم ہی رہے گا ۔ (ذبیح اللہ )