• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عائشہ یاسین

زندگی دوبارہ معمول کی طرف آرہی ہے۔ تعلیمی رونقیں رفتہ رفتہ بحال ہورہی ہیں تعلیمی ادارے کھلنے پر بیشتر طلباء خوش ہیں لیکن کچھ خوش بھی نہیں۔ بہرحال اب پہلا امتحان تو والدین کو درپیش ہے کہ وہ درس گاہوں سے دور، کلاس روم، کتابوں اور ٹیچر سے دور، تفریح اور آرام پسندی کے مزاج میں ڈھل جانے والے بچوں کی باگیں دوبارہ تعلیم کی طرف کیسےموڑیں۔ 

کیوں کہ اب وہ ویسے نہیں رہے جیسے 2020 کا سورج طلوع ہونے سے پہلے تھے۔وائرس کے خطرہ کے پیش نظر تعلیمی اداروں کا بار بار بند ہونا طلباء کی غیر یقینی میں اضافے کا سبب بنا، نتیجہ یہ نکلا کہ اساتذہ، والدین اور طلبہ کے ساتھ ساتھ پورا تعلیمی نظام وقت گزارو کی پالیسی پر عمل پیرا نظر آ یا۔ 

تعلیم کا رجحان جو ویسے ہی متاثر کن نہ تھا ،اب مزید بے اثر ہوگیا ہے۔خصوصاََ نوجوانوں کے مزاج میں لا پرواہی اور آگے بڑھنے کی جستجو کا جوش اور وہ تمام نقل و حرکت جو ایک جوان خون میں ہونی چاہیں وہ اُن میں نظر نہیں آرہیں، کتابیں جو بند ہوئیں تو کھولنے کی زحمت ہی نہیں کی ۔یہ حقیقت ہے کہ تعلیمی ادارے صرف نوجوانوں کو کتاب پڑھنا ،لکھنا ہی نہیں سکھاتے بلکہ زندگی گزارنے کے تمام عوامل، زندگی کے امور کو سمجھانا اور سلجھانا بھی سکھاتے ہیں۔

روزمرہ زندگی کے ادب و آداب اور اخلاقی تربیت کرتے ہیں۔ تدریسی اداروں میں ٹائم مینجمنٹ اور سوشل افئیرز کی ٹریننگ ہوتی ہے۔ شیڈول کے مطابق سستی و کاہلی کو چھوڑ کے اپنے روشن مستقبل کے خواب کو پورا کرنے کے لیے جدوجہد کرنا اور شخصی تربیت، یہ سب تدریسی اداروں کے مرہون منت ہے۔ لیکن تعلیمی اداروں کی طویل بندش نے نوجوانوں کو شعوری طور پر تھکا دیا ہے،وہ نہ صرف آرام طلب بلکہ تعلیم میں غیر سنجیدہ ہوگئے ہیں۔ آن لائن تعلیم کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ بھی کامیاب نہ ہوسکا۔ 

بچے آدھے سوئے اور آدھے جاگتے کلاس کا انتظار کرتے رہتے اور بہتر انٹر نیٹ کی سہولت نہ ہونے اور بار باربجلی کے تعطل سے ان کا رابطہ اساتذہ کے ساتھ درست طریقے سےنہیں ہوپاتا۔ اب تو طلباء یہ سمجھتے ہیں زندگی تفریح کا نام ہے،جب ہی تو تعلیمی اداروں کے کھلنے کا اعلان پر اُن میں جوش و خروش نظر نہیں آیا بلکہ بورڈ کے امتحانات کے اعلان پر طالب علموں نے جس طرح کی ہنگامہ آرائی کی وہ لمحہ فکریہ ہے۔

سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف طالب علموں کا رویہ بدلا یا اساتذہ کو بھی ان کے ساتھ گفتگو کرنے یا پڑھانے میں مشکل در پیش ہوئی؟ یقیناََ ہوئی ہو گی۔ اب یہ مشکل دور نہ صرف طلباء کے لئے بڑا امتحان ہے بلکہ اساتذہ کو بھی ان پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ نوجوانوںکو اپنے مستقبل پر توجہ مر کوزکرنا ہو گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کوویڈ نتیجے میں نوجوانوں کا بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ تعلیم میں وہ ایک نہیں بلکہ کئی سال پیچھےچلے گئے ہیں۔ 

تعلیم کا تسلسل ٹوٹنے سے ان کی خود اعتمادی اور مستقبل سے وابستہ پلاننگ کو دھچکا پہنچا ہے۔ اب اعلٰی حکام پر لازم ہے کہ وہ نوجوانوں کے لیے کوئی لائحہ عمل تیار کریں۔ کوئی ایسا نظام ترتیب دیں، جس سے ان کی تعلیم کا خسارہ پورا ہواور ان کو درپیش مسائل حل ہوسکیں ،تاکہ وہ پورے اعتماد کے ساتھ تعلیمی میدان میں آگے بڑھ سکیں۔ نفسیاتی مسائل دوچار نہ ہوں۔