• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

…… آدرش……

تاریخی حوالے سے ملیر قدرتی حسن کی علامت تھا۔ ملیر کے سر سبز چراہ گاہیں بہتی ندیاں چشمے آبشار دل کو چھو لینے والی ہوائیں خوبصورت پہاڑ قسم قسم کی چرند پرند مختلف خونخوار اور بے ضرر جانور یہی ملیر تھا یہی اس کی پہچان تھی ۔

ملیر کی وادیوں میں آثار قدیمہ کے بہت سی باقیات اب بھی موجود ہیں کبھی یہاں کے پہاڑ بھی لوگوں سے آباد ہوا کرتے تھے ۔ پہاڑوں میں وہی باقیات آج بھی پائے جاتے ہیں، اس سے یہ سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے کہ ملیر کی زمیں انسانی تاریخ کے اولین دور میں بھی لوگوں کا مسکن تھا۔

17 ویں صدی میں جوکیہ اور کلمتی قبائل کے جھگڑوں میں جو لوگ مارے جاتے تھے ان کی قبریں قیمتی پتھروں سے بنائی جاتیںتھیں وہ قبریں آج بھی ملیر کے عظمت کا نشاں بن کر اسی سرزمین پر موجود ہیں بلوچ روایتوں کے امیں " للو " کا مسکن بھی یہی ملیر ہے اور اس جگہ کو آج بھی " للو پڑ " کہا جاتا ہے۔

جب چاکر گہرام کے خون ریز جنگ کے بعد بلوچ سیوی اور گنداوہ کو چھوڑ کر سندھ ملتان اور گجرات کی طرف ہجرت پر مجبور ہوئے تو وہ بھی ملیر کے راستے سے اپنی اپنی منزلوں کو گئے اس راستے میں اگر کسی کا انتقال ہو جاتا تو ان کی قبریں خوبصورت پتھروں سے نقش نگار کر کے بنائی جاتی تھی ۔صدیوں کے سفر کے بعد آج وہ قیمتی پتھر تو لوگ لے گئے مگر ان قبروں کی باقیات آج بھی ملیرمیں موجود ہیں ۔ 

ان میں مشہور گوہر نامی خاتوں کی قبر ہے۔ وہ ایک مالدار عورت تھی، جس کے وجہ سے رند و لاشار آپس میں دست و گریبان ہوئے لاکھوں کی جانیں گئی ۔گوہر کی نسبت سے آج بھی ملیر کےوہ پہاڑ جہاں گوہر کی قبر واقع ہے گوہر بان کی نام سے مشہور ہے , انگریزوں کے زمانے میں ملیر کا پانی سارا کراچی پیا کرتا تھا انگریزوں کے بنائے ہوئے کنویں آج بھی ملیر میں کھنڈرات کے شکل میں موجود ہیں۔ برٹش سرکار نے جب چاکر بن نوتک کو بغاوت کے جرم میں پھانسی کی سزا سنائی تو چاکر کی آخری خواہش پھانسی تھی کےوہ ملیر کو دیکھ کر دم دینا چاہتا تھا ۔

ملیر کی خوب صورتی کے بہت سے لوگ گواہ ہوں گے میں نے خود اپنے بچپن میں ملیر کی خوبصورتی کو دیکھا ہے جب آبشار، بہتے چشمے، سرسبز پہاڑ خوبصورت باغات بہتی ندیوں کا شور ہوتا تھا۔ چودھویں کے چاند کی روشنی وہ اندھیری راتوں میں، ستاروں کی چمک، درختوں کے مہربان سائے، خوبصورت پرندے، اونٹوں کی قطاریں سب میر ی یاد داشت میں آج بھی نقش ہیں۔ کھیتوں میں کام کرتے مزدور بھی دیکھے ، جو نہ جانے کہاں سے محنت مزدوری کے لیے ملیر آتے تھے اور آنکھوں نے وہ منظر بھی دیکھے جب ملیر میں ہریالی سر سبز زمیں اور مون سون کی بارشیں ہوتی تھیں تو زمیں سے ایک خوشبو اٹھتی تھی جو آج بھی میرے سانسوں میں محسوس ہوتی ہے ۔

سب کچھ یاد ہے، مگر افسوس کہ ملیر آج وہ ملیر نہیں نہ وہ آبشار ہے ،نہ چشمے، نہ وہ بارشیں، نہ سرسبز نظارے، نہ وہ چرند پرند ،نہ وہ لوگ، نہ وہ خوبصورت راتیں، انہیں یاد کرنے لگتا ہوں تو یادوں کی ایک لڑی سی بند جاتی ہے ۔

آج ملیر کی زمینوں کو نوچا جا رہا ہے پہاڑوں کو روندا جا رہا ہے آثار قدیمہ کے نشانات کو مسمار کیا جا رہا ہے ندی نالوں کو برباد کیا جا رہا ہے۔ مالداروں کے لیے اسے لوٹا مسلا جا رہا ہے اور ملیر کے فرزند کچھ، زر کے لالچ میں تو کچھ خوف کی وجہ سے چپ چاپ ملیر کو مرتا دیکھ رہے ہیں۔