• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یورپی یونین نے قانون پر عمل داری کی اپنی سالانہ رپورٹ میں پولینڈ اور ہنگری پر شدید تنقید کی ہے۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری کردہ یہ رپورٹ اپنی نوعیت کی دوسری سالانہ رپورٹ ہے جس میں یورپ کے ممبر ممالک میں عدلیہ کی حالت، میڈیا کی آزادی اور ممبر ممالک میں بدعنوانی کی صورتحال کے علاوہ قانون کی حکمرانی پر عالمی وبائی مرض کوویڈ-19 کے اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔

یورپی کمشنرز کی جانب سے پاس شدہ  قانون کی حکمرانی پر یورپی رپورٹ- 2021  میں اس حوالے سے کچھ ممبر ممالک میں مثبت پیش رفت کا اعتراف کرتے ہوئے دو ممبر ملکوں، ہنگری اور پولینڈ پر شدید تنقید کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال 2020 میں بھی یہی دو ملک تھے جہاں عدلیہ اور میڈیا کی آزادی پر سوالات اٹھائے گئے تھے اور یہی وہ دو ملک ہیں جن کو قانون کی حکمرانی کے معاملے پر یورپین قانون کے آرٹیکل 7 کے تحت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اپنی اس رپورٹ میں کمیشن نے پولینڈ کے حوالے سے کہا کہ عدلیہ پر پولینڈ کی حکمران پارٹی پی ای ایس کا اثر ورسوخ ابھی بھی تشویشناک ہے۔

اسی طرح نئی پیش رفت سمیت پولش نظام انصاف میں اصلاحات بھی تشویش کا اسی طرح سبب ہیں جن کا 2020 کی رپورٹ میں ذکر کیا گیا تھا۔

کمیشن نے اس کیلئے ججوں کی تقرری کرنے والے ملک کے آئینی ٹربیونل کا حوالہ دیا جہاں تقرری میں (مبینہ )کرپشن کا ذمہ دار پراسیکیوٹر جنرل ہی ملک کا وزیر انصاف بھی تھا۔

کمیشن نے اسی طرح رپورٹ میں ہنگری میں عدالتی آزادی اور انسداد بدعنوانی کی حکمت عملی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ وہاں میڈیا کی تکثیریت و اجتماعیت خطرے میں ہے  کیونکہ ریاستی اشتہارات کا بڑا حصہ حکومت کی حمایت کرنے والے میڈیا کو جاتا ہے  جبکہ آزاد میڈیا کے اداروں اور صحافیوں کو رکاوٹیں اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

برسلز میں اس رپورٹ کے اجراء کے موقع پر یورپین کمشنر برائے اقدار و شفافیت وورا جورووا نے کہا کہ یہ رپورٹ ایک مفید روک تھام کا ذریعہ ہے جس نے ممبر ممالک اور اداروں کے درمیان مطلوبہ مباحثے کو تحریک دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ سے جہاں یہ پتہ چلتا ہے کہ ممبر ممالک قانون کی بہتری کیلئے پیش رفت کر سکتے ہیں وہیں متعدد ممبر ممالک میں شدید تشویش کی وجوہات بھی ہیں

خاص طور پر جب عدلیہ کی آزادی کی بات آتی ہے ،مزید یہ کہ پچھلے مہینوں میں دو صحافیوں کو قتل بھی کیا گیا ہے، یہ ناقابل قبول ہے۔

یورپین کمشنر برائے انصاف دیدیئے رینڈرز نے رپورٹ پر اظہار خیالات کرتے ہوئے اسے متعدد یورپین ممبر ممالک میں قانون کی حکمرانی سے متعلق مثبت اصلاحات کی وجہ قرار دیا۔

انہوں نے بتایا کہ متعدد ممالک کی وزراء کی کونسل نے اس رپورٹ کو اپنے ہاں قومی مکالمے کے ذریعے حکمرانی کو جدید بنانے کیلئے استعمال کیا۔

یورپین کمشنر برائے انصاف نے مزید آگاہ کیا کہ گذشتہ سال کی رپورٹ کے بعد انہوں نے ممبر ممالک کی 20 قومی پارلیمانوں میں میں اس رپورٹ کے حوالے سے بحث کی ہے۔

واضح رہے کہ اس رپورٹ کا اجراء اس موقع پر سامنے آیا ہے جب ممبر ممالک کو یورپین کمیشن سے کوویڈ-19 کے بعد اپنی معاشی بحالی کیلئے پیش کردہ منصوبوں کی منظوری کا انتظار ہے۔

اس رپورٹ کے تناظر میں یورپین سیاسی و سفارتی حلقوں میں یہ خیال دوبارہ زیر بحث ہے کہ کچھ ممبر ریاستوں کو یورپین یونین سے حاصل رقم تو اچھی لگتی ہے لیکن یورپین قوانین نہیں۔

قانون پر عمل داری کی اس سالانہ رپورٹ میں یورپین کمیشن نے سلوانیہ اور بلغاریہ پر بھی مختلف حوالوں سے تنقید کی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید