• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فاطمہ خان

آج کے نوجوان فکرمند ہیں کہ ایسا کیا کریں کہ آنے والا وقت ان کی زندگی کے لیے بہترین ثابت ہو۔ موجودہ دور میں جب ہر شخص آگے بڑھنا چاہتا ہے، اپنی زندگی کو پرآسائش بنانا چاہتا ہے تو ہم کیسے پیچھے رہ سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں جبکہ راہیں تنگ اور وسائل محدود ہوں تو ایسا کیا کریں کہ آنے والے وقت کو اپنی گرفت میں لے کر تابناک اور روشن بناسکیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ٹیلنٹ ہونا ہی کافی نہیں ہے، اس کو وقت کے ساتھ ساتھ نکھارنا اور مستقل مزاجی کے ساتھ کام کرتے رہنا ہی ترقی کا سبب بنتا ہے ۔ نوجوان اگر واقعی اپنے مستقبل کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں، تو انہیں اپنی مدد آپ کے تحت اپنا راستہ خود تلاش کرنا ہوگا اگر اپنی زندگی بدلنا چاہتے ہیں اپنا ذہن بدلنا ہو گا، سوچ بدلنی ہوگی ۔ 

منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔ اپنے اندر چھپی صلاحیتوں کو تلاش کر نا ہوگا اپنی پہچان خود بنا نی ہوگی اور حالات سے لڑنے کی بھی طاقت ہونی چاہیے اور یہ تب ہی حاصل ہوگی جب مثبت طرز فکر رکھیں گے۔ اپنے کام سے دیانت داری خوشحال مستقبل کی ضمانت ہے۔ نوجوانوں کی پریشانیوں کو ختم کرنے کے لیے بڑوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا کہ یہی وقت کا تقاضا ہے۔ اُن کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کر کے سائنس، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیلی کمیونیکیشن جیسے شعبوں میں ایک انقلاب لایا جاسکتا ہے۔ 

بہترین منصوبہ بندی کے ساتھ افرادی قوت کے درست اور بروقت استعمال کے ساتھ پاکستان تیز ترین معاشی و سماجی ترقی کی مزید نئی جہتوں پر گام زن ہوسکتا ہے۔ مسئلہ یہ بھی ہے اگر ہمارے ملک میں نوجوان نسل میں تخلیقی صلاحیتیں ہیں تو ان کی کسی بھی مناسب پلیٹ فارم سے حوصلہ افزائی نہیں ہوتی۔ بغیر کسی راہ نمائی اور حوصلہ افزائی کے، مختلف شعبہ جات میں اپنی مدد آپ کے تحت کام کرنے والے نوجوانوں یا تخلیق کاروں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔پاکستانی نوجوان تخلیقی صلاحیتوں کے مالک ہیں لیکن انفرادی طور پر کام ممکن نہیں۔

طلباء کو ایسی سرگرمیوں میں لگایا جائے تاکہ وہ اپنی تعلیم سے متعلق عملی مہارت بھی حاصل کرسکیں۔ انفرادی تخلیقی صلاحیتوں کے بہترین اور بروقت استعمال کے ذریعے ملک معاشی طور پر مستحکم ہو سکتا ہے، ساتھ نوجوانوں کا مستقبل بھی۔

دنیا کے اکثر ممالک نے ترقی ان ہی شعبوں کی وجہ سے کی ہے جن میں وہ خود کفیل تھے۔ ہمارے ہاں کپاس کی کاشت بڑے پیمانے پر کی جاتی ہے، مگر افسوس کہ اسے خام مال کی صورت برآمد کیا جاتا ہے۔ بے روزگار نوجوانوں کے لیےچھوٹے پیمانے پر ہی سہی صنعتیں قائم کر کے اس خام مال سے اوون حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ دھاگے بنا ئے جاسکتے ہیں، کپڑا بنانے کی صنعت لگائی جاسکتی ہے۔ اس طرح ایک خام مال باہرنہ بھیجنے سے ہمارے نوجوان مختلف کاروبار کر سکتے اور اپنا مستقبل روشن کرسکتے ہیں۔

تجارت، معشت،ثقافت، معاشرت، مذہب ہر معاملے میں حالاتِ حاضرہ سے با خبر رہنا بھی نوجوانوں کے لیے ازحد ضروری ہے۔ یہی وقت کا تقاضا ہے اور یہی محفوظ اور خوشحال مستقبل کی ضمانت ۔دوسروں کی مدد کا جذبہ بھی نئی نسل میں ہونا چاہیے۔ نوجوان مخلص ہوکر اپنے ملک و قوم کے لیے محنت اور جدوجہد کرنے لگیں تو مثبت تبدیلی، ترقی اور بہتری کو کوئی نہیں روک سکتا، اگر نسل نو قومی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیتے ہوئے تعمیر ملت کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائے ہر برائی کو اچھائی میں تبدیل کرنے کی ٹھانلے تو تعمیر قوم کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ دریا میں تنکے کی طرح بہہ جائے۔نوجوان کوہ پیما کی مانند ہوتے ہیں اس لیے ابتدائی کامیابیوں پر قانع نہیں ہونا چاہیےبلکہ نظریںچوٹی پر ٹکی ہونی چاہیے۔