• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افسران کے متعدد دعوؤں کے باوجود پولیس کے اندر موجود جرائم پیشہ افسران اور اہل کاروں کی سرگرمیاں رُکنے میں نہیں آرہیں۔ قانون کے رکھوالے جرائم پیشہ عناصر کو پکڑنے اور جرائم کے خلاف کارروائی کرنے کے بہ جائے خود ان سرگرمیوں میں ملوث ہیں،شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرنے کے بہ جائے پولیس افسران اور اہل کار سنگین جرائم کی وارداتوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ ایسے میں شہری کیسے یہ امید رکھیں کہ ان کی جان و مال اور عزت و آبرو محفوظ ہے ۔گزشتہ دنوں رینجرز اور پولیس نےجام شورو سی آئی اے پولیس کے 6 اہل کاروں کو گرفتار کیا۔ 

رینجرز اور پولیس نے اسنیپ چیکنگ کے دوران شیریں جناح کالونی میں کارروائی کرتے ہوئے جام شورو سی آئی اے پولیس کے 6 اہل کاروں کو گرفتار کر کے پولیس موبائل سے76 کلو گرام چرس برآمد کر لی، پولیس کے مطا بق برآمد ہونے والی چرس جام شورو سے کراچی منتقل کی گئی تھی،پولیس نے غلام عباس، یعقوب ،عبدالحمید حق نواز سمیت 6 اہل کاروں کو گرفتار کیا ۔ 

گرفتار اہل کاروں سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔ گرفتار اہل کاروں کے خلاف تھانہ بوٹ بیسن میں مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے تفتیش میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق اہل کاروں کے موبائل فون سے جام شورو میں پکڑی جانے والی منشیات کی ویڈیو بھی برآمد ہوئی ہے۔ اہلکاروں نے جام شورو کے ایک ٹرک سے منشیات کی بڑی کھیپ پکڑی تھی۔ منشیات ٹرک کے خفیہ خانے میں چھپائی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق اہل کاروں نے منشیات کی کچھ مقدار گرفتاری میں ظاہر کی اور باقی چُھپا لی تھی۔ پولیس اہل کار برآمد ہونے 76 کلو منشیات کراچی کے منشیات فروشوں کو فروخت کرنے آئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ منشیات کی منتقلی کے لیے بھی سرکاری پولیس موبائل کا استعمال کیا گیا۔شیر جناح کالونی میں رینجرز اور ساؤتھ پولیس نے اہل کاروں کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا۔

جام شورو پولیس کے اہل کار منشیات فروشوں کو 76 کلو منشیات 30 سے 40 لاکھ میں فروخت کر رہے تھے،ذرائع کے مطابق 76 کلو چرس کی اصل مالیت 80 سے 90 لاکھ ہے۔ گرفتار اہل کار منشیات فروشی پہلے بھی کرتے رہے ہیں، پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی جام شورو میں پکڑی جانے والی منشیات کراچی میں لاکر فروخت کی جاتی رہی ہے۔ اہل کاروں کو منشیات فروشی میں کچھ اہم شخصیات کی معاونت بھی حاصل ہے ۔

دوسری جانب ڈی آئی جی حیدرآباد رینج شرجیل کھرل نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی جام شورو کو ہدایت دیتے ہوئے سی آئی اے سینٹر جام شوروکو سیل کردیا اور سی آئی اے کے تمام اہل کارواں کو لائن حاضر کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ ڈی آئی جی حیدرآباد نے معاملہ کی تحقیقات کےلیے چار رکنی کمیٹی قائم کردی۔ تحقیقاتی کمیٹی نے جام شورو پہنچ کر معاملہ کی تحقیقات شروع کردی۔ کمیٹی ایس ایس پی بدین شبیر سیٹھار کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے۔کمیٹی ممبران میں اے ایس پی حیدرآباد علینہ راجپر،انسپکٹر سراج لاشاری اور عبدالقادر سومرو بھی شامل ہیں۔ ڈی آئی جی حیدرآباد نے کمیٹی کو ٹی آر او کے مطابق غیر جانبدرانہ تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ 

ڈی آئی جی پی حیدرآباد رینج نے یقین دلایا کہ انکوائری ایمان داری اور بغیر کسی دباو کے کی جارہی ہے اور انکوائری رپورٹ ملنے پر اس جُرم میں ملوث پائے گئے، جو بھی پولیس ملازمان ہوں گے، ان کے خلاف نہ صرف محکمانہ کارروائی ہوگی، بلکہ ضابطہ فوجداری کے تحت بھی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔حالات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس قبیح فعل کے لیے پولیس موبائل کو استعمال کیا گیا۔ 

شہر میں ایک جانب پولیس منشیات فروشوں کو پکڑنے کے دعوے کرتی ہے اور دوسری جانب پولیس کے اپنے ہی اہل کار منشیات جیسی لعنت کو منشیات فروشوں کو فروخت کر رہے ہیں۔شہر میں منشیات کے استعمال سے ہزاروں گھرانوں کے نوجوان اپنی زندگیاں برباد کر چکے ہیں ، پولیس کا دعویٰ ہے کہ شہر میں ہونے والی اسٹریٹ کرائم کی اکثر وارداتوں میں ملوث ملزمان منشیات کے عادی ہیں اور وہ منشیات خریدنے کے لیے یہ وارداتیں کرتے ہیں۔ دوسری جانب پولیس کے اپنے اہل کار ہی اس لعنت کو شہر میں لانے اور منشیات کی فروخت میں ملوث ہیں۔

ایسٹ انویسٹی گیشن پولیس نے اسپیشل انویسٹی گیشن (سی آئی اے )میں تعینات تین پولیس افسروں سمیت 6اہل کاروں کو گرفتار کر کے شہری کے گھر سے چوری کیا گیا 65 تولہ سونا برآمد کر لیا۔ ایس ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ زون ون الطاف حسین نے بتایا کہ 24جون کو گلستان جوہر تھانے کی حدود میں ایک بنگلے میں گھریلو ماسیوں نے 80 تولہ سونے کی چوری کیا تھا، جس میں طلائی زیورات وغیرہ شامل تھے۔ 

واردات کا مقدمہ گلستان جوہر تھانے میں درج کیا گیا تھا،تفتیش کے دوران گلستان جوہر انویسٹی گیشن پولیس نے دو ماسیوں کو حراست میں لےکر تفتیش شروع کی تو انہوں نے انکشاف کیا کہ چند روز قبل ایس آئی یو (سی آئی اے )سینٹر صدر کے اہل کاروں نے ان کے گھر چھاپہ مار ا تھا اور سونا برآمد کرلیا تھا اور مبینہ طور پر بھاری رشوت وصول کرنے کے بعد دونوں ماسیوں کورہا کردیاتھا۔ 

تاہم پولیس پارٹی نے برآمد ہونے والے سونے کے بارے میں اپنے افسران کو آگاہ نہیں کیا تھا اور سونا خاموشی سے اپنے پاس رکھ لیا تھا۔ ملازماؤں کے اس انکشاف کے بعد ایسٹ انویسٹی گیشن پولیس نے سی آئی اے صدر سے پولیس پارٹی کے انچارج سب انسپکٹر ممتاز مہر ،اے ایس آئی عمران،اے ایس آئی اسرار،کانسٹیبل شعیب ،کانسٹیبل آصف اور کانسٹیبل ذیشان کو گرفتار کرکےان کے قبضے 65تولہ سونا برآمد کرلیا،جو انہوں نے ماسیوں سے برآمد کیا تھا۔ ایس ایس پی الطاف حسین نے بتایا کہ برآمد ہونے والا سونا سب انسپکٹر ممتاز مہر نے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ میں موجود اپنے لاکر میں رکھا ہوا تھا ۔

نبی بخش تھانے کے شعبہ تفتیش نے گارڈن ہیڈکوارٹرز میں چھاپہ مار کر لاکھوں روپے مالیت کے کپڑے کا ٹرک لوٹنے والا پولیس اہل کار اور سابقہ پولیس اہل کار کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کےمطابق چھاپہ گارڈن ہیڈکوارٹرز کے قریب سے چھینی گئی اسمگل شدہ کپڑے کی گاڑی کی برآمدگی اور ملوث ملزمان کی گرفتاری کےلیے ماراگیا۔ واردات خاتون پولیس افسر کی رہائش گاہ کے سی سی ٹی وی کیمرے میں ریکارڈ ہوگئی تھی، جس پر کارروائی کی گئی، پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کانسٹیبل تنویر اینٹی وائلنٹ کرائم سیل میں تعینات ہے، جب کہ ملزم امتیاز سابق پولیس اہل کار ہے،دونوں ملزمان پولیس کو مقدمہ الزام نمبر 224/21زیر دفعہ 392/397/34میں مطلوب تھے۔ ملزمان نے کپڑے سے بھرا ٹرک لُوٹا تھا ، جس کی مالیت 40لاکھ روپے ہے،ملزمان کا ایک ساتھی فرار ہے۔ 

ملزمان کو تفتیشی پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ یہ جولائی کے چند واقعات ہیں، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سندھ پولیس کے اہل کار ملزمان کو روکنے کے بجائے خود مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں،اس سے قبل بھی شہر میں ہونے والے آرگنائزڈ کرائم میں پولیس اہل کار ملوث رہے ہیں اور شارٹ ٹرم کڈنیپنگ ،بھتہ خوری اور رشوت طلبی میں ملوث اہلکاروں کو سزائیں بھی دی گئی ہیں۔ 

تاہم اس کے باوجود اعلیٰ پولیس افسران پولیس فورس میں موجود ان کالی بھڑوں کا اب تک مکمل طور پر صفایا نہیں کر سکے۔پولیس کو امان و مان کی صورت حال پر نظر رکھنے کے ساتھ اپنے افسران اور اہل کاروں پر بھی نظر رکھنے اور ایسا مربوط نظام بنانے کی ضرورت ہے، جس سے پولیس کےا ندر موجود ان کالی بھیڑوں کا صفایا ہو۔