• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مسلم لیگ (ن) میں دو بیانیوں کے درمیان کی راہ نکالنا ہوگی

اسلام آباد (انصار عباسی) دو بیانیوں کے درمیان کی راہ نکالنا ہوگی۔ مریم کی مہم جو سے لے کر شہباز شریف کی تحمل و برداشت کی سیاست تک۔ نوازشریف اور مریم ہو سکتا ہے سیاست میں ہجوم اکٹھا کرنے کی صلاحیت کے حامل ہوں لیکن اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ محاذ آرائی ان کی عوامی مقبولیت کے قطع نظر انہیں اقتدار کی راہ داریوں سے دُور ہی رکھے گی۔ مریم ناتجربہ کار ہیں اور وہ مہم جوئی کی متحمل ہو سکتی ہیں۔ 

نوازشریف کو پاکستان کی تلخ سیاست سے معاملہ کرنے کی طویل تاریخ ہے۔ اس کے باوجود اگر وہ سمجھتے ہیں کہ وہ تاریخ کا رُخ بدل سکتے ہیں تو وہ کوشش کر کے دیکھ سکتے ہیں لیکن بظاہر یہ بڑا مشکل دکھائی دیتا ہے، آئندہ عام انتخابات تقریباً دو سال کی دُوری پر ہونے کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کو ان قوتوں کے لئے قابل قبول ہونے کے لئے ضروری ایڈجسٹمنٹ کرنے کی ضرورت ہے ورنہ نتیجہ 2018ء کے عام انتخابات جیسا ہی ہو سکتا ہے۔

حکمراں تحریک انصاف نے قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا، پنجاب میں اس کے لئے صورتحال مایوس کن ہے جو ملک میں حکمرانی کے لئے مرکزی میدان جنگ ہے۔ 

لیکن اس کے باوجود تحریک انصاف مسلم لیگ (ن) اور اسٹیبلشمنٹ میں محاذ آرائی کا فائدہ اُٹھا رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے اندر دو بیانیوں کی اُلجھن، جس میں ایک بیانیہ نوازشریف اور مریم اور دُوسرا شہباز شریف کا ہے، انہیں جلد یا بدیر اس تضاد کو حل کرنا ہوگا۔ 

اگر وہ چاہتے ہیں کہ 2023ء کے عام انتخابات میں اقتدار کے لئے ایک سنجیدہ قوت بن کر اُبھرنا ہے، انہیں اپنی بیٹی کی مہم جو سیاست کے بارے میں طے کرنا ہوگا۔ 

جو خود ان کی جماعت میں اکثر کی رائے میں نوازشریف کو بھی متاثر کیا اور انہیں محاذآرائی کی سیاست میں دھکیل دیا۔ جس کی پہلے کبھی نظیر نہیں ملتی، دُوسری طرف ان کے چھوٹے بھائی شہبازشریف کا ملکی سیاست میں تحمل و باہم برداشت پر مبنی کردار ہے۔ 

ایسا لگتا ہے مریم اپنے انٹی اسٹیبلشمنٹ تاثر سے خوش ہے۔ اکثر وہ مشتعل بھی دکھائی دیں۔ نوازشریف نے بھی اپنے خلاف رویوں پر غصّے کا اظہار کیا۔ اکثر کی رائے میں نوازشریف اور مریم کو ستایا گیا اور شہبازشریف کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہوا۔

لیکن ایک بڑی سیاسی جماعت کے رہنمائوں کو کھلے عام اسٹیبلشمنٹ سے محاذآرائی کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔ جب تنقید یا اسٹیبلشمنٹ سے محاذآرائی کو ایک ادارے سے محاذآرائی کا نام دیا جائے گا تو معاملہ خطرناک ہو جاتا ہے۔ 

اسی وجہ سے نوازشریف اور مریم آج نہ صرف چند بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے ہر دُوسرے رُکن کے لئے ناقابل قبول ہیں۔ ایسی صورتحال میں سیاست دانوں کے لئے یہ چیلنج ہے کہ وہ اپنے انٹی اسٹیبلشمنٹ تاثر کو دُور کریں۔ شہبازشریف نے ہمیشہ محفوظ کھیل کھیلا ہے۔ 

حالیہ برسوں میں نیب کے ہاتھوں پسِ زنداں جانے کے باوجود انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولا۔ وہ اب بھی مفاہمت اور عدم محاذآرائی کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ اسی عین وجہ سے وہ بھی اپنے بھائی اور بھتیجی کی طرح ناقابل قبول ہیں۔ چاہے دُرست ہو یا غلط نوازشریف اور مریم قانون کے تحت مجرم ہیں۔ 

نوازشریف کو پارلیمنٹ کی رُکنیت سے بھی نااہل قرار دے دیا گیا۔ مریم کا جرم بھی فی الحال ان کے رُکن پارلیمنٹ بننے کی راہ میں رُکاوٹ ہے۔ شہباز شریف رکن قومی اسمبلی اور اپوزیشن لیڈر ہیں۔ وہ معاملہ سازوں کے لئے بھی قابل قبول ہیں۔ حالانکہ انہوں نے ن سے ش لیگ نکالنے سے انکار کر دیا ہے۔ 

نوازشریف مریم کی مستقبل میں پارٹی لیڈر کی حیثیت سے پرورش اور تربیت کر رہے ہیں۔ 

مسلم لیگ (ن) کا چاہے وہ کوئی بھی بیانیہ ہو پارٹی قیادت کو یہ جاننا ہوگا کہ وہ پاکستانی سیاست میں غلطیوں کو اسی صورت دُرست کر اور اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت روک سکتے ہیں جب دوران اقتدار بہتر سے بہتر کارکردگی پیش کریں۔ اس حوالے سے کوئی شارٹ کٹ ہے اور نہ ہی حل۔

اہم خبریں سے مزید