• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خیبرپختونخوا، 14سال سے کم عمر بچوں کی جبری مشقت، گھریلو ملازمت پر پابندی

پشاور(نمائندہ جنگ)خیبر پختونخوا اسمبلی نے 14سال سے کم عمر بچوں کی جبری مشقت اور گھریلو ملازمت پر پابندی عائد کرتے ہوئے گھریلو سطح پر کام کرنے والے ملازمین کے حقوق ، فرائض اور مشکلات کے حل کیلئے”خیبرپختونخوا ہوم بیسڈ ورکرز(ویلفیئر اینڈ پروٹیکشن )بل2021ء“ کی منظوری دیدی ہے ،گھریلو سطح پر ملازمین کی بھرتی کے لیے باقاعدہ طور پر تقررنامہ جاری کیاجائےگا، تنخواہ ادائیگی کا طریقہ کار اور کام کی نوعیت کے بارے لکھا جائیگا ، گھریلو ملازم کے کام کا دورانیہ 8 گھنٹے،مالک اور ملازم کیلئے نوکری چھوڑنے یا بیدخل ہونے کی صورت میں ایک ماہ قبل تحریری آگاہ کرنا لازمی ہوگا۔ صوبائی وزیر شوکت یوسف زئی کی جانب سے منظوری کیلئے پیش کردہ بل کے مطابق کے کوئی شکایت موصول ہونے کی صورت میں محکمہ محنت متعلقہ محکموں اور اداروں کے تعاون سے گھریلو سطح پر کام کرنے والے محنت کشوں کے متعلقہ مقامات کا جائزہ لیتے ہوئے مشکلات کا خاتمہ کرے گاجبکہ اس سلسلے میں مالکان اورورکروں میں ان کے حقوق وفرائض کے بارے میں آگہی پیداکرنے کے علاوہ کم سے کم اجرت کے بارے میں انھیں آگاہ کرے گا،محنت کشوں کی صلاحیتوں میں اضافہ کے لیے تربیتی پروگراموں کا انعقادکے علاوہ کسی حادثہ کے دوران موت واقع ہونے یا جسمانی طور پر نقصان پہنچنے کی صورت میں ورکروں کو تمام تر فوائد پہنچنے کے عمل کو یقینی بنائے گا،مذکورہ قانون کے تحت 14 سال سے کم عمر بچوں سے گھریلو سطح پر بھی مشقت کرانے اورجبری مشقت لینے پر بھی پابندی ہوگی۔گھریلو سطح پر ملازمین کی بھرتی کے لیے باقاعدہ طور پر تقررنامہ جاری کیاجائےگا جس میں تنخواہ ،اس کی ادائیگی کا طریقہ کار اور کام کی نوعیت کے بارے میں واضح طور پرلکھا جائے گااور اس قانون کے نفاذ کے بعد ہر مالک گھریلو سطح پر کام کرنے والے اپنے محنت کشوں کو تقررنامے جاری کرے گا،گھریلو سطح پر بھی کام کرنے کا دورانیہ 8 گھنٹے ہی ہوگا تاہم اگر کوئی محنت کش اپنی مرضی سے اضافی کام کرنا چاہے تو اس کے لیے اسے اضافی اجرت دی جائے گی تاہم اس صورت میں بھی ہفتہ وار کام کرنے کا دورانیہ 60 گھنٹوں سے زائد نہیں ہونا چاہیے ،مالک کی جانب سے ملازم کو بیدخل کرنے یا ملازم کی جانب سے نوکری چھوڑنے کی صورت میں ایک ماہ قبل تحریری طور پر آگاہ کرنا لازمی ہوگا۔

ملک بھر سے سے مزید