• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ دنوں اسٹیٹ بینک نے آئندہ دو ماہ کیلئے مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا جس میں گورنر اسٹیٹ بینک باقر رضا نے شرح سود (پالیسی ریٹ) 7فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ موجودہ پالیسی ریٹ افراط زر یعنی مہنگائی سے کم ہے جو جون میں 9.7فیصد تھی۔ گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق مارچ 2021ء میں کرنٹ اکائونٹ خسارہ گزشتہ 10سال میں جی ڈی پی کا کم ترین 0.6فیصد رہ گیا ہے لیکن 2021-22ء میں امید کی جارہی ہے کہ یہ خسارہ جی ڈی پی کا 2سے 3فیصد رہے گا۔ ایف بی آر کی 4725ارب روپے کی ریکارڈ ریونیو وصولی، ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ جو بڑھ کر 23 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جس میں 17.5ارب ڈالر اسٹیٹ بینک اور 5.5ارب ڈالر نجی بینکوں کے ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کی اہم وجوہات میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے ’’روشن ڈیجیٹل اکائونٹ‘‘ میں 1.8ارب ڈالرکا زرمبادلہ جمع کرایا جانا، جون میں ایک ارب ڈالر کے یورو بانڈز کے کامیاب اجراء سے مجموعی 2.5ارب ڈالر موصول ہوئے جبکہ گزشتہ سال ایکسپورٹ 25.3 ارب ڈالر رہی اور حکومت نے 2022ء کا ایکسپورٹ ٹارگٹ38.7ارب ڈالر رکھا ہے ، آئی ایم ایف کے SDR کے نئے ایلوکیشن سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اگست کے آخر تک مزید 2.8 ارب ڈالر کا اضافہ متوقع ہے۔ کورونا کے باوجود گزشتہ مالی سال بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 29ارب ڈالر سے زائد ترسیلات زر پاکستان بھیجیں لیکن ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے باوجود قرضوں کی ادائیگی کے دبائو سے روپے کی قدر میں مسلسل کمی ہوئی اور گزشتہ 3مہینوں میں روپیہ، ڈالر کے مقابلے میں 152سے گرکر 164روپے تک پہنچ گیا جس سے افراط زر یعنی مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق مارچ 2021ء میں افراط زر کی شرح 9فیصد اور اپریل میں 11.1فیصد رہی جس کی اہم وجہ آٹا، چینی، دالوں، خوردنی تیل، گھی، پیٹرولیم مصنوعات اور انرجی کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔

حکومت نے 2021-22ء کیلئے جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 4سے 5فیصد رکھا ہے جو معاشی ماہرین کیلئے حیران کن ہے کیونکہ گزشتہ دو مالی برسوں میں جی ڈی پی کی شرح میں کمی ہوئی ہے جو 2020-21ء میں 3.9فیصد اور 2019-20ء میں منفی 0.4فیصد تھی جبکہ عالمی اداروں نے رواں مالی سال پاکستان کی جی ڈی پی کا کم تخمینہ لگایا ہے جس کے تناظر میں رواں مالی سال حکومتی 4.8فیصد جی ڈی پی گروتھ کا ہدف غیر حقیقی لگتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال اہم فصلوں کی گروتھ 4.65فیصد رہی اور ملک میں گندم، چاول، مکئی کی ریکارڈ پیداوار ہوئی جس میں گندم کی پیداواری گروتھ 8.1فیصد، چاول 13.6فیصد، گنے کی 22فیصد اور مکئی کی 7.38فیصد رہی جبکہ کپاس کی پیداوار میں ریکارڈ منفی 22.8 فیصد کمی ہوئی جو گزشتہ سال کے 13ملین بیلز کے مقابلے میں 7.5ملین بیلز رہی جس کی وجہ سے کاٹن جننگ کی پیداوار میں 15.6فیصد کمی ہوئی۔ دوسری اجناس سبزیوں، پھلوں اور چارے کی پیداوار میں اضافہ ہوا اور ان کی پیداواری شرح 1.41فیصد رہی۔ لائیو اسٹاک کی گروتھ 3.1فیصد اور جنگلات کی گروتھ 1.4فیصد ریکارڈ کی گئی۔ صنعتی شعبے کی گروتھ 3.57 فیصد متوقع ہے جبکہ بڑے درجے کی صنعتوں کے شعبے میں جولائی سے مارچ 2021ء کے دوران ریکارڈ 9.29 فیصد گروتھ دیکھنے میں آئی جس میں سیمنٹ اور آٹو موبائل سیکٹر قابل ذکر ہیں۔ آٹو موبائل سیکٹرز کی گروتھ میں 23.38فیصد اور تعمیراتی شعبے کی گروتھ میں 8.34فیصد اضافہ ہوا جبکہ پیٹرولیم مصنوعات 12.71فیصد، فارماسیوٹیکلز 12.57ف یصد، کیمیکلز 11.65فیصد،فوڈ بیوریجز اور تمباکو 11.73فیصد اور کھاد کی گروتھ 5.69فیصد رہی۔ رپورٹ کے مطابق بجلی اور گیس کے شعبوں کی گروتھ میں 23فیصد کمی ہوئی جبکہ خدمات کے شعبے کی گروتھ میں 4.43فیصد اضافہ ہوا۔ ہول سیل اور ریٹیل کے شعبوں کی گروتھ 8.37فیصد رہی جبکہ ٹرانسپورٹ، اسٹوریج اور مواصلات کے شعبے کی گروتھ میں کمی رہی جو 0.6فیصد تھی۔ بینکنگ اور انشورنس کے شعبے میں 7.84فیصد متاثر کن گروتھ دیکھنے میں آئی۔ پاکستان کی فی کس آمدنی میں اس سال اضافہ ہوا جو گزشتہ سال 1369ڈالر فی کس سے بڑھ کر 1543 ڈالر ہوگئی ہے۔

موجودہ مالی سال حکومت کو کئی بڑے چیلنج درپیش ہیں جن میں ملکی قرضوں میں اضافہ اور اس سال 14ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی، 2400 ارب ڈالر کے گردشی قرضے، مہنگائی (افراط زر) میں اضافہ، روپے کی گرتی قدر، مئی 2021ء میں تجارتی خسارے میںگزشتہ سال کے مقابلے میں 134فیصد اضافہ ہوا جو 3ارب ڈالر سے زائد ہوچکا ہے۔ رواں مالی سال بجٹ خسارہ 7فیصد ہونےکی توقع ہے، عالمی مارکیٹ میں ایل این جی اور تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جو 2020ء میں 48ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 2021ء میں 74ڈالر فی بیرل اور ایل این جی 15ڈالر MMBTU تک پہنچ گئی ہیں۔ خسارے میں چلنے والے حکومتی اداروں کا 500ارب روپے سالانہ خسارہ، پاکستان کا FATF کی گرے لسٹ میں رہنا، انسانی حقوق کے معاہدوں کی خلاف ورزی کے الزامات کے باعث یورپی یونین کی پاکستان کو دی گئی جی ایس پی پلس ڈیوٹی فری سہولت پر نظرثانی، کورونا کا ملکی معیشت پر دبائو، سیاسی عدم استحکام، سی پیک منصوبوں میں بھارتی تخریب کاری اور امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں امن و امان کی خراب صورتحال، وہ چیلنج ہیں جن کا تمام سیاسی جماعتوں، عسکری قیادت اور عوام کو ایک قوم بن کر مقابلہ کرنا ہوگا۔

تازہ ترین