• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

ملسم لیگ (ن) کی گرفت بلوچستان میں کمزور؟

پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان سے اہم شخصیات کو شامل میں بلاخر کامیاب ہوگئی، گزشتہ دنوں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے دورئے کوئٹہ کے دوران مختلف سیاسی شخصیات پی پی پی میں شامل ہوگئیں، پیپلز پارٹی بلوچستان کی جانب سے بلوچستان سے اہم سیاسی رہنماوں کی پارٹی میں شمولیت کے دعوئے اگرچہ ایک عرصے سے کیے جا رہے تھے اور سیاسی حلقوں کی جانب سے سابق وزیراعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری اور سابق وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل عبدالقادر بلوچ کی پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کا عندیہ بھی دیا جارہا تھا۔

سابق وزیراعلیٰ نواب ثنااللہ زہری اور سابق وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل عبدالقادر بلوچ دونوں شخصیات بلوچستان میں نہ صرف بالترتیب وزیراعلیٰ اور گورنر بلوچستان کے اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں بلکہ دونوں شخصیات بلوچستان میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدور بھی رہ چکے ہیں۔

دونوں سیاسی رہنما گزشتہ سال پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے کوئٹہ میں ہونے والے جلسہ عام میں پی ڈی ایم میں شامل بلوچستان کی ایک جماعت کے اعتراض کے بعد مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کی جانب سے سابق وزیراعلیٰ نواب ثنااللہ زہری کو اسٹیج پر نہ بلانے کے فیصلے کے بعد سے ناراض تھے اور گزشتہ سال ایک کوئٹہ میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے سبزہ زار پر ایک ورکرز کنونشن میں دونوں رہنماوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) سے سیاسی رفاقت ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔

تاہم اس موقع پر انہوں نے کسی بھی سیاسی جماعت میں فوری طور پر شامل ہونے کا کوئی اعلان نہیں کیا تھا لیکن چند ماہ قبل یہ بات قریب طے ہوگئی تھی کہ سابق وزیراعلیٰ نواب ثنااللہ زہری اور سابق وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل عبدالقادر بلوچ پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل ہوجائیں گے جبکہ پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا نہ صرف یہ دو رہنما بلکہ دیگر سیاسی رہنما بھی ان کی جماعت میں شامل ہوں گے۔

8 اگست کو کوئٹہ میں پارٹی کے سابق صوبائی صدر حاجی علی مدد جتک کی رہائش گاہ پر ایک تقریب میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی موجودگی میں سابق وزیراعلیٰ نواب ثنااللہ زہری اور سابق وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل عبدالقادر بلوچ سمیت صوبے سے کئی ایک اہم شخصیات نے پی پی پی میں شامل ہونے کا اعلان کی جن میں سابق صوبائی وزرا نواب محمد خان شاہوانی، آغا عرفان کریم، کرنل (ر) یونس چنیگزی سمیت دیگر شامل ہیں، بلوچستان میں ایک جانب قوم پرستوں و مذہبی جماعتوں کا ووٹ بینک ہے تو دوسری جانب الیکٹیبلز کا ایک مضبوط ووٹ بینک موجود ہے۔

یہ وہ ووٹ بینک ہے جس کا ماضی قریب میں پاکستان کی سیاست میں بہت کم عمل دخل ہوتا تھا یہی وجہ ہے کہ ماضی قریب تک ملک میں سیاسی جماعتوں کے پارٹی ٹکٹ کو انتخابات میں اہمیت حاصل ہوتی تھی تاہم اب ملک میں اس حوالے سے صورتحال تبدیل ہورہی ہے اور ملک کے دوسرئے صوبوں میں بھی الیکٹیبلز کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے جبکہ بلوچستان میں سیاسی شخصیات کا تو ماضی میں بھی اپنا ووٹ بینک رہا ہے۔

جس کی مثال بلوچستان میں ماضی میں ہونے والے کئی ایک انتخابات کے نتائج ہیں جب آزاد حثیت میں انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی شخصیات سیاسی فضا کو دیکھتے ہوئے پارٹیوں میں شامل ہوتے رہے ہیں چاہے اس کی مثال پیپلز پارٹی کی بلوچستان میں سابق حکومت کی ہو یا پھر مسلم لیگ (ن) کی سابق حکومت ہو آزاد ارکان اسمبلی کی شمولیت سے دونوں جماعتیں اقتدار میں آئیں،لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اب مسلم لیگ ن کیا اپنی ساکھ برقرار رکھ سکے گی؟

پیپلز پارٹی بلوچستان میں آخری بار 2008 کے انتخابات کے بعد بلوچستان میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی جب نواب محمد اسلم رئیسانی بلوچستان کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تھے، مگر اس کے بعد 2013 اور 2018 میں ہونے والے انتخابات بلوچستان کی حد تک پیپلز پارٹی کے لئے کسی ڈراونے خاوب سے کم ثابت نہ ہوئے جب ان دونوں انتخابات میں پیپلز پارٹی بلوچستان اسمبلی تک بھی رسائی حاصل نہ کرسکی اور اس کا کوئی رکن بلوچستان اسمبلی کے لئے منتخب نہ ہوسکا۔

چند ماہ قبل جب پیپلز پارٹی بلوچستان کی قیادت میں تبدیلی لائی گئی اور صوبائی صدر حاجی علی مدد جتک اور جنرل سیکرٹری سید اقبال شاہ کو تبدیل کرکے سابق وفاقی وزیر میر چینگیز جمالی کو پارٹی کا صوبائی صدر اورسابق سینیٹر روزی خان کاکڑ کو پارٹی کا صوبائی جنرل سیکرٹری مقرر کیا گیا تو اس موقع پر پارٹی قیادت نے جلد سیاسی شخصیات کی پارٹی میں شامل ہونے کا دعویٰ کیا تھا، جس کے بعد سابق وزیراعلیٰ نواب ثنااللہ زہری اور سابق وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل عبدالقادر بلوچ اپنے ساتھیوں سمیت پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے۔

ان کی شمولیت سے پیپلز پارٹی کو سیاسی حوالے سے آکسیجن ملے گی، سابق وزیراعلیٰ نواب ثنااللہ زہری کے شامل ہونے سے پیپلز پارٹی کی بلوچستان اسمبلی میں ایک نشست ہوجائے گی، یہاں یہ امر قابل زکر ہے کہ جب سابق وزیراعلیٰ نواب ثنااللہ زہری نے بلوچستان اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رکن ہونے کے باوجود اپنی سابق جماعت چھوڑ دی تھی تب بھی مسلم لیگ (ن) کی جانب سے کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا تھا اور سابق وزیراعلیٰ نواب ثنااللہ زہری بدستور رکن بلوچستان اسمبلی رہے اور اب بھی ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت کی جانب سے اب بھی یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ مستقبل قریب میں مزید قد آور سیاسی شخصیات ان کی جماعت میں شامل ہوجائیں گی جن میں الیکٹیبلز بھی ممکنہ طور پر شامل ہیں، جبکہ پارٹی کی جانب سے اب ہی سے بلوچستان میں آئندہ حکومت کا دعویٰ بھی سامنے آرہا ہے بلکہ گزشتہ دنوں کوئٹہ میں خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے نواب ثناء اللہ زہری، جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ اور ان کے ساتھیوں کو پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہونے پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ہم ایک دوسرے کے شانہ بشانہ محنت و جدوجہد سے ایک دوسرے کو طاقت دیں گے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید