• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مولانا حافظ عبد الرحمان سلفی

تاریخی روایات کے مطابق سیدنا حسین رضی ﷲ تعالیٰ عنہ اہل کوفہ کے بے انتہا اصرار پر مدینے سے مکہ اور پھر کوفہ کی جانب روانہ ہو ئے،جب کہ حج کا موسم تھا اور آپ نے حج کے احرام کو عمرے کے احرام سے تبدیل کر لیا۔ اہل مدینہ و مکہ میں سے ہر صاحب خیر نے آپ کو اہل کو فہ کی فطری جبلّت سے آگاہ کرتے ہوئے باور کرایا کہ یہ لوگ بے وفا ہیں اور انہوں نے آپ کے والد سیدنا علی ؓ اور برادر اکبر سیدنا حسن ؓ کے ساتھ بھی بد عہدی کی تھی۔ سیدنا عبد ﷲ بن عمر ؓ ،سیدنا ابن عباس ؓ ، عبد ﷲ بن زبیرؓ ، عبد ﷲ بن جعفر ؓ اور دیگر بہی خواہوں نے آپ کو کوفہ کے سفر سےحتیٰ الا مکان روکنے کی کوشش کی ، کوفہ میں حضرت مسلم بن عقیل شہید کر دئیے گئے تھے اور اہل کوفہ کے جن ہزاروں لوگوں نے حمایت پر بیعت کی تھی، وہ منحرف ہو چکے تھے ،تاہم سیدنا حسین بن علی ؓ نے اپنا سفر جاری رکھا۔ 

سیدنا عبد ﷲ بن عباسؓ نے آپ کو روکنے سے ناکامی پر کہا کہ اچھا، اگر آپ کو جانا ہی ہے تو خود چلے جائیں، عورتوں اور بچوں کو نہ لے جائیں۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ کو بھی حضرت عثمان ؓ کی طرح بچوں اور عورتوں کے سامنے شہید کر دیا جائے۔ بعد میں جب کربلا کے میدان میں آپ کے ساتھیوں کو شہید کر دیا گیا اور آپ کی شہادت کا وقت آیا، آپ کے اہل و عیال خیموں سے باہر نکل کر جزع فزع کرنے لگے تو آپ کو ابن عباس ؓکی یہ نصیحت یاد آئی ۔بہر کیف سیدنا حسین ؓ عازم کوفہ ہوئے اور متعدد مقامات پر پڑائو ڈالتے ہوئے ۲ محرم ۶۱ ہجری کو آپ کا قافلہ کربلا کے میدان میں خیمہ زن ہو گیا۔ سیدنا حسین ؓ نے اپنے تمام ساتھیوں کو جمع کیا اور حسب ذیل خطبہ ارشاد فرمایا۔

’’میں ﷲ کی حمد و ستائش کرتا ہوں اور مصیبت و راحت ، ہر حال میں اس کا شکر گزار ہوں۔ اے ﷲ ،میں تیری ستائش کرتا ہوں کہ تو نے ہمارے خاندان کو نبوت کی نعمت سے سرفراز کیا۔ ہمیں کان دیے، تا کہ ہم تیری باتیں سن سکیں۔ آنکھیں دیں، تاکہ تیرے انعامات ملاحظہ کر سکیں اور دل دیا تاکہ ہم غور و فکر سے کام لے سکیں۔ تو نے ہمیں قرآن کا علم دیا اور ہمیں دین کی فراست عطا کی۔ اب تو ہمیں اپنے شکر گزار بندوں میں شامل فرما۔ 

میں نے اپنے ساتھیوں سے زیادہ وفادار اور نیک ساتھی کہیں نہیں دیکھے اور اپنے اہل بیتؓ سے زیادہ نیکوکار اور صلہ رحمی کرنے والے رشتے دار کہیں نہیں پائے۔ اے ﷲ، ان سب کو جزائے خیر دے۔ بعد ازاں ساتھیوں سے مخاطب ہو کر فرمایا :تم نے ہم سے نیکی کی اور ہماری مدد کی۔ کل کا دن میرے اور دشمنوں کے درمیان آخری فیصلے کا ہے۔ انہیں صرف میری ضرورت ہے ،اس لئے میں تمہیں بخوشی واپسی کی اجازت دیتا ہوں۔ میری طرف سے کوئی شکایت نہ ہو گی۔ رات ہو چکی ہے ، تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ادھر ادھر چلے جائو اور اپنی جانوں کو ہلاکت سے بچائو ،یہ سن کر آپ کے بھائیوں،بیٹوں، بھتیجوں اور تمام عزیز ساتھیوں نے یک زبان ہو کر کہا۔‘‘ ہم آپ کے بعد زندہ رہ کر کیا کریں گے؟ ﷲ ہمیں اس دن کے لیے باقی نہ رکھے۔ ساتھیوں اور رشتے داروں کے جذبۂ جاں نثاری کو دیکھتے ہوئے آپ نے جنگ کی تیاری کا حکم دیا۔

سیدنا زین العابدین علی بن حسین ؓ روایت کرتے ہیں کہ ’’ اس رات جس کی صبح میرے بابا شہید ہوئے، میں بیمار تھا اور میری پھوپھی زینبؓ میری تیمار داری کر رہی تھیں۔ خیمے میں ابو ذر غفاری ؓ کے غلام آپ کی تلوار صاف کر رہے تھے اور میرے والد یہ شعر پڑھ رہے تھے ۔ اے زمانے! تجھ پر افسوس ! تو کیسا بے وفا دوست ہے۔ صبح و شام تیرے ہاتھوں کتنے لوگ مارے جاتے ہیں! زمانہ کسی کی رعایت نہیں کرتا اور کسی سے کوئی عوض قبول نہیں کرتا۔ 

اب سارا معاملہ ﷲ کے ہاتھ میں ہے اور ہر زندہ موت کی راہ پر چلا جا رہا ہے، یہ سن کر سیدہ زینبؓ دوڑتی ہوئی آپ کے پاس آئیں اور لپٹ کر کہنے لگیں ۔ کاش! آج موت میری زندگی کا خاتمہ کر دیتی۔ میری والدہ فاطمہ ؓ،والد علیؓ اور بھائی حسنؓ باقی نہ رہے۔ اب آپ ہی ان کے جانشین اور ہمارے محافظ رہ گئے ہیں۔ جزع فزع سن کر سیدنا حسین ؓ نے بہن کی طرف دیکھا اور فرمایا۔ اے بہن، اپنے حلم اور وقار کوقائم رکھو۔ بہن ﷲ سے ڈرو اور ﷲ سے تسکین حاصل کرو۔ اچھی طرح جان لو کہ تمام اہل زمین مر جائیں گے اور ﷲ کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔ میرے اور ہر مسلمان کے لیے رسول ﷲ ﷺ کی ذات نمونہ ہے۔ تم اسی نمونے سے صبر حاصل کرو۔

10 محرم الحرام کی خون آلود صبح افق پر نمودار ہوئی تو نماز فجر کے بعد سیدنا حسین ؓ نے اپنے ساتھیوں کی صف بندی کی۔ مختصر سپاہ کے ساتھ آپ میدان کربلا میں صف آرا ہوئے۔ اس موقع پر لڑائی شروع ہونے سے پہلے سیدنا حسین ؓ نے مخالف لشکر سے تاریخی خطاب فرمایا۔ آپ نے رب تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا: اے لوگو! جلدی نہ کرو۔ پہلے میری بات سن لو۔ مجھ پر تمہیں سمجھانے کا جو حق ہے، اسے پورا کر لینے دو اور میرے آنے کی وجہ بھی سن لو۔ اگر تم میرا عذر قبول کرلو گے اور مجھ سے انصاف کرو گے تو تم انتہائی خوش بخت انسان ہو گے، لیکن اگر تم اس کے لیے تیار نہ ہوئے تو تمہاری مرضی۔ تم اور تمہارے شریک سب مل کر میرے خلاف زور لگا لو اور مجھ سے جو برتائو کرنا چاہتے ہو کر ڈالو۔ ﷲ میرا کار ساز ہے اور وہی اپنے نیک بندوں کی مدد کر تا ہے اور پھر فرمایا ۔لوگو! تم میرے حسب و نسب پر غور کرو اور دیکھو کہ میں کون ہوں۔ 

اپنے گریبانوں میں منہ ڈالو اور اپنے آپ کو ملامت کرو۔ تم خیال کرو، کیا تمہیں میرا قتل اور میری توہین زیب دیتی ہے؟ کیا میں تمہارے نبی ﷺ کا نواسہ نہیں ؟ کیا سید الشہداء حمزہ ؓ میرے والد کے چچا نہیں تھے؟ کیا جعفر طیار ؓ میرے چچا نہیں تھے؟ کیا تمہیں رسول ﷲﷺ کا وہ قول یاد نہیں جو انہوں نے میرے اور میرے بھائی (حسنؓ) کے متعلق فرمایا تھا کہ یہ دونوں جوانان جنت کے سر دار ہیں۔ اگر میرا یہ بیان سچا ہے اور ضرور سچا ہے، کیونکہ جب سے مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ جھوٹ بولنے والے پر ﷲ ناراض ہوتا ہے، اس وقت سے آج تک میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا تو بتاؤ کیا تمہیں ننگی تلواروں سے میرا مقابلہ کرنا چاہئے؟ اور اگر تم مجھے جھوٹا سمجھتے ہو تو آج بھی تم میں وہ لوگ موجود ہیں۔

جنہوں نے میرے متعلق رسول اﷲﷺکی حدیث سنی ہے۔ تم ان سے دریافت کر سکتے ہو۔ تم مجھے بتائو کہ کیا آپﷺ کی اس حدیث کی موجودگی میں بھی تم میرا خون بہانے سے بازنہیں رہ سکتے۔ آپ کے خطبے پر اثر کے باوجود بعض مائل بہ جنگ افراد نے لڑنے کا فیصلہ کرلیا اور آپ کی پیشکشوں کو بھی رد کر دیا۔ انہوں نے سمجھا کہ رسول ﷲ ﷺ کے نواسے کو زیر کرنے کا یہ موقع دوبارہ ہاتھ نہ آئے گا، لہٰذا اسے ہاتھ سے گنوانا نہیں چاہئے ،مخالفین کے لشکر میں سے حُر وہ شخص تھا جس پر آپ کے خطبے کا اثر ہوا اور وہ آپ کی صفوں میں آملا ۔

اس نے سالار لشکر عمر و بن سعد سے کہا ’’ ﷲ تمہیں ہدایت دے، کیا تم اس انسان سے لڑو گے‘‘؟اس نے جواب دیا ، ہاں۔ حُر نے جواب دیا، یہ جنت یا دوزخ کے انتخاب کا موقع ہے اور میں نے جنت کا انتخاب کر لیا ہے، بعد ازاں معرکہ برپا ہوا اور فریقین میں گھمسان کا رن پڑا اور قافلہ حسینی کے مدنی وفادار یکے بعد دیگرے اپنی جانیں نثار کرتے ہوئے راہ وفا میں شہید ہو گئے، یہاں تک کہ خود نواسہ رسول ﷺتیروں تلواروں کی بوچھاڑ میں داد شجاعت دیتے ہوئے 10 محرم الحرام عصر کے وقت شہادت کی منزل عبور کر تے ہوئے بے کسی و بے وطنی کے عالم میں شہادت سے سرفراز ہوئے۔