• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تاریخ کے آغاز سے لمحہ موجود تک اڑن طشتریوں اور خلائی مخلوق کے بارے میں تجسس انسان کے خمیر میں موجود رہا ہے ۔ وسیع و عریض فلک کو دیکھ کر سوچتا رہاہے کہ کائنات میں ہم اکیلے نہیں۔کرۂ ارض سے 600 کلومیٹر کی دوری پرواقع ہبل خلائی دوربین سے تا حال کائنات کی وسعتوں میں موجود ایسے تقریباً 1ارب 40 کروڑ سیاروں کا پتہ چلایا جاچکا ہے،جہاں زندگی کے اجزا و امکانات پائے جاتے ہیں۔ 

اس کا ثبوت آسمان پر نظر آنے والی ’’نامعلوم اُڑتی اشیاء ‘‘(UFOs) ہیں ۔جن کے بارے میں اہل زمین کا ماننا ہے کہ ہم سے کہیں زیادہ مخلوق کسی نامعلوم سیارے پر مقیم ہے۔ اس کے شواہد ہمیں تصاویر ، چلتی فلموں،ریڈار پر موجودگی ،زمین پر اترنے ، دھات کے ٹکڑوں ، طبی و برقی مقناطیسی اثرات اور متعدد عینی شاہدین کے ثبوتوں کی صورت ملتے رہے ہیں۔ اس طرح نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ اڑن طشتریاں اعلیٰ ٹیکنالوجی پر مبنی ایسے بیرونی خلائی طیارے ہیں، جن تک ہماری رسائی ممکن نہیں۔

پلک جھپکتے ہزاروں میل کا سفر کرنے والی اڑن طشتریوں کی رفتا رکا ہم مقابلہ نہیں کرسکتے۔ امریکا ، روس،چین، فرانس، برطانیہ جیسی بڑی طاقتوں نےبھی اڑن طشتریوں کو حقیقت قرار دیا۔اسی تجسس نے ناسا کو بھی مجبور کیا کہ وہ کائنات میں زندگی کی تلاش کے سفر پرنکلے ۔آج فلکیات دانوں نے تقریباً 1ارب 40 کروڑ سیاروں پر زندگی کےاجزا و امکانات کو دریافت کرلیا ہے۔

5 مارچ 2004 ء میں میکسیکو کی فضائیہ نے متعدد UFOs کوانفراریڈ فلم استعمال کرتے ہوئے فلمایا ،اس کے بعد 7 نومبر 2006 ءکوشکاگو کے ہوائی اڈے وہیئر( O'Hare ) پر پائلٹ اور ائیر ٹریفک کنٹرولرز نے ایک سرمئی ، دھاتی طشتری نما شکل چیزاُڑتی دیکھی تو ایک بار پھر اڑن طشتریاں عوامی توجہ کا مرکز بن گئیں ۔UFOs میں چار چاند لگائے تو امریکی دفاعی ادارے نےیہ اعتراف کیا کہ لڑاکا طیاروں کی پروازوں کے دوران ہمیں بھی ایسی کئی نامعلوم اڑن طشتریوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اس پُر اسرار سے پردہ اٹھانے کے لیے UFOs (Unidentified flying object)ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔

UFOs ٹاسک فورس

پینٹا گون ترجمان سوگف کے مطابق امریکی نیوی کی قیادت میںUFOs ٹاسک فورس کا مقصد نامعلوم فضائی اشکال کے بارے میں معلومات کا حصول ہے، کیوں کہ ایسے کئی واقعات رپورٹ ہوئے جو قومی سلامتی کے حوالے سے باعثِ تشویش ہیں۔ 

پینٹا گون نے اعتراف کیا ہے کہ فضا میں نظر آنے والی یہ نامعلوم اشیا ہمارے لڑاکا طیاروں اور بحری جہازوں کے لیے بھی مشکلات کا سبب بنی ہیں۔ساتھ ہی اس خدشے کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ چین یا روس کی طرف سے ہائپر سونک ٹیکنالوجی کے تجربات کیے جارہے ہیں۔ یہ نامعلوم اشیا اس کا حصہ ہوسکتی ہیں۔

اڑن طشتریوں کے مشاہدات

ماقبل تاریخ: غار وں پر کندہ مصوری کے فن پاروں اور مجسمے اڑن طشتریوں اور خلائی مخلوق کی عکاسی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

مختلف ثقافتوں کی اساطیر میں ایسے دانشمندوں کی روایات اور قصے ملتے ہیں جو آسمان سے آئے تھے۔

1890 ءقبل از مسیح : دنیا بھر میں ابتدائی مسودات ، ریکارڈز اور پینٹنگز میں نامعلوم فضائی اشیاء کے ملتے ہیں۔

:1896 عجیب ساخت کےزیپلن نما غبارے پورےامریکا میں نظر آئے،جنھیں اڑن طشتریوں سے تعبیر کیا گیا۔

24 جون 1947 ءپائلٹ کینتھ آرنلڈ نےواشنگٹن کےرینئیر ماؤنٹ پر اڑن طشتریوں کو اڑتے دیکھا۔ یہ اڑن طشتریوں کے جدید دور میں مشاہدے کی ابتدا تھی۔

11 مئی ، 1950 ءپال ٹرینٹ نے اوریگون کے شہر میک مین ول کے آسمان پر پرواز کرتی اڑن طشتری کی تصویر کھینچی ۔

15 جولائی ، 1952 ءواشنگٹن ڈی سی کے آسمان پر ایک سے زیادہ اڑن طشتریاں دیکھی گئیں۔

20 نومبر 1952 ءجارج ایڈمسکی نے صحرائی مرکز ، کیلی فورنیا میں ایک خلائی مخلوق سے رابطہ کرنے کا دعویٰ کیا۔

6 جنوری 1958 ءبرازیلین نیوی نے ٹرینیڈاڈ آئلینڈ کے آسمان پر اڑن طشتری کی تصویر کھینچی۔

24 اپریل 1964 ءنیو یارک کے ٹیوگا میں اڑن طشتری کسانوں کے کھیت میں اتر گئی،انسان نما خلائی مخلوق نے ان سے کھاد مانگی۔

اکتوبر 1969 ءامریکی صدر بننے کی مہم کے دوران جارجیا کے گورنر جمی کارٹر نے اڑن طشتری کا مشاہدہ کیا۔

1987 ءمحقق بڈ ہاپکنز کی کتاب Intruders شائع ہوئی ، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خلائی مخلوق انسانی جینیات میں دلچسپی رکھتی ہے، اس لیے اس کے زیادہ تر دورے امریکا میں ہوتے ہیں۔

11 جولائی 1991 ءمیکسیکو سٹی کےہزاروں رہائشیوں نےاڑن طشتریوں کو دیکھا۔ درجنوں افراد نے ان کی ویڈیو ریکارڈ کی۔

13–۔ 17جون 1992 ءمیساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی(MIT) کی جانب سے اڑن طشتری کے موضوع کا مطالعہ کرنے کے لیے سائنسی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

1994 ءپلٹزر انعام یافتہ مصنف اور ہارورڈ پروفیسر جان میک ، ایم ڈی کی اڑن طشتریوں اور خلائی مخلوق پرکتاب شائع ہوئی۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید