افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان کے کنٹرول کے بعد ملک چھوڑنے کیلئے امریکی طیارے میں سوار ہونے کی ناکام کوشش میں تین نوجوان جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
طیارے سے گِر کر ہلاک ہونے والوں میں ایک قومی فٹبال ٹیم کا کھلاڑی ذکی انوری، ایک ڈینٹسٹ یعنی دانتوں کا معالج ڈاکٹر محمد فیدا اور محمد رضا نامی نوجوان شامل ہیں۔ تینوں نوجوانوں کی عمریں 19, 22 اور 17سال تھیں۔
فٹبالر ذکی انوری
طالبان کے کابل پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد ایئرپورٹ سے امریکی طیارے پر لٹک کر روانہ ہونے کی کوشش میں 19 سالہ فٹبالرز کی انوری بھی ہلاک ہوا۔
نوجوان رضا
17 سالہ نوجوان رضا بھی افغانستان سے بھاگ نکلنے کی کوشش میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
رضا کے اہلِ خانہ کے مطابق انہیں رضا کی موت کا علم تب ہوا جب ایک اجنبی کال موصول ہوئی، کال موصول ہونے کے بعد جب ایئرپورٹ پہنچے تو رضا کی باقیات ان کے حوالے کی گئیں۔
ڈاکٹر محمد فیدا
قرض اتارنے کے لیے افغانستان چھوڑنے والا 22 سالہ ڈاکٹر محمد فیدا بھی ان تین بدقسمت مسافروں میں شامل ہیں جو طیارے سے گِر کر ہلاک ہوئے۔
22 سالہ ڈاکٹر محمد فدا پیشے کے اعتبار سے دانتوں کے ڈاکٹر تھے اور حال ہی میں ان کی شادی ہوئی تھی۔
ڈاکٹر فیدا کا کہنا ہے کہ وہ قرض اتارنے کی غرض سے ملک چھوڑنا چاہتے تھے لیکن وہ جان کی بازی ہی ہار گئے۔
افغانستان بالخصوص کابل پر طالبان کے کنٹرول کے بعد جہاز کے ذریعے متعدد افراد نے وہاں سے نکلنے کی کوشش کی، سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں لوگوں کو رن وےپر دوڑتے امریکی طیارے میں زبردستی سوار ہونے کی کوشش کرتے دیکھا گیا۔