• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈیلی ٹیلی گراف کی افغانستان معاملہ پر متعصبانہ رپورٹنگ کی تردید

لندن(جنگ نیوز)برطانیہ کے مشہور اخبارڈیلی ٹیلی گراف نے برطانیہ میں تعینات سفیر پاکستان معظم احمد خان کا ایک خط آج کے ایڈیشن میں شائع کیا ہے جس میں انہوں نے افغانستان کے معاملے پر ایک متعصبانہ رپورٹ اور بے بنیاد الزام کی پُر زور تردید کی ہے اور افغانستان کے مسئلے پر پاکستان کے موقف کو واضح انداز میں پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 20 برس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ اور نیٹو کے فوجیوں کے مقابلے میں پاکستانی فوجی بہت زیادہ ہلاک ہوئے ہیں۔ پاکستان کو 80 ہزار سے زائد جانوں کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ڈیلی ٹیلی گراف میں چھپنے والی سٹوری میں رپورٹر((Kyle Orton نے پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں اور رپورٹ میں کہا ہے کہ طالبان رہنما ملا عمر پاکستان میں ہی ہلاک ہوا تھا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ افغانستان میں ہی مر ا تھا۔ القاعدہ اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو ختم کرنے میں پاکستان کا انٹیلی جنس تعاون نہایت ہی اہم رہا ہے اور پاکستان 30 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی فراخ دلی سے میزبانی کر رہا ہے۔وزیراعظم عمران خان کا ہمیشہ سے یہ واضح موقف رہا ہے کہ افغانستان کے تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور مذاکرات سےہی آگے بڑھا جا سکتاہے۔ پاکستان نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ امریکہ ، طالبان اور اشرف غنی حکومت کے درمیان براہ راست مذاکرات ہوئے۔ بین الافغان مذاکرات میں ناکامی پرپاکستان کی قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا بلکہ مختلف افغان فریقوں کے بے لچک رویے ہی مذاکرات کی ناکامی کا اصل موجب ہیں ۔معظم احمد خان نے کہا کہ بین الاقوامی افواج کے انخلاء کے ساتھ مذاکرات کا حل ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے افواج کے انخلا کا فیصلہ پاکستان کو بتائے بغیر کیا گیا۔ پچھلے ہفتے پاکستان نے کئی یورپی ممالک کے سیکڑوں سفارتی عملے اور عالمی بینک اور اقوام متحدہ جیسی تنظیموں میں کام کرنے والے افغان باشندوں کو بحفاظت نکالنے میں مدد کی ہے۔ پاکستان توقع کرتا ہے کہ افغانستان کے تمام سٹیک ہولڈرز بنیادی انسانی حقوق بشمول خواتین کے حقوق کا احترام کریں گے جبکہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ دہشتگردکسی دوسرے ملک کے خلاف افغان سرزمین استعمال نہ کریں۔
تازہ ترین