• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کوبرطانیہ کی سفری ریڈلسٹ سے نکالنے کیلئے پٹیشن کا آغاز

کوونٹری (وقار ملک) برطانیہ کی طرف سے پاکستان کو کورونا وائرس کی سفری ریڈ لسٹ میں شامل کرنے پر کمیونٹی کے افراد نے ایک پٹیشن پر دستخط کرنے کا آغاز کیا ہے تاکہ پٹیشن پر پارلیمنٹ میں بحث کا آغاز ہو اور حکومت برطانیہ فوری طور پر پاکستان کو ریڈ لسٹ سے نکالے، اس سلسلے میں پاکستان ہائی کمیشن کی طرف سے بھی کاوشیں جاری ہیں۔ دوسری طرف پی ایم ایل این کے اہم عہدیدارنے بھی اپنے تئیں اس حوالے سے جدوجہد کا آغاز کر دیا ہے تاکہ اس مشکل وقت میں لوگوں کا ساتھ دیا جا سکے،واضح رہے برطانیہ کے گزشتہ عام انتخابات میں کنزرویٹو اور لیبر پارٹی کے امیدواران کی کامیابی کیلئے مسلم لیگ ن نے انتخابی مہم میں حصہ لیتے ہوئے کچھ برٹش ممبران کو جتوانے میں کردار ادا کیا تھا اور کشمیری و پاکستانی کمیونٹی کو انھیں ووٹ دینے کے لیے قائل کیا تھا جو اس انتخابی مہم میں کامیاب حکمت عملی کے بعد بھاری اکثریت سے اپنے حلقوں میں کامیاب ہوئے تھے۔ پاکستانیوں نے پاکستانی سیاست سے بالاتر ہو کر ان امیدواران کو کامیاب کرایا تھا چونکہ پاکستان کو برطانیہ نے کورونا کی ریڈ لسٹ میں شامل کر دیا ہے جس سے پاکستانی وکشمیری انتہائی پریشانی کا شکار ہیں اور پاکستان کا سفر کرنے سے قاصر ہیں، ان حالات میں مسلم لیگ ن کے اہم عہدے دار نے ممبران پارلیمنٹ سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے پاکستان کوریڈ لسٹ سے نکلوائیں۔ اطلاعات کے مطابق ممبران پارلیمنٹ نے پی ایم ایل این کی اس اہم شخصیت کو یقین دلایا ہے کہ وہ اس مشکل میں پاکستانیوں اور کشمیریوں کی آواز اپنی پارٹی اور قائدین تک پہنچائیں گے بلکہ بھرپور احتجاج بھی کریں گے تاکہ پاکستان کو ریڈ لسٹ سے نکالا جا سکے ۔ پاکستان میں قدرتی طور پر کورونا وائرس قابو میں ہے، عوام روزمرہ کی زندگی آزادی کے ساتھ بہتر انداز میں گزار رہے ہیں ، جب کہ بھارت میں اب بھی حالات خراب ہیں اور کورونا وائرس پر ابھی تک کنٹرول نہیں ہو سکا ہے۔اس لیے پاکستان کو ریڈ لسٹ سے نکالا جائے تاکہ برطانیہ میں مقیم پاکستانی اپنے ملک پاکستان کا آزادی سے سفر کر سکیں جو ان کا بنیادی حق ہے ۔مسلم لیگ ن کی اس اہم شخصیت و عہدے دار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کا کہتے ہوئےیقین دلایا ہے کہ پاکستان کو آئندہ چند روز میں ریڈ لسٹ سے نکال دیا جاۓ گا اور پاکستانی و کشمیری اپنے ملک پاکستان آزادی سے سفر کر سکیں گے۔ برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں اور کشمیریوں نے اس امر پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ن لیگ کے اس اہم سابق حکومتی عہدے دار کی کاوشوں کو سراہا ہے ۔
تازہ ترین