• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
بولٹن کی ڈائری/ابرارحسین
  برادری ازم کے پھیلانے سے کمیونٹی میں ہم آہنگی کے بجائے نفرت پھیلتی ہے، اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اس لیے ایسے لوگوں کا محاسبہ کیا جانا چاہیے اور اس کے پھیلانے والوں کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، آزاد کشمیر کے مخصوص قبیلائی ماحول میں جن لوگوں کی پرورش ہوئی ایسے بعض لوگ برطانیہ کے ایک کثیر الثقافتی ماحول کو بھی پراگندہ کرنے سے باز نہیں آتے، ان لوگوں کی برادری ازم پر مبنی سرگرمیاں کمیونٹی کو ایک ایسی وبا میں دھکیلتا دکھائی دیتی ہیں جس سے آئندہ نسلیں ایک دوسرے سے میل ملاپ کے بجائے دور ہوتی نظر آتی ہیں ، یہ لوگ اپنی ان حرکتوں سے باز کیوں نہیں آتے۔ یہ سوال ہماری کمیونٹی کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے، یہاں پر جو لوگ مقامی اور قومی سیاست میں شامل ہیں ایسے واقفان حال سے بخوبی واقف ہیں کہ اپنے بعض لوگوں نے یہاں کی سیاسی جماعتوں کے اندر بھی آزاد کشمیر کے برادری ازم کے بیج بو دئیے۔ یہ لوگ مخصوص طریقے سے برادری ازم کا کارڈ استعمال کر کے اپنی برادری سے ہی کسی امیدوار کو کونسل اور پارلیمنٹ میں پہنچانے کی سر توڑ کوشش کرتے ہیں، یہاں برادری سے مراد پاکستانی کشمیری برادری نہیں بلکہ ایسے لوگوں کے نزدیک آزاد کشمیر کے اندر اپنا قبیلہ اور سب کاسٹ مطلب ہوتا ہے، ان لوگوں کے اس عمل سے پاکستانی کشمیری کمیونٹی کا منفی امیج پھر ابھرتا ہے، اسی طرح کے لوگ آزاد کشمیر کی سیاست کے اندر بھی معاملات کو ویسع قومی تناظر میں دیکھنے کے بجائے برادری ازم کے محدود دائرہ کار میں دیکھتے ہیں اور برطانیہ کی آزاد فضائوں میں بھی نفرت کو فروغ دے رہے ہیں۔ آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات کے تناظر میں بعض حضرات کے غیر معیاری  اور گمراہ کن مواد نظروں سے گزرے، اصل نقطہ یہ تھا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں پی ٹی آئی کشمیر کی کامیابی بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے زیر صدارت حاصل ہوئی تھی، مروجہ جمہوری روایات کا تقاضا یہ تھا کہ وزیراعظم کے لیے انہیں نامزد کر دیا جاتا مگر ایسا نہیں کیا گیا لیکن بعض افراد جو قومی تقاضوں سے بے خبر ہیں وہ دور کی کوڑی لائے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ آزاد کشمیر میں نئے وزیراعظم دلی سردار، دلی راجپوت یا مغل وغیرہ ہیں جن کا حسب نسب عالی شان ہے اور دانستہ یا نا دانستہ طور پر آزاد کشمیر کے معزز جاٹ قبیلے کے کردار کو گھٹانے کی کوشش کی بلکہ ایک حد نے تو جاٹوں کی آزاد کشمیر میں موجودگی سے ہی انکار کر دیا، راقم کے نزدیک آزاد کشمیر اور برطانیہ میں سادات، شیخ، جاٹ، گجر ،راجپوت، سدھن، ملک، مغل، پٹھان، کھوکھر سمیت متعدد برادریاں موجود ہیں اور سب کا اپنا اپنا کردار ہے، پھر ہم برطانیہ میں رہ رہے ہیں، جہاں پر قریب قریب دنیا کے ہر ملک اور ثقافتی پس منظر کی کمیونٹیز آباد ہیں، جو سب پرامن طور پر باہم مل کر برطانیہ کی سوسائٹی میں اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کر رہی ہیں، ہمیں اس ماحول اور معاشرے سے ہی کچھ اچھی روایات کو سیکھ لینا چاہیے اور آزاد کشمیر کے اندر بھی ہم آہنگی اور رواداری پر مبنی روایات کو فروغ دینا چاہیے، خاص طور پر ہم لوگ، جو میڈیا سے متعلق ہیں، ہم پر اس بابت زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے ، ہمیں برادری ازم کی انتہائی غلیظ اور بے سروپا سوچوں کو دفن کر دینا چاہیے، جہاں تک جاٹ برادری کا تعلق ہے میں خود میرپور کا باسی ہوں اور شیخ برادری سے تعلق ہے، میری جاٹ برادری سے کوئی رشتہ داری نہیں لیکن سچ یہ ہے کہ اس وقت کم و بیش 12 ممبران اسمبلی آزاد کشمیر کے اندر کوٹلی، میرپور اور بھمبر سے جاٹ قبیلہ سے ہیں (مخصوص نشستوں سمیت) میرپور سے نو منتخب صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری، چوہدری ارشد، چوہدری قاسم مجید، ڈڈیال سے اظہر صادق، بھمبر سے سپیکر چوہدری انوار الحق، علی شان سونی، کوٹلی سے چوہدری محمد یاسین( دو نشستوں سے جیتے ہیں،) چوہدری اخلاق اور ڈاکٹر انصر ابدالی، برطانیہ سے اوورسیز ایم ایل اے، خواتین کی نشست پر محترمہ صدیق یہ 12 ممبران اسمبلی جاٹ برادری سے تعلق رکھتے ہیں، آزاد کشمیر کے علاوہ برطانیہ کی کئی کونسلوں میں بے شمار کونسلرز، لوٹن سے لارڈ قربان حسین ، بریڈفورڈ سے ممبر پارلیمنٹ چوہدری عمران حسین پوٹھی، برمنگھم سے ممبران پارلیمنٹ طاہر علی اور شبانہ محمود اور سابق لارڈ نذیر احمد سب جاٹ برادری سے ہیں، میری معروضات کی تصدیق کسی بھی ذریعے سے کرا سکتے ہیں ، اسی طرح اور بھی کئی سیاسی اور اعلیٰ شخصیات جاٹ برادری سے ہیں، صرف برمنگھم، بریڈفورڈ اور لوٹن میں ایک بہت بڑی تعداد جاٹوں کی ہے مگر اگر کوئی یہ کہے کہ میرپور اور کوٹلی میں کوئی جاٹ نہیں، سراسر زیادتی ہے اور خلاف حقائق ہے، پھر کوئی اگر کسی کو بطورِ قبیلہ کم علم قرار دے تو ہماری ناقص رائے میں ایسا لکھنے والا خود کم علم ہے، اخباری تحریروں کے علاوہ ہم یہاں پس تحریر کے طور پر اس امر کی بھی نشاندہی کرنا چاہتے ہیں کہ بعض لوگ سستی شہرت کے چکر میں کتابیں بھی تصنیف کر یا کرا رہے ہیں اور ان کتب میں بھی برادری ازم پر فوکس ہوتا ہے کشمیر کے تناظر میں ہی ہمیں ایک صاحب کی ایسی ہی ایک کتاب پڑھنے کا اتفاق ہوا تو حیرت کی انتہا نہ رہی کہ کتاب کسی بھی حوالہ جات References and Bibliography کے بغیر تھی اور وہ کتاب بھی جھوٹ کا پلندہ تھی اور اس میں پاکستان آرمی کے خلاف بے بنیاد باتیں بھی شامل کی گئی تھیں۔
تازہ ترین