• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر: ہارون مرزا۔ ۔۔راچڈیل
مینارپاکستان پر خاتون ٹک ٹاکر کے ساتھ ہونے والے واقعہ نے پورے پاکستان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے گریٹر اقبال پارک مینار پاکستان گراؤنڈ میں منچلوں کی جانب سے ہراساں کیے جانے اور بدسلوکی کا شکار ہونے والی خاتون کے معاملے پر نہ صرف اندرون ملک ذرائع ابلاغ پر بحث جاری ہے بلکہ واقعہ نے پوری دنیا میں پاکستان کے تشخص کو مجروح کیا ہے ،متاثرہ لڑکی کی رپورٹ پر چار سو سے زائد نامعلوم افراد کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا ،ابتدائی تحقیقات کے مطابق نادرا کے ڈیٹا اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اب تک سو کے قریب افراد کو گرفتار کرنے کی اطلاعات ہیں ،آئی جی پنجاب نے ایڈیشنل آئی جی سیف سٹی اتھارٹی کی سربراہی میں ایک تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو 22 اگست تک رپورٹ پیش کرے گی ،یاد گار پاکستان جیسی جگہ پر وطن کی بیٹی کے سر عام کپڑے پھاڑنے کا واقعہ بے حسی اور جاہلانہ سوچ کی عکاسی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے اس سے قبل اسلام آباد میں فلیٹ میں نوجوان لڑکی کیساتھ بدترین اور قابل مذمت سلوک اور چند روز بعد لڑکی کے قتل جیسے پے در پے واقعات سے معاشرے میں چھپے انسان نما بھیڑیوں کے چہروں سے نقاب اتر گئے ہیں چند سو افراد کے مکروہ فعل نے پورے معاشرے کا سر شرم سے جھکا دیا، سیاستدانوں کی طرف سے واقعہ پر بھر پور ردعمل سامنے آیا ہے ،ایسے افسوسناک واقعات اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ نوجوان نسل کی تربیت میں کمی کوتاہی دور کرنے کی ضرورت ہے، والدین کے ساتھ اساتذہ کو بھی اس کی پوری ذمہ داری لینی چاہیے، ذہنی اور نفسیاتی بیمار لوگوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ،اسلام آباد میں عثمان مرزا نامی شخص اور اس کے ساتھیوں نے کچھ عرصہ قبل فلیٹ میں لڑکی اور اس کے ساتھی کو ہراساں اور بے عزت کیا ان کی ویڈیو بنا کر لاکھوں روپے بلیک میل کر کے ہتھیائے،ایسے درندہ صفت افراد کو اگر ریلیف ملتا رہا تو خواتین غیر محفوظ ہوتی چلی جائیں گی ،اسلام آباد میں گھر کے اندر خاتون کے بے رحمانہ قتل کی واردات نے بھی پورے پاکستان کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ آخر معاشرہ کس جانب جا رہا ہے ایسے واقعات میں عموما خواتین عزت بچانے کیلئے خاموش ہو جاتی ہیں مگر اس خاتون نے بہادری کا مظاہرہ کیا اور ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے قانونی جنگ شروع کی، خواتین کیساتھ ایسے واقعات میں اضافہ لمحہ فکریہ ہے ۔صوبے پنجاب میں انسانی حقوق کی پامالی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے خواتین کے ساتھ ایسے واقعات میں تیزی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے، گھریلو تشدد، خواتین میں خودکشی کا رجحان، غیرت کے نام پر قتل اور کاروکاری کے واقعات میں شدت آئی ہے۔مینار پاکستان کے واقعہ کو ٹیسٹ کیس کے طور پر لے کر ذمہ داروں کو قانون کے مطابق ہر صورت سزا دینی چاہیے تاکہ آئندہ مائیں، بہنیں ،بیٹیاں سڑکوں پر خود کو محفوظ تصور کریں ۔
تازہ ترین