• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نوجوانوں کوکیا خبر، کیسے بنا اپنا وطن

تحریر: حافظ عبدالاعلیٰ درانی ۔۔۔ بریڈفورڈ
پاکستان مسلمانان برصغیر کو پلیٹ میں رکھ کر پیش نہیں کیا گیا ۔ 04اگست 1947ء میں ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آنے والے مسلمان مردوں ،عورتوں اور بچوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے گئے ۔یہ درد ناک کہانیاں اخبارات و جرائد کے علاوہ کتابوں میں بھی محفوظ ہیں ۔ان میں سے چند قارئین کی خدمت میں پیش کی جاتی ہیں: قیام پاکستان کے اعلان کے فورا بعد شمالی ہندوستان کے طول و عرض میں ہندومسلم فساد پھوٹ پڑے۔ انسانی اور اخلاقی قدریں محض قصہ ماضی بن کر رہ گئیں۔ سالہا سال سے اکٹھے رہنے والے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے۔ ان حالات میں میرے والد نے گاؤں کے دوسرے لوگوں سے مشورے کے بعد پاکستان کی طرف ہجرت کا فیصلہ کیا، لیکن ہندوں اور سکھوں کو یہ بات بھی گوارا نہ تھی اور عین ہماری روانگی کے وقت آس پاس کے گاؤں سے مسلح جتھے وہاں پہنچ گئے اور چشم زدن میں تمام مردوں کو تہِ تیغ کردیا۔ نوجوان لڑکیوں کو ان کی ماں کے سامنے اجتماعی ہوس کا نشانہ بنایاگیا۔ آج بھی جب میں ان دلخراش منظر کوچشم تصور سے دیکھتی ہوں تو یقین نہیں آتا کہ ابن آدم ذلت کی ان گہرائیوں تک بھی جاسکتاہے۔ میرا معصوم بھائی باقی بچوں کی طرح ڈرا سا کھڑا تھا ۔ جب اس نے چند حیوانوں کو میری طرف بڑھتے دیکھا جن پر میری منت سماجت کا کوئی اثر نہیں ہورہا تھا تو بھاگ کر میرے سامنے آگیا اور مجھے اپنی پناہ میں لے لیا۔ تبھی ایک منحنی سے ہندو نے اپنی کلہاڑی کا زوردار وار اس معصوم کی گردن پر کیا جس سے اس کا سر تن سے جداہو کر دور جاپڑا۔ اس پر اس ظالم نے شیطانی ہنسی ہنستے ہوئے کہا اگر مجھے معلوم ہوتاکہ تمہاری گردن اتنی کمزور ہے تو اپنی کلہاڑی تمہارے گندے خون سے بھرشٹ (ناپاک) نہ کرتا۔ اب مجھے اپنی کلہاڑی گنگاجل سے دھو کر پوتر (پاک)کرنی پڑے گی یہ کہہ کر وہ بھی شیطانی کھیل میں شامل ہوگیا۔یہ سب کچھ ہونے کے باوجود زمین پھٹی نہ آسمان ٹوٹ کر گرا۔ تمام بوڑھی عورتوں کو قتل کرنے کے بعد سب لڑکیوں کو وہ ایک حویلی میں لے گئے اور سب قطار بناکر کھڑے ہوگئے اور باری باری اپنے اشرف المخلوقات ہونے کا ثبوت فراہم کرتے گئے۔نئے آنے والے قطار کے آخر میں اپنی باری کے انتظار میں کھڑے ہوجاتے۔ اس عمل میں، میں زندہ بچ جانے والی چند خوش نصیب یا بدنصیبوں میں بھی شامل تھی۔ اس کے بعد میں ایک کے ہاتھوں سے دوسرے تک پہنچتی رہی۔ آخر سوہن سنگھ نے مجھے اپنے گھر ڈال لیا اور شادی بھی کرلی۔ سات سال بعد سوہن سنگھ سورگباش ہوگیا تو اس کے چھوٹے بھائی مہندر نے مجھ سے شادی کرلی۔(بحوالہ:1947 کے مظالم کی کہانی خود مظلوموں کی زبانی۔ از حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی۔) اب میرے اپنے سابق ضلع ہوشیار پور کی ایک کہانی بھی سن لیجیے:ہوشیار پور کی وہ رات بے حد طویل تھی ۔ چوک سراجاں پر حملے کی دوسری رات۔حملہ آوروں کی تعداد میں اضافہ ہورہاتھا۔ پہلے روز پچاس نوجوان شہید ہوئے۔ دوسرے روز ساٹھ، شام ہونے سے پہلے دوچار ایسے دلدوز واقعات ہوئے کہ مسلمانوں کی عزیمت اور جوش میں زبردست اضافہ ہوا۔ بزرگ اور نوعمر بھی میدان میں اترنے لگے۔ عصر کے وقت سے دست بدست لڑائی ہورہی تھی۔ ایک مسلمان نوجوان گرا، خون کے فوارے نکل رہے تھے۔ اس نوجوان کا گھر لڑائی کے میدا ن کے بالکل سامنے تھا۔ گھر کا ایک چھوٹا بچہ یہ منظر دیکھ رہاتھا۔ خواتین کو ہوش نہ رہا اور بچہ ابا ابا کہتے ہوئے دروازے سے نکل کر ہندوں اور سکھوں کی طرف بھاگا۔ سکھوں نے بچے کو پکڑ لیا اور چلا چلا کر اعلان کیا، دیکھو ہم آج مسلے کے بچے کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ مسلمان دم بخود تھے کہ یہ بچہ وہاں کیسے پہنچ گیا۔ سکھوں نے بچے کو اوپر اچھالا اور نیچے سے نیزے پر اسے لے لیا۔ بچے کی چیخ اس قدر دلدوز تھی کہ آسمان تک لرز اٹھا۔ ا س نے تڑپ تڑپ کر وہیں جان دے دی۔ (بحوالہ: اردوڈائجسٹ 2016)ایک کانوائے کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان آنے والے ایک نوجوان نے دورانِ راہ جوکچھ دیکھا وہ اس طرح بیان کرتاہے : راستے میں اِکا دکا مسلمان عورتیں ملتی گئیں ،انہیں بھی ساتھ لیتے آئے۔ سکھوں اور ہندوں نے اپنی درندگی کا جی بھر کر مظاہرہ کیا تھا۔ ہوشیارپور سے نکلتے وقت ایک عورت زخمی حالت میں پڑی ملی۔ والد صاحب نے اٹھا یا تو اس کی ٹانگیں اور سینہ کٹے ہوئے تھے۔ ایک مشہور خاندان کی نوجوان خاتون تھی ۔ ابا جی کو معلوم ہواتو ضبط نہ کرسکے ۔ اس خاتون نے صرف اتنا کہا آپ جائیے چاچا جی ،غم نہ کریں !۔اتنا سب کچھ ہوجانے پر پاکستان تو بن گیا۔ مجھے خوشی ہے میں امت کے کسی کام تو آئی۔نہر عبور کرکے ہم سب شدت تاثر سے کانپ رہے تھے کہ ایک طرف سے کراہنے کی آواز آئی۔ ایک بزرگ ڈاکٹر نصیرالدین آگے بڑھے ۔ انہوں نے پوچھا کون ہے، نسوانی آواز آئی۔ وہ فورا لپکے ۔ ایک خاتون خون میں لت پت پڑی تھی۔ پانی پلاکر مرہم پٹی کرنے کی کوشش کی مگر کچھ فائدہ نہ ہوا ۔ اس خاتون نے مرتے وقت صرف اتنا کہا شام چوراسی کی جنگ میں میرے والد اور سات بھائی ، چچا اور ان کے چار لڑکے شہید ہوگئے۔ تین بہنیں لڑتے لڑتے اور اپنی عزت بچاتے ہوئے نہر میں ڈوب گئیں ۔ والدہ کو انہوں نے قتل کردیا ۔ میں چھپ گئی ، انہوں نے مجھے ڈھونڈ نکا لا جب قریب آئے تو میں نے چھرے اور ٹوکے سے دو کو زخمی کردیا ۔ انہوں نے جھلا کر میرا یہ حشر کیا ہے ۔آخری سانس لینے سے پہلے اِس مظلوم خاتون نے کہا پاکستان کو میرا سلام پہنچا دیجئے ۔جالندھر کے مسلمانوں نے جس بے جگر ی، دردمندی اور زبردست قربانی سے تحریک پاکستان کے لئے کام کیا وہ تاریخ پاکستان کا روشن باب ہے۔ انہوں نے پاکستان کے اسلامی تشخص کو برقرار رکھنے کیلئے تحریک پاکستان کو تاریخی قربانیوں سے ہمکنار کیا ۔ جالندھر کیمپ کے واقعات بڑے دلدوز تھے ۔ مجھے یاد ہے ایک خاتون آخری دموں پر تھی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہم لوگ کانوائے پر پاکستان جا رہے ہیں تو اس نے بابا جی کو بلا کر کہا ، یہ میرے زیورات ہیں ۔ خاندان کے سارے مرد شہید ہوچکے ہیں۔ ان زیورات کو قائد اعظم تک پہنچا دیں ۔ شاید پاکستان کے کام آجائیں۔(بحوالہ:اردو ڈائجسٹ اگست 2016))مشرقی پنجاب میں خون کا جوسیلاب آیا اس کا کچھ اندازہ لندن ٹائمز کے نامہ نگار آین مورسن کی ذاتی مشاہدات پر مبنی ان تین رپورٹوں سے لگایاجاسکتاہے جو اس نے اگست اور ستمبر1947 کو جالندھر اور امرتسرسے اپنے اخبار کو ارسال کی تھیں۔پہلی رپورٹ میں وہ لکھتا ہے سکھ مشرقی پنجاب کو مسلمانوں سے خالی کروانے میں سرگرم ہیں۔ و ہ ہرروز بے دردی سے سینکڑوں افراد کو تہِ تیغ کرتے ہیں اور ہزاروں کو مغرب کی جانب بنوکِ شمشیر بھگادیتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کے دیہات اور گھر وں کو نذرآتش کررہے ہیں۔ اس ظلم وتشدد کو سکھوں کی اعلی قیادت نے منظم کیا ہے اور یہ خوفناک کام بڑے معین طریقے سے علاقہ بہ علاقہ کیاجارہاہے ۔ دوسری رپورٹ میں لکھتا ہے امرتسر میں 8اگست کے بعد مسلمانوں کے محلوں کے محلے دھڑا دھڑجلناشروع ہوگئے تھے اور لوگ پناہ کے لئے بھاگنا شروع ہوگئے ۔ 13اور 14اگست کو پورا امرتسر شعلوں کی لپیٹ میں آچکاتھا ۔ 15اگست کو امرتسر میں ہندوستان کا یوم آزادی بڑے عجیب طریقے سے منایاگیا۔سہ پہر کو سکھوں کے ایک ہجوم نے برہنہ مسلمان عورتوں کا جلوس امرتسر کے گلی کوچوں میں نکالا۔ ان کی آبروریزی کی اور پھر بعض کو کرپانوں سے ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور بعض کو زندہ جلادیا۔ تیسری رپورٹ میں وہ مسلمانوں کے ایک بیس میل لمبے قافلے کے بارے میں ایک خبران الفاظ میں بجھواتاہے اس قافلے میں بیس ہزار سے زائد افرا د تھے اور ان میں سے اکثر پید ل ہی پاکستان کی جانب بڑھ رہے تھے۔ ایسے ہی کئی اور قافلے مشرق سے مغر ب کی طرف رواں دواں تھے۔ آبلہ پا ، تھکان سے چور، بھوکوں کے مارے، سفر کی صعوبتوں سے نڈھال۔ دوماہ بعد وہ لکھتاہے 70لاکھ سے زائد مہاجرین گرتے گراتے پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ وہ بالکل بے سروسامان تھے۔ (جاری ہے)
تازہ ترین