• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں کاروباری اعتماد منفی 50 فیصد سے مثبت 9 فیصد پر آگیا

اسلام آباد( تنویر ہاشمی )پاکستان میں کاروباری اعتماد منفی 50فیصد سے مثبت 9فیصد پر آگیا اور اس میں ریکارڈ 59فیصد بہتری ہوئی ہے، اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مئی سے جولائی 2021کے دوران ملک بھر میں کیے جانے والے جامع بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں کارباری اعتماد میں بہتری کو تاریخی قراردیا گیا ہےجبکہ کاروباری ترقی کیلئےتین بڑے خطرات کی نشاندہی بھی کی گئی ، جن میں کرپشن 67فیصد ، غیر مستحکم توانائی اخراجات 66فیصدا ور کرنسی کی قدر میں کمی کو 60فیصد نے خطرہ قرارد یا جو کاروباری گروتھ کو سست روی کا شکار کر سکتے ہیں ، سروے کا جواب دینے والوں میں 10میں سے 9 نے کورونا وائرس کے بارے میں کہاکہ کورونا نے روزمرہ کاروبار کو مشکل بنادیا ہے، حالیہ سروے ملک کے اُن پانچ بڑے کاروباری شہروں میں کیا گیا جو پاکستان کے جی ڈی پی میں 80فیصد حصہ شیئرکرتے ہیں۔ سروے میں کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی اور فیصل آباد کے اہم مراکز کو فوکس کیا گیا۔سروے کے رائے دہندگان میں 40فیصد کا تعلق مینوفیکچرنگ،35فیصد کا تعلق خدمات اور25فیصدکا تعلق ریٹیلرز و ہول سیلرز کے شعبے سے تھا،حالیہ سروے میں ملک میں کاروباری برادری کے اعتماد میں گزشتہ سروے کے منفی سے مثبت میں تبدیل ہونے کی بڑی وجہ مینوفیکچرنگ، خدمات اور ریٹیل و ہول سیل کے شعبوں میں تاریخی اضافہ تھا۔ پہلے دو میں 65فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا(مینوفیکچرنگ کے شعبے میں منفی 48سے مثبت 17فیصد اور خدمات کے شعبے میں منفی 59سے مثبت 6فیصد)جبکہ ریٹیل و ہول سیل کے شعبے میں 44فیصد (منفی 44سے 0فیصد) اضافہ دیکھنے میں آیا۔ لاک ڈاؤن کی پابندیاں ہٹنے سے مینوفیکچرنگ کا شعبہ اپنے 100فیصد پیداواری صلاحیت پر واپس آگیا اور اب وہ لاک ڈاؤن کے دوران بھی اپنے مصنوعات فروخت کرنے کے قابل ہوگئے ہیں جس سے تمام کاروباری شعبوں پر مثبت اثرات پڑے ہیں۔کاروباری اوقات کم ہونے کی وجہ سے ریٹیلرز اور ہول سیلرز بڑے پیمانے پر کورونا کی پابندیوں سے متاثر ہوئے جس کے نتیجے میں آمدنی، نقد بہاؤاور دیگر مسائل پیدا ہوئے۔ اس شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کا ماننا ہے کہ اگلے چھ ماہ میں فروخت، منافع اور کیش فلو مزید بہتر ہوگا۔بہتر بی سی آئی انڈیکس پر تبصرہ کرتے ہوئے اوآئی سی سی آئی کے صدر عرفان صدیقی نے کہا کہ بی سی آئی سروے کے نتائج غیر ملکی سرمایہ کاروں سمیت کاروباری اعتماد میں بہتری کی نشاندہی کرتے ہیں۔ بہتر ایکسچینج ریٹ، تیز افراطِِ زر، شرح سود میں جزوی کمی کی وجہ سے بڑے اقتصادی اشاریوں کو چیلنج کرنے کے باوجودگزشتہ ویو19میں مایوسی کے برعکس بی سی آئی ویو20سروے کے نتائج کاروباری برادری کے آگے بڑھنے کی عکاسی کرتے ہیں۔اس امید اور جذبات میں تبدیلی کی اہم وجہ کاروباری برادری کا مستقبل کے بارے میں مضبوط تاثر ہے۔فعال معاشی اور سماجی پالیسی اقدامات کے ذریعے حکام کی طرف سے ویکسین کے اجراء کی حمایت کی وجہ سے حکومت اہم معاشی سٹیک ہولڈرز کے درمیان اعتماد پیدا کرنے میں کامیاب دکھائی دیتی ہے۔ کاروباری صورتحال مثبت20فیصد، متوقع فروخت کے حجم میں اضافہ مثبت 20فیصد،منافع میں اضافہ مثبت22فیصداور سرمایہ کاری میں اضافہ مثبت 19فیصد اضافہ ہوا،اوآئی سی سی آئی کے ممبران سرکردہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے جذبات جنہیں اس سروے میں شامل کیا گیا ہے نے بھی اس کاروباری تبدیلی سے فائدہ اٹھایا ہے اور 108فیصد بہتری دیکھی ہے، ویو 19میں 74فیصد منفی سے، تازہ ترین بی سی آئی ویو20 میں 34فیصدمثبت، مجموعی طور پر ملک بھر میں 9فیصد کو پیچھے چھوڑ دیاہے۔سروے کے نتائج پر تشویش کا اظہار کرنے والے جواب دہندگان پر تبصرہ کرتے ہوئے اوآئی سی سی آئی کے سیکرٹری جنرل عبدالعلیم نے کہاکہ سروے میں کاروباری ترقی کیلئے تین بڑے خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے،کرپشن(67فیصد)، غیر مستحکم توانائی کے اخراجات(66فیصد) اور کرنسی کی قدر میں کمی (60فیصد)جو ممکنہ طور پر پاکستان میں کاروباری نمو کو سست کرسکتا ہے۔سروے کے جواب دہندگان نے اگلے چھ مہینوں میں 25فیصد نے بہتری کی امید کا اظہار کیا، گزشتہ سروے میں منفی35فیصد شرح تھی، کاروباری کاموں میں توسیع پر39فیصد نے امید کا اظہار کیا گزشتہ سروے میں یہ شرح منفی 12فیصد تھی،نئی سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی پر 12فیصد نے بہتر امید کااظہار کیا، گزشتہ سروے میں یہ شرح منفی 31فیصد تھی۔

تازہ ترین