کراچی (ٹی وی رپورٹ) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان تمام سیاسی قیادت پر مشتمل مخلوط حکومت قائم کرنے کے لیے ہر ممکن مدد کر ے گا، جب تک تمام نسلی گروپس کو حکومت میں نما ئندگی نہیں ملے گی افغانستان میں استحکام قائم کرنا خواب ہو گا،پاکستان کے لیے یہ کوئی نئی صورتحال نہیں ہے ، جب اشرف غنی برسر اقتدار تھے تب بھی وزیر اعظم عمران خان نے انکلوسیو مخلوط حکومت قا ئم کرنے پر بات کی تھی ۔ فوادچوہدری نے کہا کہ کابل کی مو جودہ صورتحال سے پہلے بھی پاکستان انکلوسیو مخلوط حکومت قائم کر نے پر زور دیتا رہا ہے ۔ اشرف غنی کے علا وہ بد قسمتی سے سب جانتے تھے کہ افغانستان کے حل کے لیے فوجی حل تلاش کیا جا رہا ہے تاہم اشرف غنی خوش فہمی کا شکار رہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک انٹرویو میں کیا۔وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ اشرف غنی کیا سو چتے رہے ، ان کے ذہن میں کیا خیالات تھے ، بد قسمتی سے اگر انتخابات ملتوی ہوجا تے جیسا کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے پہلے مشورہ دیا تھا، ، افغانستان میں مخلوط حکومت جس میں تمام سیاسی قیادت شامل کرنے پر کام کیا جاتا،آج صورتحال مختلف ہو تی ۔ بد قسمتی سے سابق صدر اشرف غنی نے پاکستان کے ا س مشورہ پر کان نہ دھرے ۔وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان اس بات پر مضبوطی سے یقین رکھتا ہے کہ افغانستان میں استحکام اسی صورت ممکن ہے جب افغانستان میں تمام نسلی گروپس کو حکومت میں شامل کیا جائے چونکہ افغانستان بڑے پیمانے پرنسلی گروپس اور تقسیم کا شکار ہے ۔