• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افغانستان، ناکامیوں کا بوجھ امریکا کے 4 صدور پر، بھارت بھی مایوس

کراچی (داور اعظم) افغانستان کی تیزی سے بدلتی صورتحال نے جہاں دنیا کے مختلف ملکوں کو حیران و پریشان کر دیا ہے وہیں مبصرین افغانستان اور خطے کے مستقبل پر بھی مختلف آراء پیش کرتے نظر آ رہے ہیں، ان تمام باتوں کے درمیان غور کیا جائے تو امریکا کے 4 صدور جارج ڈبلیو بش، بارک اوباما، ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن نے پالیسی میں ایسے اقدامات شامل کیے جو بھارتی عزائم کیلئے ضروری تھے تاہم، یہ انہی امریکی صدور کی پالیسیاں ہی تھیں جن کی وجہ سے بھارتی مفادات کو نقصان ہوا اور بھارتی قیادت شدید مایوس بھی ہوئی۔ صورتحال اس قدر حیران کن ثابت ہوئی کہ کابل آمد کے موقع پر ملا برادر نے بھی حیرانی کا اظہار کیا کہ ہمیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ ہم اتنی جلدی افغانستان میں کامیاب ہو جائیں گے،اب چاہے نتیجہ کچھ ہو، لیکن الزامات کا کھیل تو کچھ عرصہ جاری رہے گا۔ اب جو نتائج نظر آنے لگے ہیں اس سے کہا جا سکتا ہے کہ بھارت کیلئے حالات مشکل ہونے جا رہے ہیں، 2001ء سے 2020ء تک امریکا افغانستان میں طویل ترین قیام کیلئے تیار نظر آیا اور نہ ہی وہ انخلاء کے نتیجے میں شکوک و شبہات کی وجہ سے پیدا ہونے والی تباہ کن صورتحال کا خمیازہ بگھتنے کو تیار نظر آتا ہے۔ آج اگر افغانستان کو دیکھیں تو نظر آئے گا کہ امریکا کے دو ٹریلین ڈالرز خرچ ہونے کے باجود لاکھوں لوگ تتر بتر ہوگئے اور فائدہ بھی کچھ نہیں ہوا۔ افغانستان میں کئی لوگ اپنے ہی ملک کی سابقہ قیادت سے مایوس نظر آتے ہیں جبکہ دنیا کے دیگر ملکوں نے بھی کچھ زیادہ مدد نہیں کی۔ تاہم، اس بات سے کوئی منہ نہیں موڑ سکتا کہ زیادہ تر ناکامیوں کا بوجھ امریکا کی یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں کے کندھوں پر ہے جنہوں نے افغانستان پالیسی کو اس انداز سے آگے بڑھایا، مصالحتی عمل میں بھی بے دلی سے کام لیا جبکہ آخر میں اس بحرانی انداز سے ملک سے انخلاء کیا۔ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد جارج بش نے افغانستان سے طالبان حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ تاہم، بش انتظامیہ پہلے ہی دوسرے محاذ پر مصروف تھی اسلئے افغانستان میں اپنی موجودگی محدود رکھی۔ اس دوران فضائی بمباری، مخصوص آپریشن فورسز کے بھرپور استعمال اور مقامی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کو ترجیح دی گئی۔ بھارت کیلئے یہ صورتحال خوش آئند تھی کیونکہ امریکا نے80 کی دہائی میں بھارت کو نظرانداز کرتے ہوئے مجاہدین کی حمایت کی تھی۔ طالبان بھارت کے دوست نہیں تھے جس کی وجہ 1999ء میں انڈین ایئر ویز کا طیارہ ہائی جیک کیے جانے کا واقعہ ہے ،طالبان کو حکومت سے ہٹانے کے بعد بش انتظامیہ نے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ سویلین نیوکلیئر معاملات کے باوجود امریکا نے بھارت کی افغانستان میں شمولیت پر محتاط رویہ رکھا جبکہ زیادہ تر توجہ عراق میں کارروائیوں پر مرکوز رکھی گئی۔ جارج بش کے بعد بارک اوباما کی حکومت آئی تو عراق سے امریکی فوج کا انخلا شروع ہوا، اس دوران افغانستان کی صورتحال بہت بگڑ چکی تھی، انہوں نے افغانستان اور پاکستان کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے بروس ریڈل کو مقرر کیا، رچرڈ ہالبروک کو دونوں ملکوں کیلئے مخصوص کنسلٹنٹ مقرر کیا گیا،بھارت کیلئے یہ صورتحال اچھی ثابت ہوئی کیونکہ دیگر کسی بھی امریکی صدر کے مقابلے میں اوباما کو بھارت بہتر سمجھتا ہے کیونکہ اوباما افغان جنگ پاکستان میں لیکر آئے۔ افغانستان اسی عرصہ کے دوران پاکستان کے مقابلے میں ایک مخالف ریاست بن کر سامنے آئی جس کے بعد نیٹو سپلائی لائن کو معطل کیا گیا، دو پاکستانیوں کو قتل کرنے کے الزام میں امریکی سفارتی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری اور بالخصوص امریکی فورسز کی جانب سے مبینہ طور پر پاکستان میں اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد میں ہلاک کرنے کا واقعہ بھی اوباما دور میں پیش آیا۔،بعد ازاں کیری لوگر بل میں سویلین نوعیت کی شقیں شامل کرکے پاکستان کو دبائو میں لانے کی کوششیں کی گئیں تاہم یہ سب کوششیں بے سود ثابت ہوئیں۔ یہ وہ وقت تھا جب اوباما کی پہلی صدارتی مدت مکمل ہو رہی تھی اور ان کی توجہ دوسری مدت پر تھی اسلئے افغانستان سے واپسی کا شوشہ چھوڑا گیا جس وقت ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے صدر منتخب ہوئے اس وقت بیشتر ممالک کیلئے داعش ایک خطرہ بنی ہوئی تھی۔

تازہ ترین