• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی دُنیا کے پانچ بڑے شہروں میں سے ایک ہے۔ گزشتہ مردم شماری کے مطابق کراچی دُنیا کا گیارہواں بڑا شہر قراردیا گیاہے۔ یوں تو کراچی کے کئی قدیم نام ہیں، مگر سندھ کے جنوب مغربی ساحل پر واقع بلوچ مچھیروں کی چھوٹی سی آبادی کا نام مائی کولاچی تھا۔ اس سے کچھ ہی فاصلے پر ماضی کی فعال بندرگاہ دیبل واقع تھی، جس کے ساتھ چھوٹا شہر بھنبھور واقع تھا۔

کہا جاتا ہے کہ قبل اَز اِسلام عرب تاجر دیبل کی بندرگاہ پر آیا کرتے تھے، جہاں سے وہ مالدیپ اور مالابار کا سفر کیا کرتے تھے۔وہ دُور دُور تک اپنا سامان فروخت کرنے کے لئے جایا کرتے تھے اور پرتگیزیوں سے بہت پہلے افریقہ، مشرق وسطیٰ سے چین کے ساحلوں تک کے نقشے اَزخود تیار کر چکے تھے۔ تین ہزار سال قبل عرب تاجر، عمان اور یمن سے چین کی بندرگاہ کینٹان میں اپنا سامان لے جا کر فروخت کرتے تھے۔ خاص طور پر چین میں ان تاجروں کا لایا ہوا خاص تحفہ لوبان اس وقت بہت مقبول تھا۔

آٹھویں صدی کے اوائل میں نوجوان عرب سپہ سالار محمد بن قاسم دیبل کی بندرگاہ پر لنگرانداز ہوا، اس نے خاصی جدوجہد کے بعد سندھ فتح کر لیا۔ ملتان تک کا علاقہ اسلامی سلطنت کا حصہ قرار پایا۔ اس فتح کے بعد سندھ اور اس کے اطراف کے علاقوں میں اسلام فروغ پانے لگا۔ جب مائی کولاچی سے اندرون سندھ بذریعہ خشکی کے راستے اور دریائے سندھ کےراستے تجارت کا سلسلہ شروع ہوا ،تب مائی کولاچی اور جزیرہ منوڑہ کی اہمیت دوچند ہوگئی۔ اٹھارہویں صدی میں اس علاقے پر مختلف یورپی لوگوں کی نظریں جمی ہوئی تھیں، جن میں پرتگیزی اور انگریز سرفہرست تھے۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اس دور میں مائی کولاچی سے مسقط اور دیگر خلیجی ریاستوں کےلئے تجارت میں اضافہ ہو رہا تھا۔

تیس کی دہائی میں جنرل چارلس نیپئر نے سندھ کوفتح کر کے کمپنی کی حکمرانی میں شامل کر لیا تھا۔ اس وقت حیدرآباد ،سندھ کا دارالخلافہ تھا۔ چوتھی دہائی کی شروعات میں کراچی کو سندھ کا دارالخلافہ بنایا۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد کراچی اور اس کے قریبی قصبوں اور ٹھٹھہ میں ہیضہ کی وباء پھوٹ پڑی تھی۔ مائی کولاچی کا نام کراچی اس طرح پڑا کہ ولندیزی اٹھارہویں صدی میں اُوپر سے گزر رہے تھے اوران کے ریکارڈ میں اس بستی کا نام کولاچی کے بجائے کراچی ریکارڈ ہوا تھا اس کو کمپنی بہادر نے بھی کراچی لکھنا شروع کر دیا تھا۔

کراچی میں جیسے جیسے تجارتی اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ویسے ویسے میں یہاں کلرکوں، منشیوں اور یگر ملازمین کی ضرورت ہوئی ،اس کمی کو پورا کرنے کے لئے گوا، بمبئی اور گجرات کے علاقوں سے کچھ خاندان ہجرت کر کے کراچی آئے اوریہاں ملازمت کرنے لگے ،جن میں عیسائی، اینگلو انڈین، پارسی وغیرہ شامل تھے۔ اس طرح چالیس کے عشرے میں کراچی مختلف مذاہب، زبانوں اور نسلوں سے تعلق رکھنے والوں کا شہر بن کر بتدریج ترقّی کرتا رہا۔ 

ابتدائی دنوں میں یہاں دس سے بارہ ہزار افراد پر مشتمل ایک قصبہ گوٹھ شمار ہوتا تھا۔ بعدازاں چالیس کے عشرے میں کراچی کی آبادی میں بھی خاصا اضافہ ہوا اور یہ قصبہ یا گوٹھ دو لاکھ افراد سے تجاوز کر گیا، اس دوران انگریزوں نے اس چھوٹے سے شہر کی حفاظت کے لئے قلعہ تعمیر کرایا۔ اس کے دو دروازے تھے ایک دروازہ کھارادر کہلاتا تھا جو سمندر کے سامنے کھلتا تھا اور دُوسرا میٹھادر کہلاتا تھا، جہاں سے میٹھا پانی فراہم ہوتا تھا۔ انگریزوں سے قبل سندھ پر سوما خاندان، ارغون ، ترکھان، سومرو ترک کلہوڑہ خاندان اور تالپور خاندان کی حکومت قائم تھی۔

انگریزوں نے کراچی کو دو حصوں میں تقسیم کیا تھا، اس کو سیاسی حدبندی کہا جا سکتا ہے۔ ایک حصہ شمال مغرب میں’’ بلیک ٹائون ‘‘کہلاتا تھا، جو کیماڑی سے سولجر بازار تک کا تھا۔ دُوسرا حصہ جو جنوب مشرقی حصہ تھا وہ وائٹ ٹائون کہلاتا تھا۔بلیک ٹائون میں ہندوستانی اورمختلف نسل کے لوگ تھے جبکہ وائٹ ٹائون میں صرف انگریز رہتے تھے۔ ایمپریس مارکیٹ صرف انگریزوں کے لئے مخصوص تھی، جبکہ سیرائی کوارٹر کے علاقے سے ہندوستانی باشندے سودا سلف خرید سکتے تھے۔ 1847ء میں جنرل چارلس نیپئر کے جانے کے بعد کمپنی بہادر نے سندھ کو بمبئی میں شامل کر دیا تھا۔ گورنر کا عہدہ ختم کر کے سندھ میں چیف کمشنر تعینات کر دیا گیا جو بمبئی سے ہدایات وصول کرتا تھا۔

پُرانے سندھ میں قبل اَز قیام پاکستان کراچی کی قدیم عمارتوں میں کوٹھاری بلڈنگ، موٹہہ پیلس، ایمپریس مارکیٹ، فیریئر ہال، ٹاور، پرانی کے پی ٹی بلڈنگ، فلیگ اسٹاف ہائوس، سندھ اسمبلی بلڈنگ، کورٹ بلڈنگ، سولجر بازار، سیرائی کوارٹرز، برنس روڈ پر واقع پرانی عمارتیں، اُردو بازار کے قریب واقع کبوتر چوک، فوارہ چوک، ڈینسو ہال، گرومندر، کے ایم سی بلڈنگ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ تیس کی دہائی میں کراچی سے باہر کے معروف علاقے، بازار وغیرہ میں سندھی ہوٹل، جمشید روڈ، گولی مار و دیگر شامل تھے۔

قیام پاکستان سے قبل کراچی میں میونسپل کا نظام متعارف ہو چکا تھا۔ سینیٹری کا نظام اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی گئی تھیں۔ شہر کو جدید بنانے کے لئے منصوبہ بندی جاری تھی۔ بجلی، پانی، ٹرانسپورٹ اور طبّی سہولیات درکار تھیں۔ اس دور میں کراچی میں تانگے چلا کرتے تھے ،بعد میں بگھی یا وکٹوریہ بھی چلنے لگی تھی اور محمد علی ٹراموے کا نظام بھی کراچی میں آ چکا تھا۔ صفائی اس قدر تھی کہ کراچی میں قانون تھا کہ گھوڑوں کو پیمپر باندھے جاتے تھے۔ خلاف ورزی پر لائسنس منسوخ کر دیا جاتا تھا۔ 

گھوڑوں اور مویشیوں کے پانی پینے کے لئے گرومندر، سولجر بازار، صدر، ایمپریس مارکیٹ، بندر روڈ پر بڑے حوض تعمیر کئے گئےتھے ،جہاں صاف پانی فراہم ہوتا تھا۔ تیس اور چالیس کے عشرےمیں وکٹوریہ روڈ،الفنسٹن اسٹریٹ، کنٹونمنٹ ایریا، سٹی اسٹیشن، سول لائنز، کراچی جم خانہ، پریڈی اسٹریٹ وغیرہ تعمیر ہو چکے تھے۔ اس دور میں انگریز خواتین اور حضرات الفنسٹن اسٹریٹ پر واقع دُکانوں سے شاپنگ کیا کرتے تھے۔ یہ دُکانیں بھی انگریزوں کی تھیں۔ متموّل مسلم باشندے اس طرف آتے ہوئے ہچکچاتے تھے، مگر سہمے سہمے آ بھی جاتے تھے۔ پیر حسّام الدین راشدی نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ،’’ اکثر سندھ کے زمیندار کراچی آتے تو الفنسٹن اسٹریٹ ضرور آتے وہ شلوار قمیض پر کوٹ پہنتے اور ٹائی باندھتے تھے۔‘‘ 

پارسیوں اور ہندو تاجروں نے کراچی میں اسکول، اسپتال اور کالج قائم کئے، جن میں ماما پارسی اسکول، ڈی جے سائنس کالج، این ای ڈی یونیورسٹی، لیڈی گراہم اسپتال اور سیونتھ ڈے اسپتال مشہور ہیں۔ خالق دینا ہال اور تھیوسوفیکل ہال بہت معروف تھے اور اس دور کی علمی، مذہبی اور سماجی سرگرمیوں کا مرکز تھے۔ بعدازاں صدر میں کٹرک ہال بھی تعمیر ہوا۔ جمشید روڈ، پیر کالونی، پرانا ناظم آباد، پرانا گولیمار میں بتدریج آبادی میں اضافہ ہو رہا تھا۔ بیش تر افراد اُترپردیش، دہلی اور بمبئی سے روزگار کی تلاش میں یا تجارت کے لئے کراچی میں آ کر رہائش پذیر ہونے لگے تھے، خصوصاً چالیس کے عشرے میں خاصی تعداد میں مسلمان کراچی میں مقیم ہو چکے تھے۔

قیام پاکستان کے اعلان کے ساتھ اگست 1947ء کے بعد بہت بڑی مسلم آبادی ہندوستان کے مختلف علاقوں سے پاکستان ہجرت کر کے آئی۔ یہ مہاجرین اقلیت میں تھے اور تحریک پاکستان کا ہراول دستہ تھےیہ اُترپردیش، مدھیہ پردیش، دہلی، مہاراشٹرا، بہار اور دیگر علاقوں سے کراچی میں آ کر آباد ہوئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق قیام پاکستان کے وقت کراچی کی آبادی تقریباً ساڑھے چارلاکھ تھی۔ 1951ء کی مردم شماری کے مطابق آبادی بارہ لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی۔ ساٹھ کی دہائی میں تئیس لاکھ سے زیادہ، ستّر کی دہائی میں چوالیس لاکھ سے زائد، اَسّی کی دہائی میں چوّن لاکھ سے زائد، نوّے کی دہائی میں پچانوے لاکھ کے قریب اور سال 2018ء کی مردم شماری میں کراچی کی آبادی ایک کروڑ اکیاون لاکھ بتائی گئی ہے۔ اس مردم شماری کے نتائج پر کراچی کے سیاسی سماجی اور دیگر حلقوں کے تحفظات ہیں، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کراچی کی آبادی ڈھائی کروڑ سے زائد ہے، تاہم معاملہ زیر بحث ہے۔

قیام پاکستان کے بعد کراچی کو پاکستان کا دارالخلاقہ قرار دیا گیا۔ کراچی میونسپل کارپوریشن کے پہلے منتخب میئر جمشیدنسر وانجی مہتا تھے۔ جمشیدنسر وانجی تعلیم یافتہ، سیاسی اور سماجی رہنما تھے۔ سندھ کی قانون ساز اسمبلی کے رُکن بھی تھے، انہوں نے کراچی کو باقاعدہ جدید بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہیں بابائے کراچی کہا جاتا ہے۔ انگریزوں نے کراچی کے محل و وقوع کی اہمیت کا اندازہ کرنے کے بعد اس چھوٹے سے شہر کو اپنا تجارتی اور دفاعی مرکز بنانے کے لئے منصوبہ سازی کی۔ وہ کراچی اوربمبئی کویکساں دیکھ رہے تھے۔ اس وجہ سے لاہور سے براہ راست کراچی ریلوے لائن تعمیرکرائی، بعدازاں ریلوے کو ہندوستان کے دیگر علاقوں سے جوڑ دیا گیا۔

ریلوے کی تعمیر کے بعد کراچی کی اہمیت دوچند ہوگئی۔ درحقیقت پہلی عالمی جنگ کے نقصانات اور دُوسری جنگ عظیم کے زبردست خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے انگریز حکمراں ہندوستان سے زیادہ سے زیادہ غلّہ اور سامان برطانیہ پہنچانا چاہتے تھے، اس لئے ریلوے کا نظام وضع کر کے کراچی بندرگاہ پر پوری توجہ مرکوز کی، اس کی بندرگاہ کو جدید بنایا اور اس کی توسیع کی۔جلد ہی کراچی کی بندرگاہ بحیرۂ عرب اور بحرِ ہند کی اہم بندرگاہوں میں شمار ہونے لگی۔ 

اس طرح کراچی بین الاقوامی بندرگاہ بن گئی اور اس خطّے کی سب سے اہم بندرگاہ شمار ہونے لگی۔یہ بندرگاہ قدرتی طورپر کٹے ساحل کے ساتھ ایسے ساحلی کٹائو پر واقع ہے، جہاں سونامی اور اُونچی اُونچی بپھری لہروں سے بچائو ہوتا ہے، یہ اس بندرگاہ کی بڑی خوبی ہے۔ اُنیسویں صدی کے آخری عشروں اور بیسویں صدی کے اوّلین عشروں میں برطانوی حکمرانوں نے کراچی کی بندرگاہ کو سب سے زیادہ استعمال کیا۔ یہ نہ صرف تجارتی بلکہ دفاعی طور پر بھی انگریزوں کے لئے بہت اہمیت کی حامل تھی۔ اس دور میں کراچی چیمبرز آف کامرس کی بلڈنگ تعمیر ہوئی اور تجارتی سرگرمیاں بہت بڑھ گئیں۔

قیام پاکستان کے بعد کراچی میونسپل کارپوریشن کے پہلے ناظم حکیم محمد احسن تھے، جبکہ پہلے میئر غلام علی اَلانہ تھے۔ اس دور میں کراچی گونا گوں مسائل کا شکار تھا۔ سب سے بڑا مسئلہ مہاجرین کی آبادکاری، پانی کی فراہمی اور صفائی ستھرائی کا تھا۔ کراچی کے اطراف بستیاں آباد ہو گئی تھیں۔ مہاجرین کے پاس روزگار نہیں تھا، ٹرانسپورٹ کا نظام بھی وسیع نہ تھا، وبائی امراض کے پھیلنے کا خدشہ تھا ،جبکہ ملیریا اور پیٹ کی بیماریاں پھیل رہی تھیں،تاہم ہندوستان کے مختلف علاقوں سے آنے والے مسلمان جو کراچی، حیدرآباد اور سکھر، میرپور خاص میں رہائش پذیر ہوئے، ان میں زیادہ تعداد خواندہ اور ہنرمند افراد کی تھی جو نامساعد حالات میں بھی اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی جدوجہد کر رہے تھے۔

 1960ء کا عشرہ سندھ بالخصوص کراچی کے لئے اس طرح اہم تھا کہ اس دور میں کراچی میں صنعتی کارخانے، کپڑے کی ملیں قائم ہونے لگی تھیں۔ تجارتی اور صنعتی سرگرمیوں میں اضافے سے شہر کی رونقیں بڑھنے لگیں، روزگار کے مواقعوں میں اضافہ ہوا۔ ٹیکسٹائل کی صنعت نے ترقّی کی، پاکستانی کپڑے کی مانگ بڑھنے لگی۔ کراچی انڈسٹریل ایریا میں بتدریج کارخانوں کی تعداد میں اضافہ عمل میں آیا۔ کہا جاتا ہے کہ جنوبی کوریا نے پاکستان کے دُوسرے پنج سالہ منصوبہ کا بلیو پرنٹ پاکستان سے حاصل کیا تھا۔ 

کراچی کی بتدریج صنعتی ترقّی کو مشرق بعید اور جنوبی ایشائی ممالک رشک کی نظر سے دیکھتے تھے، تب سے کراچی کو پاکستان کا معاشی حب کہا جانے لگا تھا۔ بلاشبہ ساٹھ کے عشرے کا کراچی، خطّے کا جدید شہر کہلاتا تھا، تاہم اس دور کے سیاسی مدّوجزر کراچی کے امن اور سماجی سیاسی ماحول کو متاثر کرتے رہے تھے اور شہریوں میں سیاسی اضطراب پایا جاتا تھا۔ اس دور میں کراچی میں حبیب بنک پلازہ، مزار قائد، مسجد طوبیٰ کی تعمیر شروع ہوئی۔

1970ء کا عشرہ ملکی سیاست، مشرقی پاکستان کی صورت حال اور ملک میں مارشل لاء کی وجہ سے شدید متاثر ہو رہی تھی اس کا براہ راست اثر کراچی پر بھی نمایاں ہو رہا تھا۔ ایسے میں پی پی پی کے قائد ذوالفقارعلی بھٹو نے عنانِ حکومت سنبھالی۔ بھٹو دور کے بعض سیاسی، معاشی اور سماجی اقدام سے کراچی کے عوام میں بے چینی پھیلنے لگی تھی۔ ان میں اُردو اور سندھی زبان کا مسئلہ زیادہ زور پکڑ گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لسانی مسئلے کو منطقی طورپر حل کرنے کے بجائے اس کو ہر دو جانب سے جذباتی مسئلہ بنایا گیا۔ ستّر کی دہائی میں کراچی میں نجی اور کمرشل تعمیرات کا ایک قابل ذکر سلسلہ دراز ہوا۔

دراصل اسی دور میں خلیجی ریاستوں میں روزگار کی تلاش میں جانے والے تارکین وطن کے زرمبادلے سے اس رُجحان کو مزید فروغ ملا، ویسے بھی کراچی میں آبادی میں اضافہ کی وجہ سے رہائش کا مسئلہ چلا آ رہا تھا۔ اس طرح کراچی میں فلیٹوں کی تعمیرات میں زیادہ اضافہ ہوا۔ اس دور میں پاکستان اسٹیل ملز کراچی میں بھی ضروری انفرااسٹرکچر کی تعمیر کا سلسلہ جاری تھا تو دُوسری طرف پاکستان ٹول فیکٹری میں بھی تعمیرات جاری تھیں، جبکہ زیادہ ہنرمند مزدور خلیجی ریاستوں میں کام کررہے تھے ایسے میں کراچی میں ہنرمند یا نیم ہنرمند مزدوروں کی کمی محسوس کی جا رہی تھی اس کمی کو پورا کرنے کے لئے ملک کے شمالی علاقہ جات کے پشتون محنت کش کراچی آنے لگے اور یہاں پختونوں کی آبادی میں بتدریج اضافہ ہونے لگا تھا۔

اُنیس سو اَسّی اور اُنیس سو نوّے کے عشرے، کراچی والوں کے لئے کسی ڈرائونے خواب سے کم نہ تھے۔ اَسّی کے عشرے کی ساتویں دہائی سےمہاجر قومی موومنٹ شروع ہوئی۔ دُوسری طرف اسی عرصے میں افغانستان میں نام نہاد اشتراکی انقلاب اور روسی فوجوں کی افغانستان میں آمد کی وجہ سے پاکستان میں دس لاکھ سے زائد افغان پناہ گزیں آگئے جن کی اکثریت کراچی میں آباد ہوئی۔ سپر ہائی وے پر واقع سہراب گوٹھ افغان مہاجرین کی سب سے بڑی بستی تھی۔ کراچی میں صرف افغان ہی نہیں آئے بلکہ اپنے ساتھ کلاشنکوف، ہیروئن، چرس اور دیگر سماجی مسائل بھی ساتھ لائے،جس کی وجہ سے کراچی میں نہ صرف لسانی فسادات، قتل و غارت گری برپا ہوئی بلکہ ملک کی بالخصوص کراچی کی معاشرت تبدیل ہوگئی۔ 

اس طرح ایم کیو ایم کو مفاداتی گروہ استعمال کرتے رہے یہ سلسلہ نوّے کے عشرے کے بعد بھی جاری رہا۔ کراچی نے قیام پاکستان کےبعد سیاست کے کئی رنگ دیکھے ہیں۔ اس وجہ سے کوئی اس شہر کو روشنیوں کا شہر کہتا ہے، کوئی شہر قائد کہتا ہے، کوئی منی پاکستان کہتا ہے، کوئی غریبوں کا شہر کہتا ہے۔ مگر بین الاقوامی میڈیا نے اس شہر پر دُنیا کا چوتھا سب سے خطرناک شہر کا ٹھپہ لگایا۔ ان بیس تیس برسوں میں ہڑتالوں، فسادات، دہشت گرد کارروائیوں کی وجہ سے کراچی کی معاشی ترقّی ساکت ہوگئی۔ 

بیش تر صنعتکار اپنے کارخانے دبئی لے گئے یا پھر ملک کے دیگر شہروں میں منتقل کر دیئے۔ تعلیمی ماحول بگڑ گیا۔ ہزاروں نوجوانوں پر مقدمات بنائے، انہیں ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک کیا گیا جبکہ ان میں اکثریت بے قصور نوجوانوں کی تھی۔ اسی دور میں کراچی کو جو نقصانات برداشت کرنے پڑے وہ ناقابل تلافی ہیں۔

اس تمام داستانِ خونچکاں کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اس دھماچوکڑی کی وجہ سے کراچی کے اصل مسائل نہ صرف صرفِ، نظر ہوگئے بلکہ ان کو حرفِ غلط کی طرح مٹا دیا گیا۔ اس طرح کراچی کے غیّور عوام کو جو حقیقت میں سادہ لوح ہیں بار بار استعمال کیا گیا اور بار بار نظرانداز کیا گیا۔ پہلی ضرب کراچی پر ساٹھ کی دہائی میں پڑی جب پاکستان کا دارالخلافہ کراچی سے اسلام آباد منتقل کیا گیا تھا،بعدازاں یہ سلسلہ دراز ہوتا گیا۔اگر غیرجانبداری اور تمام تاریخی حقائق کو مدنظر رکھ کر تجزیہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد پاکستان کی ترقّی، استحکام کے لئے مہاجرین کا جذبہ بہت نمایاں تھا۔

نوّے کے عشرے کے آخر میں ملک میں جنرل پرویز مشرف نے مارشل لاء نافذ کیا۔جنرل پرویز مشرف نے کراچی کی حالتِ زار دیکھ کر اس وقت کے میئر مصطفےٰ کمال کو کراچی کی ترقّی کے لئے بڑی کثیر رقم فراہم کی، اس کی بدولت کراچی میں کچھ فلائی اوورز تعمیر ہوئے، کچھ سڑکیں بہتر ہوئیں،تاہم قیام پاکستان کے بعد کراچی میونسپل کارپوریشن کے جتنے میئر آئے ان سب کو ایک ہی شکوہ رہا کہ کراچی کو ترقیاتی فنڈز فراہم نہیں ہوتے اگر ہوتے ہیں تو وہ قطعی ناکافی ہوتے ہیں۔

اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ کراچی کو وفاق اور سندھ کی صوبائی حکومتوں سے اکثر یہ گلہ رہا کہ اس کے ساتھ منصفانہ سلوک روا نہیں رکھا جاتا ہے۔ مثلاً 2018ء کی مردم شماری کے اعداد و شمار پر کراچی کے بڑے خدشات ہیں۔ یہ طے ہے کہ سرکاری اعداد و شمار سے کراچی کی آبادی زائد ہے۔ بہرحال یہ وقت کا تقاضا ہے کہ ملک کے سیاسی رہنما کراچی کے حقیقی مسائل کو حل کرنے کے لئے ضروری اقدام کریں۔ کراچی معاشی، تجارتی اور دفاعی لحاظ سے بہت اہمیت کا حامل ہے اور اس کے مسائل اس ملک کی لائف لائن ہیں۔

برسبیل تذکرہ مائی کولاچی ایک چھوٹی سی مچھیروں کی بستی ایک عظم شہر میں تبدیل ہوئی۔ اسی مائی کولاچی کا پس منظر یہ تھا کہ اس ضعیف مچھیرن کا ایک بھائی ساحل کے قریب مچھلیاں پکڑتے ہوئے آدم خور مگرمچھ کا نوالہ بن گیا تھا۔ اس کے کچھ عرصے بعد اس کا اکلوتا بیٹا بھی مگرمچھ کا شکار ہوگیا۔ اس اندوہناک واقعات کے بعد وہاں کے باشندوں نے اس ضعیف عورت کے نام پر اس بستی کا نام رکھا، مائی کولاچی جو اب کراچی ہےاس کا شمار دُنیا کے پانچ بڑے جدید شہروں میں ہوتا ہے۔