• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان پولیس سروس میں اگر اینٹی ڈکیٹ آپریشن ٹیم کی بات کی جائے تو اگر کوئی کپتان ہے تو وہ ایس ایس پی شکارپور تنویر حسین تنیو کو کہا جاسکتا ہے، جس نے مشکل ترین حالات میں کم وسائل ہوتے ہوئے وہ کارنامہ انجام دیا کہ سب حیران رہ گئے، دہشت اور خوف کی علامت بنے خطرناک اور بدنام زمانہ ڈاکوؤں کو مقابلے میں ہلاک کرنے کے بعد یہ بہادر، دلیر اور نڈر پولیس افسر ڈاکوؤں کے لیے خوف کی علامت بن گیا ہے ۔ 

آج شکارپور پولیس اور اس ٹیم کے کپتان تنویر حسین تنیو کے چرچے کراچی سے خیبر تک ہیں۔ بدنام زمانہ ڈاکو نظرو ناریجو سے جھنگل تیغانی اور جان محمد تیغانی کی ہلاکت تک درجنوں ڈاکوؤں کو ٹھکانے لگانے کا سہرا اس بہادر افسر کے سرجاتا ہے،جس نے سندھ پولیس پر ہونے والی تنقید کو تعریف میں بدل دیا ہے۔ کیوں کہ سندھ میں2018 کے بعد سے امن و امان کی بگڑتی صورت حال خاص طور پر اغوا برائے تاوان کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے پولیس کی مشکلات میں اضافہ کر رکھا ہے، اور سندھ میں جرائم کی وارداتیں اس قدر بڑھ گئیں کہ ڈاکو راج قائم ہونے کی باتیں ہونے لگیں اور پولیس اس دوران ڈاکوؤں کے خلاف کوئی بڑی موثر کارروائی نہ کرسکی۔ 

پولیس کی کمزور گرفت کے باعث شکارپور کشمور اضلاع اغوا برائے تاوان کی انڈسٹری بن گئے تھے، خواتین کی آواز کے ذریعے ملک کے مختلف علاقوں سے لوگوں کو جال میں پھنسا کر کچے میں بلا کر اغوا کرلیا جاتا، ان وارداتوں کے ساتھ ڈاکووں نے ہائی وے پر مسافروں کے سفر کو غیر محفوظ بنادیا اور اغوا کی فزیکل وارداتوں میں بھی اضافہ ہوگیا، بدنام زمانہ ڈاکو سوشل میڈیا پر جدید اسلحہ کے ساتھ پولیس افسران کو دھمکیاں دیتے رہتے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں اضافہ ہوتا رہا، کشمور میں ڈاکووں کے خلاف ایس ایس پی امجد احمد شیخ کے آپریشن کے بعد جڑواں ضلع شکارپور جو پہلے ہی متاثر تھا، وہاں صورت حال مزید خراب ہونے لگی۔ 

شکارپور جہاں گزشتہ دو تین سالوں میں پولیس کو بہت زیادہ قیمتی جانی نقصان اٹھانا پڑا، متعدد افسران اور جوان شہید ہوئے، ایسا ہی ایک واقعہ تین ماہ قبل 23 مئی کو اس وقت پیش آیا، جب پولیس اے پی سی چین والی بکتر بند کے ساتھ شکارپور کچے کے علاقے گڑھی تیغو میں 6 مغویوں کی بازیابی کے لیے پہنچی تو ڈاکوؤں نے جدید اسلحے سے ایک بکتر بند پر حملہ کرکے دو پولیس اہلکاروں سمیت 3 افراد کو شہید کردیا اور بکتر بند پر قبضہ کرکے ڈاکو پولیس کی جیکٹس پہن کر گاڑی کے اوپر چڑھ کر خوشی میں ڈانس اور فائرنگ کرتے رہے ، ڈاکووں نے پولیس کو دھمکی بھرا وڈیو پیغام بھی دیا کہ اگر دوبارہ آئے تو ایسا ہی ہوگا اور وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کردی، جس کا وزیراعظم عمران خان نے نوٹس لیا وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کو کراچی بھیجا اور وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کو اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی، جب کہ اس واقعہ کے بعد سندھ حکومت میں بھی ہلچل مچ گئی۔ 

بعد ازاں اینٹی ڈکیٹ آپریشن کے ماہر تنویر حسین تنیو کو ایس ایس پی شکارپور تعینات کیا گیا، حکومت اور پولیس چیف کا یہ فیصلہ اس حوالے سے سو فی صد دُرست تھا کہ ان افسران کو اس علاقے کے بارے میں بہت زیادہ علم تھا اور مظہرنواز شیخ ڈی آئی جی لاڑکانہ کے ساتھ شکارپور سمیت دیگر اضلاع میں ایس ایس پی بھی رہ چکے ہیں، جب کہ تنویر حسین تنیو نے شکارپور کچے میں ماضی میں متعدد کام یاب آپریشن کیے ہیں اور وقت نے اس فیصلے کو دُرست ثابت کیا۔ 

ان دونوں افسران نے شکارپور پہنچ کر آپریشن کے حوالے سے صورت حال کا جائزہ لیا اور جڑواں شہر کشمور کے ایس ایس پی امجد احمد شیخ کو بھی مشاورت میں شامل کیا، تاکہ کشمور اور شکارپور کچے کے راستے مکمل سیل کیے جاسکیں، جس کے بعد نئی ٹیم نے اپنی حکمت عملی کے تحت ٹارگیٹڈ آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ ابتدائی طور پر تو آپریشن کمانڈر تنویر حسین تنیو نے مقابلے کے دوران تین ڈاکو ہلاک کرکے کچے میں موجود ڈاکووں کو اپنی آمد کا پیغام دے دیا اور اپنا مستقل کیمپ گڑھی تیغو کچے میں قائم کرکے ٹارگیٹڈ آپریشن کا آغاز کردیا۔ 

تنویر حسین تنیو کا کہنا ہے کہ’’ میں ڈاکوؤں کی تعداد، جگہ موقع اور صورت حال دیکھ کر آپریشن کی حکمت عملی مرتب کرتا ہوں اور میرا آپریشن چار مرحلوں پر مشتمل ہوتا ہے، کچھ چیزیں میڈیا سے شئیر کرتا ہوں کچھ ان کیمرہ ہوتی ہیں۔‘‘ شکارپور میں تین ماہ کے دوران پولیس نے یوں تو متعدد کامیابیاں حاصل کیں، لیکن سب سے اہم اور بڑی کام یابی پولیس کو اس وقت ملی جب گزشتہ دنوں رات گئے شکارپور کچے کے علاقے ناپر کوٹ میں پولیس اور ڈاکووں کے درمیان مقابلے میں دو بدنام زمانہ اور پولیس کو انتہائی مطلوب ڈاکو جھنگل تیغانی اور جان محمد تیغانی فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے۔ 

ڈاکووں کی ہلاکت پر آپریشن ٹیم نے اپنے کمانڈر کے ساتھ مل کر خوشی میں فائرنگ کی اور ایک دوسرے کو گلے لگا کر مبارکباد دی، رات گئے کا یہ لمحہ پولیس کے لیے یادگار اور تاریخی تھا، جسے آپریشن میں شامل پولیس افسران اہل کاروں نے اپنے موبائل کیمروں میں محفوظ کیا اور آپریشن کمانڈرکے ساتھ کچے کے اس مقام پر سیلفیاں بھی بنوائیں، کیوں کہ یہ کچے کا وہ علاقہ تھا ، جہاں ڈاکو اکثر پولیس کو اس جگہ آنے کا چیلنج کرتے تھے۔ 

تنویر حسین تنیو کے مطابق مارے جانے والے ڈاکو ڈی ایس پی راو شفیع اللہ سمیت متعدد پولیس اہلکاروں کی شہادت میں ملوث تھے، دوسری جانب ڈاکووں کی ہلاکت کے بعد وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے تنویر حسین تنیو اور ان کی ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے بدنام زمانہ ڈاکو جھنگل تیغانی اور اس کے ساتھی جان محمد تیغانی کے مارے جانے پر ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ 

ترجمان پولیس کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے بدنام زمانہ دو ڈاکؤوں کو پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے پر پولیس پارٹی کے لیے پچاس لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا۔ وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ دونوں ڈاکوؤں کے قتل سے پولیس کا مورال بلند ہوا ہے۔ مقابلے میں حصہ لینے والی پولیس پارٹی کو تعریفی اسناد بھی دی جائیں گی، جب کہ آئی جی سندھ مشتاق احمد مہر نے تنویر حسین تنیو سے رابطہ کیا اور کام یابی پر شکارپور پولیس کو شاباش دی۔ آئی جی سندھ نے ایس ایس پی شکارپور اور پولیس ٹیم کے لیے پچیس لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا۔

دونوں ڈاکووں کی ہلاکت کی خبر میڈیا اور پرنٹ میڈیا کی شہہ سرخیوں میں آگئی اور سندھ سمیت ملک بھر سے پولیس افسران کی جانب سے آپریشن کمانڈر کو شاباش دی گئی۔ گزشتہ دو سے تین ماہ کے دوران اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں کمی کے ساتھ پولیس کے آپریشن کے باعث ڈاکو دباؤ کے تحت مغویوں کو چھوڑنا شروع ہوگئے ہیں۔ اس وقت بھی شکارپور کچے کا علاقہ گڑھی تیغو، کشمور کا علاقہ درانی مہر ڈاکووں کے حوالے سے بہت خطرناک ہے۔ 

ترجمان پولیس کے مطابق شکارپور ضلع میں تین ماہ کے دوران 12 ڈاکو مارے گئے، درجنوں زخمی اور گرفتار ہوئے ہیں۔ حالیہ مقابلے میں مارے جانے والے دونوں ڈکیت علاقے میں خوف کی علامت سمجھے جاتے تھے اور دونوں ڈاکو قتل، اقدام قتل، ڈکیتی اغوا برائے تاوان، پولیس مقابلوں اور دیگر سنگین جرائم میں مجموعی طور پر درجنوں مقدمات میں شکارپور اور کشمور پولیس کو مطلوب تھے۔ ڈی آئی جی مظہر نواز شیخ کی جانب سے ڈاکو جنھگل تیغانی پر ایک کڑور اور ڈاکو جان محمد تیغانی پر 50 لاکھ روپے انعام رکھنے کی سفارش کی گئی تھی۔ 

مارے جانے والے ڈاکو اکثر پولیس افسران اور پولیس کو جدید اسلحہ کے ساتھ دھمکیاں دیتے اور وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرتے تھے ۔ سندھ حکومت نے شکارپور کچے کے علاقوں میں ڈھائی سو کلو میٹر سڑکیں بنانے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ کچے کے لوگوں کی مشکلات کا ازالہ ہو، پولیس اپنا کام جاری رکھے گی، امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے گی۔ جرائم اور معاشرتی برائیوں کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ،شکارپور ضلع کو مثالی امن کا گہوارہ بنائیں گے۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید