• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چھبیس ویں برسی پر خصوصی مضمون

تحریر…حبیب الدین جنیدی

ہر سال ستمبرکا مہینہ شروع ہوتے ہی ذہن میں چند سانحات اور ناخوشگوار یادیں تازہ ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ 11ستمبر 1948ء کو مسلمانانِ ہند کے سب سے بڑے قائد بیرسٹر محمد علی جناح ہم سے جُدا ہوئے اور ایک نوزائیدہ مملکت اوراُس کے عوام آزاد ہوتے ہی بے آسرا ہوگئے۔ یہ 11ستمبر 2012ء ہی کا منحوس دن تھا کہ جب علی انٹرپرائز سائٹ بلدیہ ٹائون میں ایک سانحہ وقوع پذیرہوا جس میں 260 بے گناہ مزدور کارخانہ کی قیدخانہ جیسی عمارت میں پھنس کر جل کر شہید ہوگئے اورہمارے ملک کی انتظامی صلاحیتوں پر ہمیشہ کے لئے ایک انتہائی بدنُما داغ چھوڑ کر ہم سے جُدا ہوگئے۔ 9/11ورلڈ ٹریڈ ٹاور کا ناقابل فراموش واقعہ بھی ہوا جس کے نتیجہ میں ہزاروں لوگ جو بحرکیف انسان تھے ہلاک ہوئے، افغانستان پر امریکی افواج حملہ آورہوئی، دہشت گردی میں شدت پیدا ہوئی اور افغانستان اور پاکستان میں اس جنگ کے نتیجہ میں لاکھوں لوگ زندگی کی بازی ہار بیٹھے، جس کا سلسلہ خدا کرے کہ اب اختتام کو پہنچے۔ تاریخ میں ستمبر کے مہینہ میں ہمیں کئی ایسی شخصیات کے نام بھی ملتے ہیں کہ جن کے بچھڑ جانے سے معاشرہ غم و اندوہ سے سوگوار ہو جاتا ہے۔ مزدور رہنمائوں نے اس ملک میں محنت کش عوام کے حقوق کی جنگ میں حصہ لیتےہوئے قید و بند کی طویل صعوبتیں برداشت کیں، ان کے خاندان معاشی تباہی و بربادی کے شکار ہوئے لیکن اُنہوں نے جدوجہد کے راستہ کو کبھی ترک نہیں کیا۔ ان مزدور رہنمائوں میں ایک بہت بڑا نام عثمان غنی شہید کا ہے کہ جنہوں نے اس جدوجہد میں اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کر دیا اور دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ آج اُن کی 26ویں برسی ہم منارہے ہیں۔ عثمان غنی بنیادی طور پر پاکستان کی مزدور تحریک اور پاکستان پیپلزپارٹی سے وابستہ تھے۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز مسلم کمرشل بنک لمیٹڈ میں ملازمت اختیار کرنے سے کیا۔ سوچ اور فکر کے اعتبار سے وہ سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام کے شدید ترین مخالفین میں سے تھے۔ اُن کی سوچ اور محنت کش طبقہ سے والہانہ وابستگی کی بنیادی پر وہ 1972ء میں مسلم کمرشل بنک آف پاکستان اسٹاف یونین کے مرکزی صدر منتخب ہوگئے اور پھر اس طرح اُن کی جدوجہد سے بھرپور زندگی کا ا ٓغاز ہوتا ہے۔ انہوں نے ملازمین کے مفادات کی جنگ کو ہمیشہ دلیری کے ساتھ لڑا۔ اپنے ادارہ مسلم کمرشل بنک کے ملازمین کے حقوق کے لئے اُنہوں نے جو جدوجہد کی وہ ناقابل فراموش ہے۔ ملازمین کے مطالبات پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کے الزام میں اُن کی پہلی گرفتاری 1973ء میں اُس وقت عمل میں آئی کہ جب وہ ملازمین کے لئے پرافٹ بونس کے حصول پر زور دینے کے لئے ایک احتجاجی جلسہ عام سے بنک کے مرکزی ہال میں خطاب کر رہے تھے۔ بنک انتظامیہ کی ایماء پر پولیس فورس لاٹھی چارج کرتے ہوئے اسٹیج پر چڑھ گئی اور رات کی تاریکی میں اُنہیں سینٹرل جیل کراچی منتقل کر دیا گیا۔ عثمان غنی نہ صرف یہ کہ مسلم کمرشل بنک کے مقبول ترین رہنمائوں میں سے ایک تھے بلکہ اُن کی جدوجہد کے نتیجہ میں اُنہیں پاکستان کی بینکنگ انڈسٹری کی ٹریڈ یونینز اورمزدور تحریک میں بھی ایک نمایاں مقام حاصل ہوا۔ شہید عثمان غنی ٹریڈ یونین تحریک میں بھرپورحصہ لینے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی جمہوری سیاست کے بھی ایک انتہائی فعال، متحرک رہنما تھے۔ انہوں نے جمہوریت کی بحالی کے لئے محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کی قیادت میں بھرپور حصہ لیا اور اس ضمن میں اُنہیں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ اُن کی جمہوری تحریک کے لئے خدمات کو محترمہ شہید بے نظیر بھٹو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھیں اور انہوں نے انہیں دو مرتبہ عام انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے ٹکٹ سے بھی نوازا تھا۔ شہید عثمان غنی نہ صرف یہ کہ فوجی ڈکٹیٹرز اور مسلم لیگ (ن) کے اَدوارِ حکومت میں مزدور طبقہ کے حقوق کا دفاع کرتے ہوئے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں بلکہ خود اپنی پارٹی پاکستان پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں بھی محنت کشوں کے مفادات پر سمجھوتہ کے بجائے جیل جانے کو ترجیح دیتے تھے۔ اُن کی زندگی کی آخری گرفتاری فروری 1991ء میں نوازشریف کے دورِ حکومت میں اُس وقت عمل میں آئی کہ جب پاکستان کی 160 سے زائد قومی ملکیتی ادارہ جات کی سی بی اے یونینز نے پرائیویٹائزیشن کے خلاف ایک ایکشن کمیٹی بنا کر ایک دن کی پورے ملک میں مکمل ہڑتال کی، اسی پاداش میں شہید عثمان غنی اور راقم الحروف کو کئی ماہ تک جیل میں پابندِ سلاسل رکھا گیا، اس عرصہ میں حکومتِ وقت نے مسلم کمرشل بنک کو پرائیویٹ سیکٹر کے ہاتھوں بیچ دیا۔ اب حالات تبدیل ہو چکے تھے، ادارہ کے ملازم دُشمن ماحول اور پرائیویٹ بنک انتظامیہ کے مزدوردُشمن رویہ کے باوجود عثمان غنی نے انتہائی تحمل اور بردباری سے کام لیا، نئے حالات کو سمجھا، نئی حکمت عملی مرتب کی محنت کشوں کی بکھری ہوئی وقت اور ٹریڈ یونین کی کھوئی ہوئی ساکھ کوبحال کر کے محنت کشوں کو دوبارہ متحد کر لیا اور انتہائی مختصر عرصہ میں اپنے بنک میں ٹریڈ یونین کو ایک مرتبہ پھر ناقابل تسخیر قوت کے طور پر کھڑا کر دیا۔ عثمان غنی اپنی زندگی کے ایک نئے اور پُرعزم دور کا آغاز کر چکے تھے لیکن مزدور تحریک اور جمہوری نظام کی دُشمن قوتیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ کچھ اورہی عوام دُشمن فیصلہ کر چکی تھیں۔ یہ 17ستمبر 1995ء کی ایک منحوس صبح کا واقعہ ہے کہ شہید رہنما اپنی رہائش گاہ چنیسر گوٹھ سے اپنے دفتر کے لئے روانہ ہوئے جونہی اُن کی کار کالا پُل کے وسط میں پہنچی تو نامعلوم سفاک قاتلوں نے حملہ کر دیا اورمزدوروں کے اس بے لوث رہنما کو محنت کشوں سے ہمیشہ کے لئے جُدا کر دیا۔ (اناللہ وانا الیہ راجعون)۔


گو کہ شہید عثمان غنی اب ہمارے درمیان موجود نہیں لیکن اُن کی یاد اور اُن کی قربانیاں جو کہ انہوں نے اس معاشرہ میں مزدوروں کے حقوق اور جمہوریت کی بحالی کے لئے دیں وہ ہمیشہ تاریخ میں زندہ رہیں گی۔ مزدور طبقہ کے لئے یہ ایک امر بھی باعث اطمینان ہے کہ جدوجہد اور قربانیوں کے جس علم کو عثمان غنی نے بلند کیا تھا اُسے اُن کے فرزند سعید غنی نے تھام لیا ہے۔ سعید غنی کا شمار الحمد اللہ اس وقت ملک کی سیاست کے انتہائی فعال، متحرک اور ترقی پسند رہنمائوں میں ہوتا ہے۔ وہ بحسن خوبی پاکستان پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن کے صدر اور صوبائی وزیر محنت و اطلاعات کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور ہم مزدور طبقہ کی جانب سے شہید کے فرزند کی کامیابی کے لئے اُن کے شانہ بشانہ اور دُعاگو بھی ہیں۔

ملک بھر سے سے مزید