• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کا بھرپور انداز میں مقابلہ کرینگے، جام کمال

کراچی (ٹی وی رپورٹ)وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن نے جو تحریک عدم اعتماد پیش کی ہے اس کا بھرپور انداز میں مقابلہ کریں گے ہر طرح سے مطمئن ہوں پہلے بھی اس طرح کی چیزیں سامنے آتی رہی ہیں ۔ آپ کو یاد ہوگا فارن بجٹ کے دوران ہنگامہ ہوا تھا اپوزیشن نے جو ہنگامہ آرائی کی تھی وہیں اپوزیشن نے اس بات کا ارادہ کیا تھا کہ ہم گورنمنٹ کو ٹف ٹائم دیں گے اور جو بھی موقع ہمیں ملے گا چاہے وہ عدم اعتماد کا ہویا بجٹ کا ہو محاذ آرائی کریں گے یہ اسی کا ایک نتیجہ ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک انٹرویو میں کیا۔جام کمال خان نے کہاکہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں ان کا سوشل میڈیاپر میسج ہے کہ اپوزیشن کے اراکین کو بہت احتیاط سے آگے چلنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اگر کچھ لوگ ان کے ساتھ رابطے میں ہیں تو ہوسکتا ہے کہ یہ ایک ناکامی کی طرف جائے مجھے لگ رہا ہے کہ شاید اگر اپوزیشن کے ساتھ کچھ لوگوں نے خفیہ انداز میں بات کی ہوگی یا اپنے تاثرات ان کے سامنے بیان کیے ہیں میں سمجھتا ہوں اس کو بنیاد بنا کر انہوں نے اس بات کو آگے بڑھایا ہے۔ ہمارے ساتھ جو اتحادی ہیں ان سے آج بھی ملاقات ہوئی ، پی ٹی آئی ، عوامی نیشنل پارٹی ، جے ڈبلیو پی یہ سب ہمارے ساتھ ہیں ایک اتحادی پارٹی بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کا ایک دھڑا ہمارے ساتھ ہے جن کے کچھ تحفظات ہیں ہماری اتحادی اسد بلوچ انہیں کچھ حوالے سے تحفظات ہیں ہوسکتا ہے کہ یہ رابطہ ان کے ساتھ ہو اور ممکنہ طور پر ایسے عناصر بھی ہیں جن کو آپ نے پہلے بھی دیکھا ہوگا جو بی اے پی کے اندر ہوتے ہوئے بھی ہمیشہ کھل کر اختلافات بلوچستان عوامی پارٹی کے میرے ساتھ یا بہت ساری چیزوں کے حوالے سے شیئر بھی کیا ہے۔ہماری کوشش ہوگی جو اتحادی ہیں جو ہماری اسٹرنتھ ہے چالیس کی وہ پوری لینے میں کامیاب رہیں۔ اسپیکر کیوں ناراض ہیں اس کے جواب میں کہا کہ قدوس بزنجو ہمارے ایسے دوست ہیں جو پہلے دن سے ہم سے ناراض ہیں وہ کبھی خوش ہوجاتے ہیں پھر ناراض ہوجاتے ہیں ،بلوچستان کے حوالے سے چھوٹی سی نیوز بھی ہمیشہ بہت بڑی سرخی بن جاتی ہے اور پھر اس کا چین ری ایکشن شروع ہوجاتا ہے۔ صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ ہیں اور یقینی طور پر ان کے ساتھ ایک بہت بڑا وفد باقی لوگوں کی صورت میں ہے جس میں ایم این ایز سینٹرز بھی ہیں تو کچھ لوگوں کا اختلاف ہوگا تو وہ لوگ آکر بات کریں گے۔

اہم خبریں سے مزید