• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وسیم خان انگلش ٹیم کی پاکستان آمد اور سیریز کھیلنے سے متعلق پرامید


پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) وسیم خان نے کہا ہے کہ پرامید ہیں کہ انگلش ٹیم پاکستان آئے گی اور کھیلے گی۔

سی ای او وسیم خان نے ورچوئل پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ نیوزی لینڈ کی جانب سے دورہ ختم کرنے پر سری لنکا اور بنگلا دیش سے رابطہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں نے رضامندی ظاہر کی، مگر وقت کی قلت اور لاجسٹک مسائل کے باعث یہ ممکن نہیں ہوسکا۔

وسیم خان نے مزید کہا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں میں بہت کچھ ہوا ہے، امید ہے کہ انگلش ٹیم پاکستان آئے گی اور کھیلے گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ کا پاکستان سے معلومات شیئر نہ کرنا مایوس کن ہے، کھلاڑیوں کو صدارتی سطح کی سیکیورٹی دی جارہی تھی۔

پی سی بی کے سی ای او نے یہ بھی کہا کہ ورلڈکپ میں نیوزی لینڈ کے ساتھ کھیلنے کا اس وقت کوئی ایشو نہیں، ہم نے پاکستان میں کرکٹ کے لیے دن رات ایک کیا ہے اور بہت محنت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمعے کی صبح سیکیورٹی ایکسپرٹ ریگ ڈیکاسن نے فون کر کے صورتحال بتائی، ان سے تمام صورتحال جان کر سیکیورٹی عہدیداروں سے بات کی۔

وسیم خان کا کہنا تھا کہ چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈ وائٹ کی کال آئی کہ یہ تھریٹ ملی ہیں، انہوں نے بتایا وزیراعظم نیوزی لینڈ نے انہیں واپس آنے کا کہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مایوس کن تھا کہ ہم سے معلومات شیئر نہیں کی گئیں، ہم سے معلومات شیئر کی جاتیں تو امکان تھا کہ ہم خدشات دور کرتے۔

پی سی بی کے سی ای او نے کہا کہ ہم نے ٹور آن رکھنے کی بہت کوشش کی، ہم نے یقین دلایا کہ پاکستان محفوظ ملک ہے، یہاں کھلاڑیوں کو صدارتی سطح کی سیکیورٹی فراہم کی جارہی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو وہ سیکیورٹی دی جو گزشتہ برس شاہی خاندان کے افراد کو ملی تھی، تین روز ٹریننگ ہوئی کسی نے شکایت نہیں کی سب مطمئن تھے۔

وسیم خان نے کہا کہ مایوس کن ہے کہ ہمارے ملک میں ٹور ختم کردیا گیا، رپورٹ ہرصورت میں شیئر کی جانی چاہیے، شیئر نہ کرنا زیادتی ہے، یک طرفہ ٹور ختم کرنا افسوسناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم پاکستان آئے گی اور وہ یہاں کھیلیں گے، انگلینڈ نے دھماکوں کے چند ہفتوں بعد بنگلادیش کا دورہ کیا اور کرکٹ کھیلی۔

اُن کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی ایکسپرٹ ریگ ڈیکاسن کو بھی تفصیل سے نہیں بتایا گیا، صرف پانچ ممالک کے ایکسپرٹس کے پاس یہ تفصیلات ہیں۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید