• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بہت ہی عزیز، امّی پاپا......السّلامُ علیکم! آپ دونوں پر اللّٰہ تعالی کی بے شمار رحمتیں برسیں۔ برسوں بعد قلم اٹھا کر یہ سوچ رہی ہوں کہ آپ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے صفحات پہ اپنے احساسات کس طرح رقم کروں۔ آپ تک یہ خط تو نہیں پہنچے گا، لیکن یقینِ کامل ہے کہ دلی جذبات اوردُعائیں ضرورپہنچیں گی۔

عزیز از جان، امّی، پاپا!آپ نے ہم پانچ بہنوں اور ایک بھائی کی جس قدرپیارو محبّت اور شفقت سے پرورش کی، اُس کا قرض اتارنا ہمارے لیے ممکن ہی نہیں۔ آپ نے بے لوث محبّت، اَن تھک محنت اور اپنے بہترین عمل سے ہم سب کی بھرپور تربیت کی، کبھی بیٹے کو بیٹیوں پر فوقیت نہیں دی۔ سب کو یک ساں توجّہ اور محبت دی۔ ہمارے لیے بے حد تکلیفیں اٹھائیں۔ وقت اس قدربرق رفتاری سے گزرا کہ پتا ہی نہیں چلا اور دیکھتے ہی دیکھتے آپ سن رسیدہ ہوگئے اور ہم ادھیڑ عُمر، مگر آپ کے سائے میں ہم خود کو ہمیشہ بچّہ ہی سمجھ کر اپنا ہر دُکھ تکلیف آپ کے سامنے رکھ دیتے۔ 

آپ کی موجودگی ہمیں پُرسکون رکھتی۔ اکثر لاڈ پیار میں آپ سے بدتمیزی بھی کرلیتے، جس کا اب شّدت سے احساس ہوتا ہے کہ اب تو بس یادیں ہی رہ گئی ہیں۔ مگر سچ تو یہی ہے کہ سارے چاؤ چونچلے والدین ہی کے دَم قدم ہی سے ہوتے ہیں۔ اب تو بس ایک ہی اُمید ہے کہ اللہ پاک ایک دن ہم سب کو پھر سے جنّت میں ضرور ملادے گا۔ اللّٰہ ربّ العزّت ایک آیت میں فرماتا ہے کہ ’’مَیں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں۔‘‘ تو اللّٰہ تبارک و تعالیٰ سے اُمید ہے کہ اُس نے آپ دونوں کو ضرور اپنی رحمت میں رکھا ہوگا۔

پاپا! آپ کو ہمیں پڑھانے لکھانے کے ساتھ انواع و اقسام کی چیزیں کِھلانے کا بھی بہت شوق تھا۔ موسم کا ہر پھل لے کرآتے، خشک میوے، مہینے کے سودے کے ساتھ باقاعدگی سے لاتے۔ روزانہ آفس جاتے ہوئے ہم سب سے ہاتھ ملاکر جاتے اور یہ ضرور پوچھتے کہ تمہارے لیے کیا لاؤں۔ امتحانات کےدنوں میں جب ہم پڑھ رہے ہوتے، آپ موسمی پھل، میوے، چنے، الائچی دانےخود نکال کر ہمیں دیتے۔ اور امّی! آپ کو ہم سے کتنی محبّت تھی کہ شہود بھائی، جو اکثر رات کودیر سے گھر آتے، آپ ان کے انتظار میں کھانا نہیں کھاتی تھیں، پیٹ کی تکلیف کے باوجود بھوکے پیٹ رہتیں۔ 

ابّو کھانے کو کہتے، تو کہتیں ’’میں کیسے کھالوں، وہ بھی تو بھوکا ہے، جب تک وہ نہیں آجاتا، مجھے چین نہیں ملتا۔‘‘ شہود کے علاوہ ہم میں سے کوئی اور ہوتا تو بھی آپ ایسا ہی کرتیں۔اگرچہ آپ اپنے اکلوتے بیٹے کا بہت خیال رکھتیں، مگر گھر میں کھانے پینے کی چیز ہر فرد میں یک ساں تقسیم کرتیں۔ آپ نے ہمیں ایک دوسرے کے لیے قربانی دینا، محبّت کرنا اور مل بانٹ کر کھانا سکھایا۔ امّی! ہمیں یاد ہے، بچپن میں باورچی خانے میں آپ کام بھی کرتی جاتیں اور ہمیں پڑھاتی بھی جاتیں، اس دوران ہماری شرارتوں، غلطیوں سے تنگ آکر یہ دھمکی بھی دیتیں کہ ’’گرم چمٹا لگادوں گی۔‘‘ 

اگرچہ کبھی گرم چمٹا لگا تو نہیں، لیکن آپ کی تنبیہہ ہمیں لائن پر لانے کے میں بہت کارآمد ثابت ہوتی۔ اسی طرح پڑھائی کے دوران پاپا کا یہ جملہ ہمیں سدھارنے کے لیے کافی ہوتا کہ ’’دروازے کے پیچھے کھڑا کردوں گا۔‘‘ آپ دونوں نے بہت محنت، لگن اور محبّت سے ہمیں پڑھایا لکھایا۔ مجھے یاد ہے، میرے بی ایس سی کے پیپرز دوپہر میں ہوتےتھے، تو پاپا دوپہر کوخاص طور پر میرے لیے آفس سے گھر آتے۔ مجھے سینٹر چھوڑتے، پھر آفس جاتے۔ اور پیپر ختم ہوتے ہی دوبارہ سینٹر پہنچ جاتے۔

امّی! آج ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ آپ گھر کا سارا کام اکیلے کیسے کرلیتی تھیں، پھر گھر کے اتنے بکھیڑوں کے باوجود ہمیں پڑھاتیں، اسکول کا کام کرواتیں اور اتنا سب کرنے کےباوجود کبھی آپ کے مزاج میں تھکاوٹ یا غصّے کا عُنصر نہیں ہوتا تھا۔ پاپا! آپ کا احسان ہے کہ آپ نے ہمیشہ ہمیں زرقِ حلال کھلایا۔ آپ جس سرکاری محکمے سے وابستہ تھے، اُس سے متعلق لوگ کہا کرتے کہ اپنے عُہدے کا فائدہ اٹھاکر بچّوں کےلیے سونے کی دیواریں کھڑی کی جاسکتی ہیں، لیکن آپ کا کہنا یہی ہوتا کہ ’’مجھے اپنی قبر میں جانا ہے، بچّوں کو اپنی قبر میں۔‘‘ آپ نے کم پر گزارہ کیا اور نہ صرف خود بلکہ ہم سب کو بھی ہمیشہ حرام سے بچائے رکھا۔ 

جب آپ کے آفس میں رشوت کا بازار بہت گرم ہوگیا اور آپ کے لیے کسی طور بچنا مشکل ہوگیا، تو قبل از وقت ہی ریٹائرمنٹ لے لی اور پھر کبھی کوئی دوسری نوکری نہیں کی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث،’’جو حق پر ہوتے ہوئے جھگڑا ختم کرے، مَیں اُس کے لیے جنّت کے کنارے ایک گھر کی ضَمانَت دیتا (یعنی ذمّے داری لیتا) ہوں۔‘‘ نظر سے گزرتی ہے، تو بے اختیار آپ یاد آجاتے ہیں۔ آپ نے کتنی مرتبہ رشتوں کو بچانے کے لیے اپنی عزتِ نفس کو بھی پسِ پشت ڈال دیا۔ 

یقیناً اللہ کے ہاں آپ نے اس کا بہترین اجر پایا ہوگا۔ اگر کبھی ہمارا کسی سے معمولی جھگڑا یا تلخ کلامی ہوجاتی، تو معاملہ رفع دفع کرنے کے لیے آپ دوسرے کا ساتھ دیتے۔ اگرچہ اُس وقت ہمیں آپ کا رویّہ ناگوار گزرتا، لیکن اب سمجھ میں آتا ہے کہ آپ تو ہمیں اپنے جسم و روح کا حصّہ سمجھتے تھے، جس طرح اپنے معاملے میں درگزر کا رویّہ اختیار کرتے، ہمارے لیے بھی وہی چاہتے تھے۔

پیارے امّی، پاپا! آپ کی زندگی سے ہم نے ایک اہم سبق یہ حاصل کیا کہ انسان کی زندگی جس سوچ وفکر اور سرگرمی میں گزرتی ہے، اختتام بھی اُسی پر ہوتا ہے۔ زندگی کے آخری دِنوں میں تکلیف کی شدّت ہو یا نیم غنودگی کی حالت، آپ کسی بھی صُورت نماز کی ادائی میں تساہل نہیں برتتے تھے۔ اسی طرح پوری زندگی حقوق العباد کے معاملے میں حد درجہ محتاط رہے۔ شاید اسی لیے اللّٰہ تعالیٰ نے آپ دونوں کو آخری دنوں میں توفیق دی کہ اپنے پرائے اور قریب و دُور کے لوگوں سے کہا، سُنا معاف کروالیا۔ پاپا! آپ کے شب و روز قرآنِ مجید کی تلاوت میں گزرتے تھے۔ 

اللّٰہ تعالی نے آخری لمحات میں بھی آپ کو قرآن کاساتھ اس طرح دیا کہ آئی سی یو میں تمام بیٹیاں، بیٹا، داماد اور بہو آپ کے چاروں طرف کھڑے تلاوتِ قرآن میں رخصت کررہے تھے۔ امّی! آپ میں تقویٰ و صبر بہت زیادہ تھا، رات سوتے وقت تک آپ کی زبان سے لا اِلہٰ الّا اَنَت سبحانک اِنّی کُنتُ من الظالمین‘‘ اور ’’سبحان الله و بحمدهِ أستغفرالله و أتوب إلیه‘‘ کا ورد جاری رہتا۔ اور آخری دنوں میں تکلیف کی شدّت میں ’’استغفار‘‘ یا ’’اِنَّااللہَ مَعَ الصَّابِرِینَ‘‘ پڑھتی رہیں۔

پاپا! آپ کی دنیا سے بے رغبتی، سادگی، قناعت، تقویٰ وعبادات کی وجہ سے لوگ آپ کو ولی اللّٰہ کہتے، جب کہ امّی! آپ کی شخصیت تو اس قدر متاثر کُن اور شفقت آمیز تھی کہ جو بھی آپ سے ملتا، متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ آپ کے مزاج میں نفاست، پاکیزگی،ہم دردی وتقویٰ نمایاں تھا۔ الغرض، ہمارے پاس آپ کے ساتھ بیتے ایّام، سنہری یادوں کا ایک ختم نہ ہونے والا خزانہ ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو پھر سے جنّت میں ملادے،آمین۔ (آپ کی بیٹی، زرّین آصف)

ناقابلِ اشاعت نگارشات اور اُن کے تخلیق کار

برائے صفحہ ’’ناقابلِ فراموش‘‘

٭ ڈاکٹر رضیہ (شبینہ گُل انصاری، نارتھ کراچی، کراچی) ٭انتظار (محمد زیب، ریلوے اسٹیشن، چار سدّہ) ٭دوست بھی بدلتے ہیں (امبر وسیم) ٭ملنگی کی دُعا (نگینہ طارق، راول پنڈی) ٭اپنے ساتھ بیتے ہوئے واقعات (سیّد زاہد علی، شاہ فیصل کالونی نمبر3، کراچی) ٭قصّۂ کرامت بزرگ شخصیت کا(رابعہ سلیم، سکھر) ٭اندھیری رات اور پُرخطر نہر کا پیدل سفر(شوکت محمود، ملتان روڈ، لاہور) ٭گفٹ +بیت المال والی عورت (ظہیرانجم تبسّم، جی پی او، خوشاب) ٭ایک مثالی پولیس آفیسر (محمداشفاق بیگ، ننکانہ صاحب، ریلوے روڈ) ٭فرض یا قربانی (غلام رسول خان، گنگا رام اسپتال، وارث روڈ، لاہور) ٭میرا خواب، خواب ہی رہ گیا (سیّد محمد رضا جعفری، گولی مار نمبر1، کراچی) ٭دانے دانے پہ مُہر (سعیدہ جاوید، لاہور) ٭خالہ جان (صائبہ مشام مصطفیٰ، گیلان آباد، ملیر، کراچی) ٭سودخوری+رشوت ستانی+شراب نوشی (مرزا ارسلان بیگ،بھائی پھیرو، پتوکی، قصور) ٭حرام کام کی تباہ کاریاں (بندی ناچیز، کراچی)٭چھے سالہ بچّہ اور بَرنے کا درخت (عبدالرحمٰن ریحان، رحیم یارخان)۔

برائے صفحہ ’’متفرق‘‘

٭ایڈیسن دیوتا (عامر بن علی) ٭مسئلہ کشمیر 73سال میں حل نہ ہوا (ڈاکٹر عبدالرحمٰن چشتی، شورکوٹ، جھنگ) ٭بے روزگاری کا خاتمہ ممکن ہے (سلامت ضیاء کھوکھر، اسلام آباد) ٭عبرت صدیقی بریلوی کی برسی (صغیر علی صدیقی، کراچی) ٭آئیے، ڈارون کو کریں چیلنج (ڈاکٹر محمد جاوید ایم ڈی) ٭ایک معذور نوجوان کے عزم و ہمّت کی داستان (ارسلان اللہ خان، لطیف آباد، حیدر آباد) ٭خطّے کی موجودہ صورتِ حال اور پاکستان پر اس کے اثرات (ثمرین باری عامر) ٭ابنِ خلدون (محمد آصف قریشی، گلستانِ سجاد، حیدر آباد) ٭پھر آرہا ہے، حج کا مہینہ (انجم مشیر، نارتھ کراچی، کراچی) ٭سگریٹ نوشی (دانیال حسن چغتائی، کہروڑ پکّا، لودھراں) ٭کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں؟ (ہومیو ڈاکٹر محمّد افضل خضری، ملتان)٭کیاعافیہ صدیقی زندہ ہیں (ملک محمد اسحاق راہی، صادق آباد، رحیم یار خان) ٭میرا آبائی قصبہ ’’کھرڑیا نوالا‘‘ (ڈاکٹر اطہر رانا، فیصل آباد) ٭زیردست (محمد اشعر، بھکر) ٭جنسی درندگی، موثر قانون سازی کی ضرورت+نوجوان قوم کا سرمایۂ افتخار (رانا اعجاز حسین چوہان) ٭بیلنا گنّے سے گڑ، شکر کی تیاری کا کارخانہ (عبداللہ نظامی، لیّہ)٭ذمّے داران کا تعیّن(رائو سیف الزّماں)٭تحریکِ پاکستان کے آخری اہم ترین اور نازک ترین مراحل (جمیل یوسف، لاہور) ٭جنگلی حیات کی بقا کے لیے پنجاب حکومت کے اقدامات (مرزا محمّد رمضان)۔

برائے صفحہ ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘

٭بدایوں سے میامی تک، ماں کا سفر (عبدالسمیع خان) ٭رزقِ حلال کمانے والے(آسیہ عمران)٭ڈاکٹر سمیع الزماں کی سنہری یادیں (رعنا کہکشاں انصاری) ٭ہمارے والد، حاجی محمد اسماعیل (محمد اسحاق اینڈ برادرز، اورنگی ٹائون، کراچی)۔

سنڈے میگزین سے مزید