• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تقسیم کار فلم ’قیامت سے قیامت تک‘ کے کلائمکس پر متفق نہیں تھے

ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک)متعدد کامیاب فلموں کے تجربہ کار ہدایت کار ناصر حسین نے’قیامت سے قیامت تک‘ کی کہانی، مکالمے اورا سکرین پلے خود لکھے تھے۔ انہوں نے بیٹے منصور خان کوبطور ہدایت کار آزمانے کا فیصلہ کیا۔ فلم کا یہ نام بھی انہی کے ذہن کی پیداوار تھی۔ہیرو کے لیے اپنے ہی بھتیجے عامر خان کا انتخاب کیا۔ عامر خان نے بعد میں اپنی ہیروئن جوہی چاؤلہ کا آڈیشن یہ بتائے بغیر لیا کہ وہ ان کے دراصل ہیرو ہوں گے۔ ناصر حسین نے فلم کے کلائمکس دو لکھے تھے، ایک میں ہیرو اور ہیروئن کی موت ہوتی ہے تو دوسرے میں روایتی فلموں کی طرح ’ ہیپی اینڈنگ۔اس کے پس پردہ ناصر حسین کا یہ خیال تھا کہ اگر تقسیم کاروں کو ایک کلائمکس پسند نہیں آیا تو وہ دوسرے کا اضافہ کرکے انہیں فلم خریدنے کے لیے قائل کر لیں گے۔لیکن منصور خان نے والد کی سوچ کے برعکس صرف ہیرو اور ہیروئن کی موت کا ہی کلائمکس عکس بند کیا تھا۔منصور خان کی فلم جب بن کر تیار ہوئی تو ناصر حسین نے تقسیم کاروں کے لیے کئی ٹرائل رکھے لیکن کوئی بھی کلائمکس پر متفق نہیں تھا۔ ایک ماہ کا عرصہ بیت گیا لیکن ایک بھی فلم خرید کر لگانے پر تیار نہ ہوا۔ منصور خان نے بھی والد کو صاف صاف کہہ دیا کہ اگر آپ تقسیم کاروں کے مطالبے پر فلم کا کلائمکس تبدیل کرنے جا رہے ہیں تو ’قیامت سے قیامت تک‘ کی ہدایت کاری سے ان کا نام خارج کر دیں۔ منصور خان کا کہنا تھا کہ تبدیل شدہ فلم جو سنیما گھروں کی زینت بنے گی، درحقیقت وہ ان کی فلم نہیں ہو گی۔ 29اپریل 1988کو جب فلم سنیما گھروں کی زینت بنی تو قیامت برپا کر دی۔ گیت ہی نہیں، کہانی اور منصور خان نے تہلکہ مچا دیا۔ جس کلائمکس پر تقسیم کاروں کو اعتراض تھا، وہی فلم کی شہرت کی وجہ بن گیا۔ فلم فیئر ایوارڈز میں ’قیامت سے قیامت تک‘ کی 11 نامزدگیوں میں سے آٹھ میں اس نے میدان مار لیا۔

دل لگی سے مزید