• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے تواتر کے ساتھ ہونے والے واقعات میں کمی کے بعد ہر کوئی اسٹریٹ کرائم اور ڈکیتیوں کا رونا رو رہا ہے۔ لیکن اس وقت شہر کوسب سے بڑا مسئلہ جو درپیش ہے وہ شہر میں منشیات، خاص طور پر ہیروئن، آئس اور کرسٹل کی فروخت کا ہے۔ اسٹریٹ کرائمز کے واقعات میں پکڑے جانے والے ملزمان کی اکثریت نشے کے عادی افراد کی ہے اور پولیس افسران کئی بار یہ بات کہہ چکے ہیں کہ اسٹریٹ کرمنلز کی اکثریت اپنی نشے کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیےلوٹ مار اور رہزنی کے واقعات میں ملوث ہوتی ہے، جب کہ ڈکیتی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں گرفتار ملزمان بھی نشے کی لت میں مبتلا ہیں۔ کراچی میں منشیات باہر سے آتی ہے ،پہلے کے پی کے، اس کا بڑا مرکز تھا جبکہ اس وقت شہر میں منشیات کی بڑی مقدار بلوچستان کے راستے آ رہی ہے۔

نشہ آور اشیاء بڑے ڈیلرز سے ہوتی ہوئی چھوٹے ڈیلرز تک پہنچتی ہے اور پھر گلی محلوں میں کارندوں کے ذریعے نوجوان طبقے،پوش علاقوں میں ہونے والی ڈانس پارٹیوں، کالج اور جامعات کے طلباء کو فروخت کی جاتی ہے ۔ یہ کاروبار اب آئن لائن بھی ہونے لگا ہے، ’’ موٹر سائیکل رائیڈرز‘‘ اور’’ آن لائن فوڈسپلائرز‘‘ بھی منشیات کی ترسیل میں ملوث ہیں، جب کہ دوسرے ذرائع سے بھی آن لائن منشیات کی ڈیلیوری کی جا رہی ہے۔نوجوان نسل تیزی سے آئس اور کرسٹل کے نشے کی عادی ہو رہی ہے ۔

پولیس نے بھی اب اس بات کو محسوس کیا ہے کہ منشیات کی لعنت سے جہاں مستقبل کے معمار برباد ہو رہے ہیں وہیں جرائم میں اضافے کی بنیادی وجہ بھی یہی لعنت ہے۔گزشتہ دنوں پولیس نے منشیات فروشوں کے خلاف کئی کامیاب آپریشن کیے ہیں ، جن میں بھاری مقدار میں منشیات برآمد کی گئی ہے۔ تاہم سینئر پولیس افسران کا کہنا ہے کہ جب تک منشیات تیار کرنے والے مقامات پر کارروائی نہیں کی جائے گی اور اس کی ترسیل کے روٹ پر سخت اقدامات نہیں کیے جائیں گے، اس وقت تک شہر میں نشہ آور اشیاء پر کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔

ڈی آئی جی ساؤتھ، جاوید اکبر ریاض
ڈی آئی جی ساؤتھ، جاوید اکبر ریاض

گزشتہ دنوں موچکو پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح کے ڈرگ ڈیلر سمیت چار ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کرلیں،جن کی عالمی منڈی میں مالیت 8 کروڑ روپے سے زائد ہے ۔ ڈی آئی جی ساؤتھ ،جاوید اکبر ریاض کے مطابق موچکو پولیس نے حب ریور روڈ لکی ناکہ چنگی پر کارروائی کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح کے ڈرگ ڈیلر حاجی محسن کو 2 ساتھیوں نثار احمد اور عمران سمیت گرفتار کیا۔ کارروائی کے دوران حاجی محسن سے 10 کلوگرام آئس برآمد ہوئی ہے جو اپنے ساتھیوں کے ہمراہ رکشے کےذریعے اسمگل کرنے کی کوشش کر رہاتھا ۔

انہوں نے بتایا کہ حاجی محسن کی نشاندہی پر رئیس گوٹھ بس اڈے پر بھی کارروائی کی گئی جس کے دوران منشیات ڈیلر نصیر کو گرفتارکر کے آئس اور چرس برآمد کی گئی۔اس طرح مجموعی طور پر 11 کلو آئس اور 9 کلو چرس برآمد کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملزمان شہر کے پوش علاقوں میں نوجوانوں کو منشیات سپلائی کرتے تھے اور ان کے پورے نیٹ ورک کی نشاندہی ہوگئی ہے ۔ برآمد ہونے والی منشیات کی مالیت 8 کروڑ روپے ہے ۔پولیس کوشش کررہی ہےکہ اے این ایف ہمارے ساتھ مل کر کیس پر کام کرے۔ 

ڈی آئی جی سائوتھ کے مطابق ملزمان کے موبائل فونز کا فرانزک ٹیسٹ کرایا جارہا ہے، ملزمان کے بینک اکائونٹس کی جانچ پڑتال بھی کی جائے گی۔اگرمنی لانڈرنگ کا شبہ پایا گیا ،تو ایف آئی اے کوساتھ ملا کرسخت کارروائی کی جائے گی۔ جاوید اکبر ریاض کا کہنا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے تمام ادارے بطور ٹیم، منشیات کے خاتمے میں کردار ادا کریں ۔

ہمارا رینجرز، اے این ایف اور دیگر اداروں کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک منشیات کی پکڑی جانے والی یہ سب سے بڑی کھیپ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حاجی محسن پورے نیٹ ورک کا مرکزی کردار ہے، جس کے بیرون ملک روابط ہیں اور وہ غیر ممالک آتاجاتا رہتا ہے۔گرفتاری کے بعداس کا پاسپورٹ ضبط کرلیا گیا ہے، جس کے اجراء کے بارے میں تفتیش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملزم حاجی محسن اردو زبان نہیں بولتا، فارسی اور پشتو زبان پر عبور حاصل ہے، جس کی وجہ سے تفتیش میں دشواریوں کا سامنا ہے ۔ 

پاکستان میں ان کا نیٹ ورک پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے جو بیرون ملک سے آنے والی منشیات کراچی میں سپلائی کرتا ہے۔ ہر علاقے میں منشیات فروشوں کے ڈیلرزموجود ہیں جو نشہ آ ور اشیاکی آگے ترسیل کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے دو سے تین علاقوں میں میں مین ڈیلرز بیٹھے ہوئے ہیں۔ سب سے بڑا ڈیلر ڈاکٹر بلوچ بھی گرفت میں آیا ہے۔اس کے کچھ بینک اکاونٹس بھی سامنے آئے ہیں ان کی بھی چھان بین کی جارہی ہے ۔ ڈی آئی جی نے کہا کہ حاجی محسن ہر چند ماہ بعد رہائش بدلتا رہتا ہے۔ 

حال ہی میں اس نے سہراب گوٹھ میں رہائش اختیار کی ہوئی تھی۔ملزمان کا واٹس ایپ گروپ بنا ہوا ہے، منشیات کی ڈیلنگ کے لئے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا ایپس کا استعمال کرتے ہیں۔ ملزم کے پاس پاکستانی پاسپورٹ ہے جس کی جانچ جاری ہے ۔ہمیں شبہ ہے کہ وہ اردو زبان جانتا ہے لیکن بولتا نہیں ہے۔گرفتار ملزمان کے ماضی کے ریکارڈ کی بھی چھان بین کی جارہی ہے۔ڈی آئی جی ساؤتھ نے بتایا کہ نادرا اور ایف آئی اے کو ملزمان کا ڈیٹا بھیج دیا گیا جس کے بعد یہ معلوم ہو سکے گا کہ گرفتار ملزم حاجی محسن پاکستانی شہری ہے بھی یا نہیں۔

حال ہی میں ڈی آئی جی ویسٹ کا چارج سنبھالنے والے ناصر آفتاب کا کہنا ہے کہ ان کا سب سے زیادہ فوکس اس وقت منشیات فروشوں کی گرفتاری اور شہر میں نشہ آور اشیاء کی آمد کو روکنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چارج سنبھالتے ہی میں نے سب سے پہلے منشیات فروشوں اور اسٹریٹ کرمنلز کے خلاف کارروائی کا حکم دیا اور چند ہی دنوں میں ہمیں کامیابیاں ملی ہیں۔ناصر آفتاب نے بتایا کہ رواں سال ڈسٹرکٹ ویسٹ میں پولیس نے999 منشیات فروشوں اور ڈرگ ڈیلرز کو گرفتار کر کے 739 کیسز درج کیے۔ 

اس دوران مطلوب ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا جن میں محبت شاہ، خرم، عبدالرشید، محمد بشیر عرف پٹھان، محمد سوہاگ، عبدالمالک، محمد نعمان، احسان الدین، شہریار، ابراہیم،کامران، گل نذیر،لعل نذیر، فرحان، عاشق خان، محمد ہاشم، ربنواز، محمد بہادر، عزت خان، زاہد الرحمن، صادق خان، گل جان، راشد، امیر محمد، عبدالوحید، زبیر احمد، نقیب اللہ اور خاتون ملزمہ زیبا گل شامل ہیں۔

گزشتہ دنوں ضلع ملیر پولیس نے بلوچستان سے مختلف اقسام کی منشیات کراچی میں لا کر فروخت کرنے والے گروہ کی 5 خواتین سمیت 14 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ان کے قبضے سے 70 کلو چرس، 04 کلو کرسٹل(تنزانیہ) اور 01 کلو ہیروئن برآمد کی گئی ہے۔ ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر کے مطابق پولیس نے ملزمان کو قائدآباد، شرافی گوٹھ، اسٹیل ٹاون ،سکھن اور ملیر سٹی سے گرفتار کیا۔ملزمان میں سجاد شاہ ، جاوید شاہ ، سید عمران ، نعمان ، غلام مرتضیٰ، عشاء، عالیہ ، محمد خان ، زیبا ، سسی ، روزینہ ، شبانہ ، انور شیخ اور در محمد شامل ہیں۔ ملزمان بلوچستان سے منشیات لے کر آتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ شہر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والےمنشیات فروش ، گرفتار ملزمان سے خریداری کرتے تھے۔اس کاروبار سے وابستہ دیگر ملزمان کی نشاندہی ہو چکی ہے۔برآمد کی گئی منشیات کی مالیت تین کروڑ روپے سے زائد ہے،ایس ایس پی ملیر کے مطابق بلوچستان میں موجود مرکزی ڈیلر کی شناخت کر لی گئی، ملزم کی گرفتاری کےلئے ٹیم تشکیل دے دی گئی۔

منشیات کی فروخت سے حاصل ہونےوالی رقم کن مقاصد کےلئے استعمال کی جاتی تھی، اس کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ماضی میں منشیات فروشی کےگروہ کالعدم تنظمیوں کوفنڈنگ کرتے رہے ہیں، پولیس اس پہلو پر بھی تحقیقات کر رہی ہے۔اسی طرح ابراہیم حیدری پولیس نے کوئٹہ سے لائی گئی منشیات کی سپلائی ناکام بنا تے ہوئےبین الصوبائی ڈرگ سپلائر گروہ کے 5 کارندوں کو گرفتارکر لیا۔ایس ایس پی ملیرعرفان بہادرکے مطابق گرفتار ملزمان نے کوچی کیمپ میں منشیات کی سپلائی پہنچانے کا انکشاف کیا۔

پولیس نے خفیہ اطلاع پر علی اکبر شاہ گوٹھ کے قریب ریڑھی روڈ پر کارروائیکے دوران مشکوک کار کو روک کر تلاشی لی، کار سواروں کے قبضے سے 12 کلو سے زائد اعلیٰ کوالٹی کی چرس برآمد کی گئی۔ پولیس نے کار بھی تحویل میں لے لی۔ ملزمان ابراہیم حیدری اور اطراف کے علاقوں میں منشیات پہنچانے آئے تھے۔ ملزمان کے رابطوں میں رہنے والے افراد کی گرفتاری کیلئے تلاش جاری ہے،گرفتار ملزمان کوچی کیمپ کے رہائشی ہیں اوران کے رشتہ دار بھی منشیات کے کاروبار میں ملوث ہیں۔

گرفتار شدگان شہر میں منشیات کی سپلائی کے مرکزی کرداروں کے اہم ساتھی تھے۔ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا،اور ان سے تفتیش کی جارہی ہے،گرفتار ملزمان میں عمیرا خان عرف تندور والا، لیاقت خان، موسیٰ خان، گل محمد اور افضل خان شامل ہیں۔ عرفان بہادر نے بتایا کہ ملیر پولیس نے رواں برس 1140 منشیات فروشوں اور ڈرگ ڈیلرز کو گرفتار کر کے 848 مقدمات درج کیے۔ گرفتار ہونے والےافراد میں خواتین سمیت انتہائی مطلوب ملزمان بھی شامل ہیں جن میں عبداللہ جان،شیراللہ،نجیب اللہ،ولی خان،سید امین اللہ،مسمات جمیلہ،مسمات سیما،سلیمان،محمد خان اور شیر علی شامل ہیں۔

ایس ایس پی سینٹرل، ملک مرتضیٰ تبسم کے مطابق *ضلع سینٹرل پولیس نے رواں برس 1919 منشیات فروشوں اور ڈرگ ڈیلرز کو گرفتار کر کے ان کے خلاف 1397 مقدمات درج کیے۔ اس دوران انتہائی مطلوب 9 ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا جن میں اقبال عرف حضور بخش،محمد آصف ،رجب علی،سیدہ بخت زہرہ،ہاری عرف پاری،محمد اسماعیل،عبدالغفار،شہباز خان ،واجد اور بچا رحمان شامل ہیں، جن کے قبضے سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کی گئی۔

ایس ایس پی سٹی سرفراز نواز کے مطابق ،سٹی ڈسٹرکٹ پولیس نے رواں برس منشیات فروشوں اور ڈیلرز کے 782 مقدمات درج کر کے 934 ملزمان کو گرفتار کر کے کی منشیات برآمد کی گئیں۔ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ایسٹ قمر رضا جسکانی کے مطابق،ایسٹ پولیس نے رواں برس 825 منشیات فروشوں اور ڈرگ ڈیلرز کو گرفتار کر کے 749 مقدمات درج کئیے* ۔ایس ایس پی کورنگی شاہجہان خان کے مطابق کورنگی ڈسٹرکٹ پولیس نے رواں سال 926 منشیات فروشوں اور ڈرگ ڈیلرز کو گرفتار کر کے 744 مقدمات درج کیے۔

کراچی پولیس کے ریکارڈ کے مطابق کراچی پولیس نے رواں برس اب تک شہر بھر میں کارروائیوں کے دوران 8 ہزار 410 ملزمان کو گرفتار کر کے 6 ہزار 573 مقدمات درج کیے۔ماہ جنوری میں شہر کے مختلف علاقوں سے 857 منشیات فروشوں اور ڈیلرز کو گرفتار کر کے 700 کیسز درج کیے گئے ،فروری میں 925 ملزمان کو گرفتار کر کے 713 مقدمات،مارچ میں 984 ملزمان کو گرفتار کر کے 743 مقدمات،اپریل میں 782 ملزمان کو گرفتار کر کے 585 مقدمات،مئی میں 984 ملزمان کو گرفتار کر لے 786 مقدمات،جون میں 1262 ملزمان کو گرفتار کر کے 975 مقدمات،جولائی میں 874 ملزمان کو گرفتار کر کے 684 مقدمات،اگست میں 984 ملزمان کو گرفتار کر کے 779 مقدمات اور ماہ ستمبر کی 22 تاریخ تک 758 منشیات فروشوں اور ڈیلرز کو گرفتار کر کے ان کے خلاف 608 مقدمات درج کئیے گئے۔گرفتار ملزمان کے قبضے سے 78.903 کلو گرام ہیروئن،5888.62 کلو گرام چرس،41.207 کلو گرام آئس،18.72 کلو گرام کرسٹل اور 43.536 کلو گرام افیون برآمد کی گئی۔ برآمد کی گئی منشیات کی مالیت کروڑوں روپے ہے۔

پولیس کی جانب سے ڈرگ ڈیلرز کے خلاف کی جانی والی کامیابیوں کے باوجود شہر میں اب بھی منشیات کی فروخت جاری ہے جو نئی نسل کو تباہ کر رہی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس کے ساتھ دیگر ادارے بھی منشیات کے خلاف مہم میں حصہ لیں اور منشیات کی تیاری کے مراکز اور سپلائی لائن پر کڑی نظر رکھ کر ملوث ملزمان کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید