• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ، 7جامعات، 5 تعلیمی بورڈز، مستقل وی سیز اور چیئرمین سے محروم

کراچی(سید محمد عسکری) محکمہ بورڈز و جامعات کی عدم دلچسپی اور تلاش کمیٹی کو نظر انداز کئے جانے کے باعث سندھ کی سات جامعات اور پانچ تعلیمی بورڈز میں مستقل وائس چانسلرز اور چیئرمین کی تقرریاں غیرمعمولی تاخیر کا شکار ہیں جبکہ بیشتر وی سی اور چیئرمین مدت پوری ہونے کے باوجود قائم مقام کی حیثیت سے امور انجام دے رہے ہیں۔ ویمن یونیورسٹی سکھر میں بھٹ شاہ جامعہ کی وی سی ڈاکٹر پروین منشی کو 6 مارچ 2018 میں اضافی چارج دے کر وی سی اور پھر7 اکتوبر2019 کو ڈاکٹر ثمرین حسین کو قائم مقام وائس چانسلر مقرر کردیا گیا اس طرح عملاساڑھے تین سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ یونیورسٹی مستقل وائس چانسلر سے محروم ہے۔ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اجمل خان کے چار مئی2018 کو انتقال کے بعد تلاش کمیٹی کی نمبرنگ میں دوسرے نمبر پر آنے والے پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی کو قائم مقام وائس چانسلر مقرر کیا گیا تھا، نمبرنگ میں ڈاکٹر فتح برفت کا تیسرا نمبر تھا مگر وہ جامعہ سندھ کے وائس چانسلر ہوچکے تھے۔ محکمہ بورڈز و جامعات کے وی سی کے عہدے کیلئے دو مختلف اشتہار دینے کے غلط اقدام کے باعث دو سال چار ماہ گزرنے کے باوجود جامعہ کراچی میں مستقل وائس چانسلر کا تقرر نہیں ہوسکا اور معاملہ اب عدالت میں ہے۔ پیپلز میڈیکل یونیورسٹی فار ویمن نوابشاہ میں ڈاکٹر گلشن میمن کو18 اپریل2019 کو وی سی ڈاکٹر اعظم یوسفانی کو عہدے سے ہٹانے پر قائم مقام وائس چانسلر مقرر کیا گیا تھا، لہذا ڈاکٹر گلشن میمن گزشتہ دو برس پانچ ماہ سے بطور قائم مقام وائس چانسلر کام کررہے ہیں۔ گزشتہ سال جون میں آئی بی اے سکھر کے وائس چانسلر نثار صدیقی کے کورونا سے انتقال کے بعد ڈاکٹر میر محمد شاہ کو قائم مقام وائس چانسلر مقرر کیا گیا اور آئی بی اے سکھر میں مستقل وائس چانسلر کی تقرری کا مسئلہ تقریباً سوا سال سے التواء کا شکار ہے۔ شہید اللہ بخش سومرو یونیورسٹی آف آرٹ، ڈیزائن اینڈ ہیریٹیج جامشورو میں ڈاکٹر بھائی خان شر کو8 ستمبر2020 کو قائم مقام وائس چانسلر مقرر کیا گیا جو تاحال اسی عہدے پر کام کررہے ہیں۔ جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے پرووائس چانسلر ڈاکٹر شاہد رسول اس وقت قائم مقام وائس چانسلر ہیں کیونکہ تلاش کمیٹی نے ڈاکٹر لبنی بیگ کو نمبر ون قرار دیا مگر وزیر اعلیٰ سندھ نے دوسرے نمبر پر آنے والے ڈاکٹر امجد سراج میمن کو وائس چانسلر مقرر کردیا جس پر لبنی بیگ عدالت چلی گئیں اور امجد سراج میمن کی تقرری کو معطل کردیا گیا ۔ دائود انجینئرنگ کالج کے وائس چانسلر ڈاکٹر فیض عباسی اپنی دوسری مدت جون کے وسط میں مکمل کرچکے ہیں۔ تلاش کمیٹی نے جون میں تین نام منظوری کے لئے وزیر اعلیٰ سندھ کو بھیجے مگر تاحال ناموں کی سمری وزیر اعلیٰ سندھ کی میز پر پڑی ہے۔ سکھر تعلیمی بورڈ کے سربراہ مجتبی شاہ کی دوسری تین سالہ مدت بھی گزشتہ برس مکمل ہوچکی اور وہ ایک سال سے بطور قائم مقام کام کررہے ہیں۔ حیدر آباد تعلیمی بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر محمد میمن کی دوسری مدت گزشتہ ماہ مکمل ہوچکی ہے وہ بھی قائم مقام ہیں۔ نوابشاہ تعلیمی بورڈ کے قیام کو چار برس سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود تاحال وہاں کوئی مستقل چیئرمین تعینات نہیں ہوسکا اور موجودہ قائم مقائم چیئرمین فاروق حسن کو انیمل یونیورسٹی سکرنڈ کا وائس چانسلر مقرر کیا جاچکا ہے۔ اسی طرح سندھ ٹیکنیکل بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر مسرور شیخ کی مدت بھی گزشتہ برس مکمل ہوچکی ہے اور تاحال وہ قائم مقام چیئرمین کے طور پر کام کررہے ہیں، تاہم ٹیکنیکل بورڈ کے چیئرمین کے عہدے کے لئے آفر لیٹر وصول کرنے والے ڈاکٹر ارشد اعظمی نے تقرر نامہ نہ دیئے جانے پر معاملہ عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ میرپورخاص تعلیمی بورڈ کے چیئرمین پروفیسر برکات حیدری کی مدت کو ایک برس سے زائد عرصہ گزر گیا اور وہ قائم مقام چیئرمین کے طور پر کام کررہے ہیں۔

ملک بھر سے سے مزید