تحریک پاکستان کے نامور رہنما اور اردو کے مقبول شاعر مولانا فضل الحسن حسرت موہانی 65برس بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں،ان کی زندگی پر نظر ڈالیں تو پتا چلتا ہے کہ ان کا اصل نام سید فضل الحسن تھا۔
1875ء میں موہان (یوپی) میں پیدا ہونےوالے مولانا حسرت موہانی ایم اے او کالج علی گڑھ کے فارغ التحصیل تھے،انہوں نے سیاسی زندگی کا آغازدور طالب علمی میں کیا ،گریجویشن کے بعد علی گڑھ ہی سے اردو رسالہ ’ اردوئے معلی ‘ جاری کیا اور انڈین نیشنل کانگریس سے منسلک ہوگئے۔
بعدازاں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا اور آل انڈیا مسلم لیگ سے وابستہ رہے، وہ ایک جرات مند سیاست دان اور صحافی تھے، انہوں نے اپنی سیاست اور صحافت کی وجہ سے کئی مرتبہ قید و بند کی صعوبت برداشت کی،ان کی حق گوئی کے باعث ہندوستان بھر کے سیاسی قائدین بشمول قائداعظم محمد علی جناحؒ آپ کی بڑی تکریم و تعظیم کرتے تھے۔
قیام پاکستان کے بعد وہ ہندوستان ہی میں مقیم رہے اور ہندوستان کے مسلمانوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرتے رہے، وہ ایک خوش گو شاعر بھی تھے اور ان کا دیوان بھی اشاعت پذیر ہوچکا ہے، مولانا حسرت موہانی کا انتقال 13مئی1951ء کولکھنو میں ہوا۔
ہے مشق سخن جاری، چکی کی مشقت بھی
اک طرفہ تماشا ہے، حسرت کی طبیعت بھی