• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی سینیٹ میں پیش کئے گئے ایک بل میں طالبان اور حامی ممالک پر پابندیوں کا مطالبہ کیا گیا ہے، ریپبلکن پارٹی کے 22سینیٹرز نے جو بل پیش کیا ہے اس میں پاکستان سمیت ان تمام ممالک، اداروں اور نان اسٹیٹ ایکٹرز کی اقتصادی، مالی اور فوجی امداد بند کرنے پر زور دیا گیا ہے جو طالبان کی امداد اور پشت پناہی کرتے پائے گئے یا پائے جائیں۔ ان سینیٹرز کی طرف سے پیش کئے گئے مذکورہ بل کو مزید کارروائی کے لئے امریکی سینیٹ کی کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے۔ بل میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سمیت ان تمام ممالک اور اداروں کی رپورٹ امریکی وزیر خارجہ دیں جس پر ان ممالک، اداروں اور نان اسٹیٹ ایکٹرز کی نہ صرف ہر قسم کی امداد بند کی جائے بلکہ بعض شخصیات پر سفری اور دیگر پابندیاں بھی عائد کی جائیں۔ بل میں کہا گیا کہ امریکی خفیہ ادارے پاکستان کے بارے میں جائزہ رپورٹ پیش کریں کہ پاکستانی حکومت نے افغان حکومت گرانے میں کسی بھی طرح طالبان کی مدد کی ہے، علاوہ ازیں پاکستان نے پنج شیر میں طالبان کی فتح میں کوئی بھی اور کسی بھی طرح کا کوئی کردار ادا کیا ہے؟ مذکورہ بالا الزامات سے پاکستان کے اس موقف کو تقویت ملی ہے کہ طالبان کے حوالے سے بھارت پاکستان پر بےبنیاد اور جھوٹے الزامات عائد کرتا رہا ہے۔ ان الزامات میں بھارتی میڈیا کا بھی اہم کردار ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ پنج شیر میں طالبان کی فتح اور کامیابی کے دوران بھارت نے کس طرح جھوٹی تصاویر اور من گھڑت خبریں جاری کرائیں۔ امریکی سینیٹرز کی طرف سے پیش کردہ بل میں واضح طور پر وہی بھارتی الزامات اور پروپیگنڈا نظر آرہا ہے۔ یہ پاکستان کے خلاف ایک منظم بین الاقوامی سازش ہے۔ اس بل میں بھارت کی حمایت کی جھلک بھی واضح نظر آرہی ہے۔ جیسا کہ کہا گیا ہے کہ وسط ایشیائی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کے قیام اور ان ایریاز کی نشاندہی کی جائے جہاں امریکہ اور بھارت کے سفارتی کے علاوہ دفاعی اور معاشی تعاون کو مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بل میں بھارت کے حوالےسے یہ بھی کہا گیا ہے کہ طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد بھارت کی سیکورٹی صورتحال اور خدشات میں کیا تبدیلیاں اور اضافہ ہو سکتا ہے۔ مذکورہ بل میں افغانستان سمیت دیگر جن ممالک کا ذکر کیا گیا ہے وہاں انسانی حقوق کی صورتحال کے جائزے کا بھی مطالبہ شامل ہے۔ اس بل کی تفصیلات سے یہ واضح نظر آتا ہے کہ جب بھی امریکہ کو ضرورت پڑی اس نے پاکستان سے مدد لی لیکن بعد میں آنکھیں پھیر کر بھارت کو سینے سے لگایا۔ یعنی پاکستان اس خطے میں قیامِ امن کے لئے کوششیں بھی کرے، اس مقصد کے لئے قربانیاں بھی دے اور پھر الزامات بھی پاکستان پر لگائے جائیں۔ کیا اشرف غنی کے دور میں پاکستان نے اقوام عالم کو آگاہ نہیں کیا تھا کہ کس طرح بھارت افغان کٹھ پتلی حکومت کے ساتھ مل کر افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کررہا ہے۔ کیا پاکستان نے ایک ڈوزئیر کی صورت میں دنیا کو وہ تمام ثبوت پیش نہیں کئے کہ کس طرح بھارت نے پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کے لئے افغانستان میں کیمپ قائم کررکھے ہیں لیکن کیا آج امریکہ اور دیگر ہمنوا ممالک یہ بتاسکتے ہیں کہ انہوں نے بھارت کے خلاف کیا اقدامات کئے اور کونسی پابندیاں لگائی ہیں؟ جہاں تک طالبان کا تعلق ہے تو کیا دوحہ معاہدہ پاکستان، چین، روس اور طالبان کے درمیان ہوا تھا؟ یہ معاہدہ امریکہ اور طالبان کے درمیان ہوا تھا۔ پاکستان نے امریکی درخواست پر اس معاہدے میں خطہ میں امن کے قیام کے لئے کردار ادا کیا تھا۔ جس کا امریکہ اور دیگر ممالک نے اعتراف بھی کیا۔ کیا پاکستان نے امریکی درخواستوں اور نہ صرف افغانستان بلکہ اس خطہ میں قیام امن کے لئے کوششیں کرکے برا کیا؟ امریکہ اور اقوام متحدہ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ناجائز قبضے اور بربریت پر بھارت کے خلاف کونسی پابندیاں لگائی ہیں؟ امریکی سینیٹرز کی طرف سے پیش کردہ بل میں چین اور روس کا امریکہ کیا بگاڑ سکتا ہے۔ مقصود صرف پاکستان ہے۔

ہماری خارجہ پالیسی اور وزارت خارجہ کی کارکردگی تو سب کے سامنے ہے۔ لیکن حکومت اور اپوزیشن دونوں آنیوالے دنوں اور حالات سے غافل نظر آرہی ہیں۔ حکومت اپوزیشن کو لتاڑنے اور اپوزیشن جان بچانے میں مصروف ہے۔ ہم برطانوی عدالت کے فیصلے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ کون جیتا اور کون ہارا کے گرداب سے نکل کرملک اور قوم کے لئے سوچنے اور کچھ کرنے کے لئے فریقین کے پاس فرصت ہی نہیں۔ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ دونوں کی نظر میں ملک وقوم کی حیثیت ثانوی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ حکومت بھی بعض اہم اداروں اور شخصیات کے خلاف برسرپیکار ہے اور اپوزیشن بھی، کسی کو نہ اداروں کی اہمیت کا احساس ہے نہ اہم شخصیات کی کردار کشی کے ملکی اور بین الاقوامی اثرات کی پروا ہے۔ اس سے زیادہ بدقسمتی اور کیا ہوگی کہ دونوں فریق بچوں کی طرح غیر اہم معاملات پر لڑنے میں مصروف ہیں۔آئی ایم ایف کی طرف سے ’’ڈومور‘‘ کے مطالبے کے پیش نظر آنیوالے دنوں میں مہنگائی کے طوفان میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔ ڈالر کی قیمت اب تک کی بلند ترین سطح کو چھورہی ہے جس کی وجہ سے قرضوں کی ادائیگی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔ امریکی سینیٹ میں پیش کردہ بل کو اگر پذیرائی اور منظوری ملی تو پاکستان کی مشکلات میں اضافہ یقینی ہوگا۔ گندم اور چینی چوروں کے خلاف کارروائی کے بجائے یہ درآمد کی جارہی ہے۔ پاکستان کی کمزور معاشی صورتحال کے پیش نظر ان درآمد شدہ اشیا پر کب تک اور کیسے ملک چلے گا؟ ویسے بھی ایک زرعی ملک میں اس طرح کی صورتحال پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے یا پھر شرمندگی کا اظہار۔ قوم مزید قربانیوں کے لئے تیار رہے اور بالکل نہ گھبرائے۔

تازہ ترین