• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آغا سید حامد علی شاہ موسوی

28صفر المظفر 50ھ تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جب نواسہ رسولؐ جگر گوشۂ علیؓ و بتول ؓحضرت امام حسن مجتبیؓ درجۂ شہادت پر فائز ہوئے ۔امام حسن ؓ15رمضان 3 ہجری کی شب کو مدینہ منورہ میں سورۂ کوثر کی پہلی تفسیربن کر صحن علی المرتضیٰؓ و خاتون جنت حضرت فاطمہ زہراءؓ میں تشریف لائے ۔ رسولِ خداﷺ کےلیے امام حسنؓ کی آمد بہت بڑی خوشی تھی، کیونکہ جب مکہ مکرمہ میں رسولؐ کے بیٹے یکے بعد دیگرے رحلت فرماتے رہے تو مشرکین طعنے دیتے اور آپ کو بڑا صدمہ پہنچتا۔ 

مشرکین کوجواب کے لیے سورۃ الکوثر نازل ہوئی جس میں آپ کوخوش خبری دی گئی ہے کہ خدا نے آپ کو کثرتِ اولاد عطا فرمائی ہے اور مقطوع النسل آپ ﷺنہیں ہوں گے ،بلکہ آپ کا دشمن ہوگا ۔دنیا میں ہر انسان کی نسل اس کے بیٹے سے ہے، لیکن کائنات کی اشرف ترین ہستی سرور کونین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی نسل کا ذریعہ ان کی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا یعنی امام حسنؓ و حسین ؓکو قرار دیا گیا۔

بحارالانور میں ہے کہ جب امام حسنؓ سرورکائنات ﷺکی خدمت میں لائے گئے تو آنحضرت ﷺنے نوزائیدہ بچے کو آغوش میں لے کر پیار کیا اور داہنے کان میں اذان اوربائیں کان میں ا قامت فرمانے کے بعد اپنی زبان ان کے منہ میں دےدی، امام حسنؓ اسے چوسنے لگے، اس کے بعدآپ نے دعاکی خدایا اسے اور اس کی اولاد کو اپنی پناہ میں رکھنا ۔آپ کی ولادت کے ساتویں دن سرکار کائناتﷺ نے خود اپنے دست مبارک سے عقیقہ فرمایا اور بالوں کو منڈوا کر اس کے ہم وزن چاندی تصدق کی ۔( اسدالغابۃ ) اذان و اقامت کہنے کے بعد آنحضرت ﷺنے حضرت علیؓ سے پوچھا۔ ’’ آپ نے اس بچے کا کوئی نام بھی رکھا؟‘‘امیرالمومنین ؓ نے عرض کی ۔’’آپ پر سبقت میں کیسے کر سکتا تھا۔‘‘آپﷺ نے فرمایا ’’ میں بھی خدا پر کیسے سبقت کر سکتا ہوں‘‘چند ہی لمحوں کے بعد جبرائیل امینؑ آپﷺ کی خدمت میں آگئے اور کہا ’’ خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے کہ اس کا نام حسنؓ رکھئے۔

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ امام حسن ؓسے زیادہ مشابہت رکھنے والا کوئی نہیں تھا۔آپ رسول کریم ﷺسے چہرے سے سینے تک اور امام حسین ؓ سینے سے قدم تک رسول اللہﷺ کی شبیہ تھے ۔

حضرت انس ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ سے عرض کیا گیا کہ اپنے اہل بیتؓ سے آپ کو سب سے پیا را کون ہے؟ فرمایا ، حسنؓ اور حسینؓ۔ آپ ﷺحضرت فاطمہ ؓسے فرمایا کرتے ، میرے دونوں بیٹوں کو میرے پاس بلاؤ۔ پھر آپ دونوں کو سونگھا کرتے اور انہیں اپنے ساتھ لپٹا لیا کرتے۔ (ترمذی)

حضرت ابو سعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ، حسنؓ اور حسین ؓدونوں جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔(ترمذی،مسند احمد، صحیح ابن حبان)حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرم ﷺنے فرمایا، حسن ؓاور حسینؓ دونوں دنیا میں سے میرے دو پھول ہیں۔ (ترمذی،مسند احمد)

حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ ﷺ نے فرمایا، جس نے حسنؓ اور حسینؓ سے محبت کی، اس نے درحقیقت مجھ ہی سے محبت کی۔جس نے حسن ؓ اور حسینؓ سے بغض رکھا، اس نے درحقیقت مجھ ہی سے بغض رکھا۔ (ابن ماجہ،فضائل الصحابہ للنسائی، طبرانی فی الکبیر)

حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریمﷺ نے حضرت حسن بن علی کرم اللہ وجہہ کو اپنے مبارک کندھے پر اٹھایا ہوا تھا اور آپ ﷺ فرما رہے تھے، ''اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں پس تو بھی اس سے محبت فرما'' ۔(بخاری، مسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں دن کے ایک حصے میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلا ،آپ حضرت فاطمہ ؓکی رہائش گاہ پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا، کیا بچہ یہاں ہے؟ یعنی امام حسنؓ۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ دوڑتے ہوئے آگئے ،یہاں تک کہ دونوں ایک دوسرے کے گلے سے لپٹ گئے۔ آقا ومولیٰ ﷺنے فرمایا، ''اے اللہ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں تو بھی اس سے محبت رکھ اور اس سے بھی محبت رکھ جو اس سے محبت رکھے'۔ (بخاری، مسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول کریمﷺ نےارشاد فرمایا ،جس نے ان دونوں یعنی حسنؓ وحسین ؓسے محبت کی ،اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ (فضائل الصحابہ)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ ﷺ نے حضرت علیؓ، حضرت فاطمہؓ، حضرت حسن ؓاور حضرت حسینؓ کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا،جو تم سے لڑے گا، میں اْس سے لڑوں گا اور جو تم سے صلح کرے گا، میں اس سے صلح کروں گا یعنی جو تمہارا دوست ہے ،وہ میرا بھی دوست ہے۔(مسند احمد، المستدرک للحاکم)

سیدہ فاطمہ ؓسے روایت ہے کہ وہ حضرت حسنؓ اور حضرت حسین ؓکو رسول کریم ﷺکے مرض الوصال کے دوران آپ کی خدمت میں لائیں اور عرض کی، یارسول اللہ ﷺ! انہیں اپنی وراثت میں سے کچھ عطا فرمائیں۔ رسول کریمﷺ نے فرمایا، حسن ؓمیری ہیبت اور سرداری کا وارث ہے اور حسینؓ میری جرأت اور سخاوت کا وارث ہے۔ (طبرانی فی الکبیر، مجمع الزوائد)

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، جو مجھ سے محبت کرتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ اِن دونوں یعنی حسنؓ وحسین ؓسے بھی محبت کرے۔ (فضائل الصحابہ للنسائی، صحیح ابن خزیمہ، مجمع الزوائد)

امام حسن مجتبیٰ ؓنے سات سال اور کچھ مہینے تک اپنے نانا رسول خداﷺ کا زمانہ دیکھا اور آنحضرت ﷺ کی آغوش محبت میں پرورش پائی۔ پیغمبر اکرمﷺ کی رحلت کے بعد جو حضرت فاطمہ زہراءؓ کی شہادت سے تین یا چھ مہینے پہلے ہوئی۔ آپ اپنے والد ماجد کے زیر تربیت آ گئے تھے۔

امام زین العابدینؓ فرماتے ہیں کہ امام حسنؓ زبردست عابد، بے مثل زاہد، افضل ترین عالم تھے۔ آپ نے جب بھی حج فرمایاپیدل فرمایا، کبھی کبھی پابرہنہ حج کے لیے جاتے تھے، آپ اکثریاد ِخداوندی میں گریہ کرتے ،جب آپ وضو کرتے ، توآپ کے چہرےکارنگ زرد ہو جاتا تھا اور جب نمازکے لیے کھڑ ے ہوتے تو بید کی مثل کانپنے لگتے تھے ۔(روضۃ الواعظین بحارالانوار)

امام حسن ؓکے والد بزرگوار امیر المومنین حضرت علیؓ نے 21رمضان کو شہادت پائی ۔اس وقت امام حسنؓ کی عمر 37 سال چھ یوم کی تھی۔

امام حسنؓ اگرچہ صلح کے بعد مدینہ میں گوشہ نشین ہوگئے تھے ، لیکن حق کے مرکزاور تعلیمات محمدی ؐ کے سرچشمہ امام حسنؓ کا قائم رہنا دشمنان دین کو کب گوارا تھا ،اسی لئےنواسہ رسول ؐ امام حسنؓ کوزہردے کر شہید کردیا گیا۔( مسعودی، مقاتل الطالبین، ابوالفداء ،روضۃالصفا ، حبیب السیر ،طبری، استیعاب) رسولﷺ کے پیارے نواسے امام حسنؓ نے 28صفر50ھ کو جام شہادت نوش کیا اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔

امام حسنؓ کی زندگی تعلیمات مصطفوی ؐ کی عملی تفسیر ہے ۔آپ کا ہر کلام ہر اقدام امت مصطفوی کے لیے درس حیات ہی نہیں ،راہ نجات بھی ہے ۔آج بدترین انتشار کا شکارامت مسلمہ کے مسائل کا حل نواسۂ رسول ؐحضرت امام حسنؓ کے افکار و کردار میں پوشیدہ ہے ۔