• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افغانستان میں امن کا زیادہ فائدہ ہمیں ہوگا، پاکستان 2024 میں بھی یورپی تجارتی مراعات حاصل کرلے گا، گورنر پنجاب

برسلز( حافظ انیب راشد ) گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے امید ظاہرکی ہے کہ پاکستان نہ صرف موجودہ جی ایس پی پلس کو برقرار رکھے گا بلکہ وہ آئندہ 2024 میں آنے والے یورپین تجارتی مراعات کے حصول کیلئے بھی کوالیفائی کر لے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزاپنے دورہ برسلز کے تیسرے روز یورپین پارلیمنٹ میں مختلف ممبران سے ملاقات کے دوران جنگ لندن سے گفتگو اور میڈیا ٹاک کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سفیر پاکستان ظہیر اے جنجوعہ کے ہمراہ پارلیمنٹ کی انٹرنیشنل ٹریڈ کمیٹی کے چیئرمین اور سائوتھ ایشیا کیلئے راپورٹر سمیت بہت سی دیگر کمیٹیوں کے ممبران سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں ہم نے ان ممبران پارلیمنٹ سے کہا کہ پاکستان جی ایس پی پلس کی شرائط یا نئے تجارتی مراعاتی پیکیج کی نئی شرائط سے پریشان نہیں ہے کیونکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس کا آخری فائدہ پاکستان کے عوام کو ہی پہنچے گا کیونکہ انسانی حقوق کا فائدہ سب کیلئے ہوگا۔ خواتین کےحقوق پر عملدرآمد کا فائدہ پاکستان کی خواتین ہی حاصل کریں گی۔ایسا کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا جو اپنی خواتین، اقلیتوں یا انسانی حقوق کی پروا نہیں کرتا۔ اس موقع پر انہوں نے ممبران پارلیمنٹ کو حکومت کی جانب سے صحافیوں، خواتین ، چائلڈ لیبر کے تحفظ اور دوسرے قوانین کا بھی حوالہ دیا جس کیلئے نہ صرف نئی قانون سازی کی گئی بلکہ ادارے بھی تشکیل دیے گئے ہیں۔ گورنر پنجاب نے کہاکہ انہوں نے ٹریڈ اور ایگریکلچر کمیٹی کے ارکان سے ملاقات میں انڈیا کے باسمتی چاول کے حقوق ملکیت کے سلسلے میں بھی بات کی ہے اور ہم نے انہیں حقائق بتائے ہیں۔ انہیں انڈیا کی طرح یہ نہیں کہا کہ باسمتی صرف ہمارے ہاں ہی ہوتا ہے بلکہ بتایا کہ یہ دونوں ممالک میں ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اسے زیادہ پیدااور ایکسپورٹ بھی زیادہ کرتا ہے۔اس لیے اگر انڈیا کے اس موقف کو مان لیا گیا تو اس سے ہمارے کاشتکاروں اور ہماری معیشت کو نقصان پہنچے گا۔ اس موقع پر انہوں نے چاول کے پاکستانی تاجروں کیلئے کہا کہ وہ پریشان نہ ہوں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہاں ممبران پارلیمنٹ کو افغانستان کی صورتحال سے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔ ہم نے انہیں کہا کہ اگر افغانستان کی حکومت کے پاس تنخواہیں دینے کے پیسے نہیں ہوں گے تو وہاں بدامنی اور بھوک ہوگی جس سے ملک کے اندر تشدد میں اضافہ ہوگا۔ اندرونی لڑائی بڑھے گی تو نہ صرف خطے میں عدم استحکام پیدا ہوگا بلکہ وہاں کے عوام مجبور ہوکر پڑوسی اور پھر یورپین ممالک کی طرف ہی آئیں گے۔ گورنر پنجاب نے مزید کہا کہ افغانستان کے عوام کیلئے انسانی امداد غیر مشروط ہونی چاہیے ہم لوگوں کو بھوکا نہیں مار سکتے۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ یورپین یونین نے جی ٹونٹی کے پلیٹ فارم سے افغان عوام کیلئے ایک ارب یورو دینے کا اعلان کیا ہے جو خوش آئند ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے طالبان سے بھی کہا کہ وہ انسانی حقوق، خواتین، بچیوں اور ان کی تعلیم کے حقوق کے بین الاقوامی مطالبات کو سمجھیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مزید بتایا کہ مختلف طرح کے خدشات پر ہم نے ممبران کو آگاہ کیا کہ افغانستان میں امن کا سب سے بڑا فائدہ پاکستان کو پہنچے گا ہمیں بدامنی سے نہیں امن سے فائدہ ہے۔ اسی لیے ہم کہ رہے ہیں کہ جب تک طالبان سے مذاکرات نہیں ہونگے، گفتگو نہیں ہوگی تو چیزیں آگے نہیں بڑھیں گی۔ تجربے نے بتایا ہے کہ جنگ افغانستان میں امن واستحکام اور تحفظ نہیں لا سکی۔ اس سے مزید دہشت گرد تنظیمیں پیدا ہوتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ برسلز میں پاکستان کی سفارتی کارکردگی ظہیر جنجوعہ کی قیادت میں بہت اچھی ہے۔ ہم نے مل کر پاکستان کا موقف بہت اچھے طریقے سے پیش کیا ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سیاسی سطح پر جو کوششیں اب کی جا رہی ہیں انہیں یہاں مسلسل جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس موقع پر یورپین پارلیمنٹ کے نائب صدر فابیو ماسیمو کلتادو کی دورے کی دعوت اور سابق ممبر یورپین پارلیمنٹ ڈیوڈ مارٹن کی کاوشوں کی بھی تعریف کی۔ یاد رہے کہ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے گزشتہ روز یورپین پارلیمنٹ میں مختلف کمیٹیوں سے تعلق رکھنے والے 12ممبران پارلیمنٹ سے یکے بعد دیگرے ملاقاتیں کیں اور ان تک پاکستان کا پیغام پہنچایا۔

یورپ سے سے مزید