پاکستان اس وقت ایک ایسے سوال کے سامنے کھڑا ہے جو بظاہر ایک انتظامی فیصلے سے جڑا ہوا نظر آتا ہے مگر درحقیقت اس کے اندر وقت، محنت اور قومی مزاج کا ایک بڑا فلسفہ پوشیدہ ہے۔ حکومت نے کفایت شعاری اور توانائی کی بچت کے نام پر جمعہ کے روز اضافی تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ پہلی نظر میں ایک سادہ سا قدم معلوم ہوتا ہے، جیسے کسی گھر میں بجلی بچانےکیلئے ایک بلب کم کر دیا جائے، مگر جب اسے ایک قوم کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ محض ایک چھٹی نہیں بلکہ ایک علامت بن جاتا ہے۔ یہ علامت اس سوچ کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہم اپنے مسائل کا حل حرکت میں تلاش کر رہے ہیں یا ٹھہراؤ میں۔ وقت کسی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے۔ سونا زمین سے نکالا جا سکتا ہے، تیل سمندر کے نیچے سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مگر وقت نہ کہیں سے خریدا جا سکتا ہے اور نہ دوبارہ پیدا کیا جا سکتا ہے ۔ جاپان نے دوسری جنگ عظیم کے بعد اپنی تباہی کی راکھ سے صنعتوں کا ایک نیا جہان کھڑا کیا۔ جنوبی کوریا نے نظم و ضبط کو قومی کردار بنا لیا اور جرمنی نے محنت اور ٹیکنالوجی کو اپنی ترقی کا ستون بنایا۔ چین نے اپنے وقت کو اس طرح استعمال کیا کہ ہر لمحہ کسی نہ کسی پیداواری عمل میں بدل گیا۔ ان قوموں نے چھٹیوں کو زندگی کا مقصد نہیں بنایا بلکہ کام کے لمحوں کو اپنی ترقی کی بنیاد بنایا۔ پاکستان کا مسئلہ یہ نہیں کہ اس کے پاس وسائل کم ہیں۔ مسئلہ دراصل یہ ہے کہ یہاں وقت کی قدر کم ہوتی جا رہی ہے۔ جب ایک قوم پہلے ہی ہفتے میں دو دن تعطیل مناتی ہو اور اس کے علاوہ قومی اور مذہبی تہواروں کی طویل فہرست بھی موجود ہو تو ایسے میں ایک اور اضافی چھٹی کا اضافہ صرف کیلنڈر کی تبدیلی نہیں ہوتا بلکہ یہ معیشت کی رفتار پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر ہفتے کے سات دنوں میں سے تین دن ادارے بند رہیں تو باقی چار دنوں کی محدود سرگرمی عالمی معیشت کے تیز قدموں کا ساتھ کیسے دے سکتی ہے۔ دنیا کے مالیاتی بازار پانچ دن مسلسل سرگرم رہتے ہیں، صنعتیں چھ دن کام کرتی ہیں اور عالمی تجارت لمحہ بہ لمحہ حرکت مانگتی ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کا چار دن کا فعال ہفتہ ایک ایسے مسافر کی مانند محسوس ہوتا ہے جو دوڑتی ہوئی ٹرین کو پیدل پکڑنے کی کوشش کر رہا ہو۔ حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ اضافی تعطیل سے توانائی کی بچت ہوگی اور بجلی کے استعمال میں کمی آئے گی۔ بلاشبہ توانائی کی بچت ایک اہم قومی ضرورت ہے اور اس کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا توانائی بچانے کا بہترین طریقہ سرگرمی کو روک دینا ہے یا اسے زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ دنیا نے توانائی کے بحرانوں کا سامنا کیا ہے مگر اس نے اپنے کام کے دروازے بند نہیں کیے۔ یورپ نے توانائی کی کمی کے دوران جدید عمارتیں تعمیر کیں جو کم بجلی استعمال کرتی ہیں۔ جاپان نے توانائی بچانے والی ٹیکنالوجی متعارف کروائی اور صنعتوں کو زیادہ مؤثر بنا دیا۔ ان ممالک نے بحران کو رکاوٹ نہیں بلکہ جدت کا موقع بنا لیا۔ پاکستان میں اضافی تعطیل کا اثر صرف سرکاری دفاتر تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کا سایہ پورے معاشی نظام پر پڑتا ہے۔ جب سرکاری ادارے بند ہوں تو کاروباری سرگرمیوں کی رفتار بھی سست پڑ جاتی ہے۔ فائلیں میزوں پر رک جاتی ہیں، فیصلے تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں اور سرمایہ کار انتظار میں تھک جاتے ہیں۔ معیشت ایک دریا کی طرح ہوتی ہے۔ اگر اس کا بہاؤ سست ہو جائے تو پانی میں ٹھہراؤ پیدا ہو جاتا ہے اور جب ٹھہراؤ بڑھ جائے تو دریا اپنی روانی کھو دیتا ہے۔ اضافی تعطیلات اسی ٹھہراؤ کی علامت بن سکتی ہیں۔ تعلیم کا شعبہ بھی اس فیصلے کے اثرات سے محفوظ نہیں رہتا۔ پاکستان پہلے ہی تعلیمی وقت کے نقصان کا شکار ہے۔ کبھی موسم تعطیلات بڑھا دیتا ہے، کبھی انتظامی فیصلے اور کبھی دیگر حالات تعلیمی سرگرمیوں کو متاثر کر دیتے ہیں۔ ایسے میں ایک اور تعطیل طلبہ کے سیکھنے کے مواقع کو مزید محدود کر سکتی ہے۔ کفایت شعاری کا اصل فلسفہ سرگرمی کو کم کرنا نہیں بلکہ وسائل کو بہتر استعمال کرنا ہوتا ہے۔ اگر ایک گھر مالی مشکلات کا شکار ہو تو اس کا سربراہ کام کے دن کم نہیں کرتا بلکہ اپنی محنت بڑھاتا ہے اور اخراجات کو منظم کرتا ہے۔ یہی اصول ایک ریاست پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ پاکستان کے عوام پہلے ہی مہنگائی اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ریاست کو ایک ایسا پیغام دینا چاہیے جو محنت، امید اور حرکت کی علامت ہو۔ اگر ریاست یہ تاثر دے کہ مسائل کا حل کام کے دن کم کرنے میں ہے تو یہ سوچ آہستہ آہستہ قومی مزاج کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ پاکستان عالمی معیشت کا حصہ ہے اور اس کے مالیاتی اور سفارتی روابط دنیا کے مختلف ممالک سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر ہمارے ادارے ہفتے کے تین دن خاموش رہیں تو عالمی رابطوں میں بھی تاخیر پیدا ہو سکتی ہے۔ بین الاقوامی تجارت انتظار کو پسند نہیں کرتی اور عالمی معیشت رفتار مانگتی ہے۔ یہ رفتار مسلسل حرکت سے پیدا ہوتی ہے۔ توانائی کے بحران کا حل تعطیل میں نہیں بلکہ بہتر منصوبہ بندی اور جدید ٹیکنالوجی میں پوشیدہ ہے۔ سرکاری عمارتوںمیں شمسی توانائی کے منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں، توانائی بچانے والی مشینیں استعمال کی جا سکتی ہیں اور عوامی سطح پر بجلی کی بچت کیلئے شعور بیدار کیا جا سکتا ہے۔پاکستان کو اس وقت زیادہ چھٹیوں کی نہیں بلکہ زیادہ حرکت کی ضرورت ہے، زیادہ خوابوں کی ضرورت ہے اور زیادہ محنت کی ضرورت ہے کیونکہ قوموںکو منزل آرام گاہوں میں نہیں بلکہ مسلسل سفر میں ملتی ہے۔