دھیمی آواز، نرم لہجہ، قہقہہ شاذو نادر

June 22, 2022

پیدائش…4ستمبر1923ء،ٹونک ،انڈیا
وفات… 20جون 2018ء،کراچی،پاکستان

یوسفی صاحب سے پہلی ملاقات طے ہوئی۔ یہ سوچ کر کہ ملاقات یک طرفہ شوق کی وجہ سے بوریت اور مایوسی کا باعث نہ ہو، ہم نے آنے سے پہلے ’’چراغ تلے‘‘ اور ’’خاکمِ بدہن‘‘ کے پسندیدہ مقامات پوری توجہ سے تازہ کیے۔ فقرے کے فقرے ذہن میں گونجنے لگے۔ اطمینان ہوگیا کہ کم سے کم حافظہ تو کسی قدر معقول تعارف کا حوالہ بن ہی جائے گا۔ پھر ساتھ ہی اور باتیں بھی ذہن میں آنے لگیں کہ یہ کہا جاسکتا ہے اور یہ پوچھا جاسکتا ہے وغیرہ۔ خیر، ملاقات میں خواجہ صاحب نے تعارف کرایا۔

یوسفی صاحب کی بابت ہمارا خیال تھا کہ بڑے ادیب ہیں اور زندگی بھی بڑے عہدوں پر گزاری ہے، ہما شما کو کیا خاطر میں لاتے ہوں گے، لیکن جیسا سوچتے ہوئے آئے تھے، ملاقات میں انھیں اس کے بالکل برعکس پایا۔ وہ محبت اور شفقت سے پیش آئے۔ تفصیل سے پوچھا، کیا پڑھتے لکھتے ہیں۔ فکشن سے ہماری خاص دل چسپی کا اندازہ کرتے ہوئے انھوں نے دریافت کیا، آپ نے ’’طلسمِ ہوش ربا‘‘ پڑھی ہے۔

ہم نے اثبات میں سر ہلایا۔ یوسفی صاحب کی چشمے کے پیچھے سے جھانکتی آنکھوں میں یک بہ یک استعجاب کا رنگ سا لہرایا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور پوچھتے، ہم نے خود ہی فی الفور عرض کیا، محمد حسن عسکری صاحب نے جو انتخاب کیا ہے، وہ پڑھا ہے۔ مسکرا کر بولے، ’’میں آپ کی جوانی کو رشک اور رنج کے ملے جلے جذبے سے دیکھ رہا تھا کہ کن کاموں میں صرف ہورہی ہے، مگر اچھا کیا کہ آپ نے وضاحت کردی۔‘‘

خواجہ صاحب نے تعارف کے کچھ اور پہلو بیان کیے اور ازراہِ شفقت ہماری شعرگوئی کا ذکر خاصے دل بڑھانے والے انداز میں کیا۔ شاعری کا سنا تو یوسفی صاحب مسکراتے ہوئے بولے، ’’میاں، آپ شاعر ہیں تو پھر ’طلسمِ ہوش ربا‘ کے مطالعے کے بارے میں تعلّی سے بھی کام لے سکتے تھے۔ ہمارے شاعر تو خدا جانے کس کس چیز کے بارے میں تعلّی سے کام لیتے ہیں اور بڑی بے تکلفی سے۔‘‘ پھر انگریزی ادب میں تعلیم کے حوالے سے بات نکلی تو پوچھا کہ انگریزی فکشن میں کیا کیا پڑھا ہے۔

بس اب تو رعب گانٹھنے کا موقع ہاتھ آگیا۔ گریک ٹریجڈی سے لے کر انگریزی ناولوں میں درجن بھر نام ایک ہی سانس میں گنوا دیے۔

سر ہلایا اور زیرِ لب تبسم کے ساتھ بولے، ’’اس کا مطلب ہے پڑھتے تو بہت ہیں آپ۔‘‘ اک ذرا تا ¿مل کیا، پھر کہا، ’’لیکن جو نام آپ نے گنوائے ہیں، سب کے سب سنجیدہ ادیب ہیں۔ آپ کی عمر میں تو آدمی دوسری قسم کے ناول جسے پاپولر فکشن کہتے ہیں، زیادہ پڑھتا ہے۔ کیا آپ نہیں پڑھتے— یا پھر بتانا نہیں چاہتے۔‘‘

نوجوانی میں آدمی عام طور سے کورا، سچا اور سادہ ہوتا ہے۔ ایسی کوئی چوری پکڑی جائے تو بس جھینپ کر رہ جاتا ہے۔ سو، ایسا ہی ہوا۔ یوسفی صاحب نے چہرہ پڑھ لیا۔ بولے، ’’میاں! بلاتکلف پڑھا کیجیے، ویسے آپ کی مرضی مگر قبولنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔‘‘ گہری مسکراہٹ چہرے پر نمایاں ہوئی اور کہا، ’’ایسی چیزیں آدمی اسی زمانے میں پڑھ ڈالے تو ٹھیک رہتا ہے اور اطمینان سے آگے چلتا ہے۔ اگلی عمر میں ان چیزوں کی طرف پلٹ کر دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔‘‘

اس کے بعد کچھ اور اِدھر اْدھر کی باتیں ہوتی رہیں پھر وہ پروف ریڈر صاحب سے مخاطب ہوئے۔ یوسفی صاحب نے پہلے انھیں داد دی کہ انھوں نے بہت محنت اور توجہ سے کام کیا ہے، اور یہ کہ ان کی نگاہ اچھی ہے، غلطیوں کو پکڑتی ہے وغیرہ۔ پھر کہا کہ ان غلطیوں کی اصلاح ہوجائے تو ایک بار اور پروف لفظاً لفظاً پڑھ دیجیے۔

پروف ریڈر صاحب تعریف پر خوش تھے اور پھولے نہیں سماتے تھے۔ بھرے میں آکر بولے، ’’ایک نہیں سر، پروف تو آپ کو ابھی دو تین بار اور پڑھوانا پڑے گا۔ یہ کمپیوٹر پر کام کرنے والے لڑکے پڑھے لکھے نہیں ہوتے۔ بس مشینی انداز میں کام کرتے ہیں۔ ایک صفحے پر چار غلطیاں درست کرتے ہیں تو دو نئی ڈال بھی دیتے ہیں۔‘‘

خواجہ صاحب نے کہا، ’’وہ میں انھیں سمجھا دوں گا۔ آپ کو یہ پریشانی نہیں ہوگی۔‘‘

پروف ریڈر ہوا میں تھے۔ کمپیوٹر آپریٹرز کی کچھ اور عزت افزائی کی۔ یوسفی صاحب بولے، ’’ان کو تو خواجہ صاحب سنبھال لیں گے۔ بس آپ پروف دیکھ لیجیے گا۔ ہاں ایک گزارش اور بھی ہے۔‘‘

انھوں نے شانِ استغنا سے یوسفی صاحب کی طرف نگاہ کی، بولے، ’’جی!‘‘

فرمایا، ’’آپ صرف املا کی غلطیاں درست کیجیے، تحریر اور مصنف کی غلطیوں کو یوں ہی جانے دیجیے۔‘‘

پروف ریڈر کا چہرہ یک بہ یک سوالیہ نشان بن گیا۔ بولے، ’’میں سمجھا نہیں۔‘‘

یوسفی صاحب نے نہایت سنجیدگی سے کہا، ’’آپ سے بہت دیر میں ملاقات ہوئی ہے۔ عمر کے اس حصے تک آتے آتے میں ایسے ہی لکھنے کا عادی ہوگیا ہوں، اور لوگ بھی اب میری ایسی ہی تحریریں پڑھنے کے عادی ہیں۔ مسودے میں آپ نے جو درستی کی ہے، طبیعت اسے قبول کرنے پر آمادہ نہیں اور پھر یہ بھی کہ پڑھنے والے میرے نام سے سامنے آنے والی آپ کی طرزِ نگارش کی داد نہ دیں گے، اس لیے گزارش ہے کہ میری تحریر کی اصلاح مت کیجیے۔ مسودے میں جیسا لکھا ہے، ویسا ہی جانے دیجیے۔ املا کی غلطیاں درست کردیجیے، بس یہی بہت ہے۔‘‘

بعض لوگ پہلی ہی ملاقات میں اپنی صورت شکل، وضع قطع، مزاج اور انداز و کا بڑا گہرا تا ¿ثر چھوڑتے ہیں۔ یوسفی صاحب کے ساتھ یہ معاملہ نہیں تھا۔ درمیانہ قد، گندمی رنگ، چہرہ دبلا اور لمبا، جسم اکہرا، آواز دھیمی اور لہجہ نرم۔ قہقہہ تو شاذ و نادر ہی کسی نے سنا ہوگا، بلکہ ہنسی تک میں کم کم ہی فراخی آتی تھی ورنہ اکثر نیم خندہ ہی معلوم ہوتے۔ چھا جانے اور اپنے سحر میں لینے والا مزاج ہی نہ تھا اْن کا۔ اس کے باوجود ان کی شخصیت اپنے اوصاف کے حاصل جمع میں ہمیشہ بڑی نظر آتی، دل کشی اور جاذبیت کے عناصر کے ساتھ۔ ان سے بات کرنا اور ان کی بات سننا اچھا معلوم ہوتا۔

ان کے بڑے پن کا سب سے اہم رْخ یہ تھا کہ ایک عام آدمی یا کوئی پہلی بار کا ملاقاتی بھی ان سے مل کر خود کو چھوٹا محسوس نہیں کرتا تھا، بلکہ وہ اس طرح بات کرتے کہ ملنے والا خود کو بڑا لگنے لگتا اور اطمینان محسوس کرتا۔ یوسفی صاحب بڑے ادیب ہی نہیں، بلکہ بڑے آدمی بھی تھے۔ بعد میں جب تسلسل سے ملاقاتیں رہیں اور غور کرنے کا موقع ملا تو اندازہ ہوا کہ وہ جو پروف ریڈر صاحب سے یوسفی صاحب کی گفتگو ہوئی تھی، وہ محض ایک شخص سے ان کے معاملے کا واقعہ نہیں تھا، بلکہ وہ تو اصلاً یوسفی صاحب کے مزاج کا ایک رْخ ہے۔

وہ شکایت یا سرزنش کے کسی بھی مسئلے پر براہِ راست درشت فقرے کہتے اور سنگ دلی کا رویہ اختیار کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھے گئے۔ کم سے کم تین دہائیوں کے اس عرصے میں ہم نے تو انھیں سنگلاخی کا اظہار کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انھیں کوئی بات ناگوارِ خاطر معلوم نہ ہوتی یا وہ رنجیدہ ہوتے اور کوفت محسوس نہ کرتے تھے۔ ایسا نہیں تھا۔ ظاہر ہے، وہ بھی گوشت پوست کے آدمی تھے اور بشری رویوں کے ساتھ، لیکن تہذیب دار مزاج تھا۔

رنج پہنچے، غصہ آئے یا پھر خوش طبعی کا موقع ہو، یوسفی صاحب کی شخصیت کا اظہار دھیمے سروں ہی میں ہوتا تھا۔ ہنسی مذاق کی بات اْن کی طرف سے پھلجھڑی کی طرح آتی تھی اور کبیدہ خاطر کرنے والی باتوں کو تو وہ جلد از جلد ذہن سے جھٹکنے کی کوشش کرتے۔ انھیں دْہرانے سے بھی گریزاں ہوتے۔ توجہ دلانے یا ردِعمل جاننے کی کوشش کی جاتی تو یہ کہہ کر بات ختم کر دیتے، ’’چھوڑیے میاں، کیا رکھا ہے ان باتوں میں۔ آدمی کیوں اپنا وقت خراب کرے۔‘‘