اُردو ادب کے بارے میں وقفے وقفے سے یہ جملے سننے میں آتے رہتے ہیں کہ’’ادب کی موت واقع ہوگئی ہے۔ ‘‘، ادب پر جمود طاری ہے۔‘‘، ’’ادب روبہ زوال ہے۔‘‘، ’’ادب تنزلی کا شکار ہے۔ ‘‘یہ جملے دہرانے والے ناقدین کی تعداد انگلیوں پرگنی جا سکتی ہے، مگر اُن کی آواز گونجتی ہے تو سنی بھی جاتی ہے۔
اِس کے برعکس اگر ہم اُردو ادب کے قارئین، ناقدین، مشاہیر اور محققین و طالبانِ علم وادب کی ادبی سرگرمیوں اور کتابوں کی خرید و فروخت پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں یہ سب جملے کھوکھلے نظر آتے ہیں اور جب اُردو ادب کے کاموں کی پذیرائی، ترویج و اشاعت اور اُردو ادب کا فروغ دیکھتے ہیں تو مذکورہ بالا تمام جملے دم توڑجاتے ہیں۔
قارئینِ شعروسخن اور اُردو ادب کے دل دادہ ابھی زندہ اور اُردو شعروسخن کے مطالعے میں مگن و مصروف ہیں۔ پاکستان کے قومی، نجی، سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں جو شعری کتب کی پذیرائیاں اور رونمائیاں ہو رہی ہیں اُن کی روداد بھی ایک الگ تاریخ مرتب کر رہی ہے۔
اگر ہم چند برسوں میں شایع ہونے والے شعری مجموعوں کی فہرست ترتیب دیں تو ایک کتاب تیار ہو سکتی ہے، مگر ہم یہاں صرف 2025ء میں شایع ہونے والی شاعری کی کتابوں کا جائزہ پیش کررہے ہیں جو اپنی مکمل آب وتاب اور حسن و رعنائیوں کے ساتھ زیورِ طباعت سے آراستہ ہوئیں اور اُنھوں نے اپنے تخلیق کار شاعروں کا مان بڑھایا۔
اِن کتابوں سے جہاں اُردو ادب کا دامن مالامال ہوا ، وہیں یہ کتابیں تاریخ اُردو ادب کا حصہ بھی بنیں اور اِن سے سرمایہ ادب میں وقیع اضافہ بھی ہوا۔ ملاحظہ کریں شاعری 2025کا جائزہ۔
……٭٭……٭٭……٭٭……
٭پاکستان کے معروف شاعر جناب خاور احمد(سابق چیف کمیشنر ایف بی آر) کا شعری مجموعہ ’’دل میں قندیل غم‘‘رنگ ادب پبلی کیشنز، کراچی سے شائع ہوا،جس پر محترمہ کشور ناہید، ڈاکٹر طارق ہاشمی اور شاعرعلی شاعر نے اپنی آرا کا اظہار کیا۔
مجموعہ انتہائی خوب صورت اور متاثر کن ہے۔ ٭معروف شاعروگیت نگارجناب، صابر ظفرکے اِس سال بالترتیب غزل کے تین مجموعے’’بسرکیا ہوا لمحہ‘‘،’’ہم کھلونے ہیں اپنی مٹی کے‘‘اور’’پنچھیوں کی دعا ہے جنگل۔‘‘ کراچی سےشائع ہوئے، اِن مجموعوں کو طاہر نظامی نے ترتیب دیا، سرورق سجاد خالدنے بنایا ۔٭ طنزومزاح نگار ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی سنجیدہ شاعری کی کلیات ’’کلیات ڈاکٹر انعام الحق جاوید‘‘، کراچی سے شائع ہوئی، اس کلیات نے قارئین شعروسخن کو چونکا دیا کہ ایک طنزومزاح نگار کی سنجیدہ شاعری بھی کسی بڑے شاعرسے کم نہیں ہے۔٭لاہور سے کثیرالتصانیف نعت گو شاعر جناب عبدالمجید چٹھہ کا نعتیہ کلیات’’حضور میرے عظیم تر ہیں‘‘نئی آب و تاب سے دھنک مطبوعات سے شایع ہوا، جس میں اُن کے چار نعتیہ مجموعے’’سید الہاشمی‘‘، ’’سیدالکائنات‘‘، ’’لانبی بعدی‘‘ اور ’’سیدالمصطفیٰ‘‘ شامل ہیں۔
عبدالمجید چٹھہ کو منظوم سیرت و نعت نگاری پر پاکستان میں رائج تقریباً تمام ایوارڈوں سے نوازا جا چکا ہے۔٭جناب محمود اختر خان کا مرتب کردہ اشعار کے انتخاب کا دوسرا ایڈیشن بعنوان’’اُردو کے مشہور اشعار‘‘ کے نام سے ،کراچی سے شائع ہواجس میں سیکڑوں مشہورومعروف اور زبان زدعام اشعار کو یک جا کیا گیا ہے۔ ٭محترمہ حمیدہ کشش کی ترتیب وپیش کش میں ایک غزل کا انتخاب ’’کراچی کے پانچ منفرد غزل گو‘‘کے نام سے شائع ہوا، جس میں پانچ شاعروں کی 100غزلوں کو شامل اشاعت کیا گیا۔ ٭اُردو سخن، لیہ سے کثیر التصانیف ادیب و شاعر جناب شبیر ناقد کا شعری مجموعہ’’آئینۂ ادراک‘‘شایع ہوا، اس سے قبل ان کی کئی درجن نظم و نثر کی تصانیف منظر عام پر آچکی ہیں۔٭ محمد فیصل عشرت کی ترتیب و تدوین کردہ اشعارکا انتخاب’’اُردو کے ضرب المثل اشعار(بہ اعتبار حروف تہجی)‘‘ ، کراچی سے شائع ہوا جس نے طلباوطالبات کی بیت بازی کے ذوق کو پورا کیا۔ ٭اُردو سخن، لیہ سے ایک اور شعری مجموعہ’’طلوعِ آفتاب‘‘جناب آفتاب احمد خان کا منظر عام پر آیاجومواد کے لحاظ سے قابلِ ذکر ہے۔٭محترمہ شمسہ نورین کا نعتیہ مجموعہ’’آبجوئے نور‘‘ کے عنوان سےراولپنڈی سے شایع ہوا۔ ٭لاہور سے احمد وقاص کا شعری مجموعہ ’’چاک‘‘زیورِ طباعت سے آراستہ ہوکر اشاعت پزیر ہوا۔ ٭پاکستان کے جید نقاد، اکرم کنجاہی کے شعری مجموعے’’بگولے رقص کرتے ہیں‘‘ کا دوسر ا ایڈیشن ترمیم و اضافہ کے ساتھ کراچی سے شائع ہوا جس کو بے حد پذیرائی ملی ۔یہ کتاب شاعر موصوف کی 36 ویں تصنیف ہے۔٭فرانس میں مقیم محترمہ شازملک کا حمدونعت، منقبت و سلام پر مبنی مجموعۂ کلام’’وَرَفَعنا لَکَ ذِکرَک‘‘اور ان کی ہائیکو اور غزلیات کا مجموعہ ’’ہم تمہارے ہیں‘‘ کے نام سے کراچی سے عمدہ طباعت اور خوب صورت سرورق کے ساتھ شایع ہوا ۔٭کوئٹہ کی معروف شاعرہ محترمہ صدف غوری کا شعری مجموعہ ’’ہجرووصال‘‘ کے نام سے ناصرملک نے اپنے اشاعتی ادارے’’اُردو سخن، لیہ سے شایع کیا۔٭ سیدہ پروین زینب سروری کی حمدونعت، مناقب و مناجات کا مجموعہ ’’آیاتِ نور‘‘ نعت آشنا ،لاہورسے شائع کیا گیا۔
ان کے کئی نعتیہ مجموعے زیورِ طباعت سے نہ صرف آراستہ ہوچکے ہیں بلکہ وہ قارئین شعرو سخن، ناقدین فن اور مشاہیر اُردو ادب سے دادو تحسین بھی وصول کر چکے ہیں۔ ٭جناب حماد نیازی نے محترمہ فرح رضوی کا شعری مجموعہ’’یاد کی دہرائی‘‘،جناب عدنان بشیر کے گیتوں کا مجموعہ’’شام ابد کے گیت‘‘،جناب سلمان ثروت کا شعری مجموعہ’’خواب رنگ‘‘، جناب سید وقار افضل کی شاعری کی کتاب’’سفر کے بعد‘‘، جناب انس رحمان کا شعری مجموعہ ’’چمنیوں کے نخیل‘‘، قمرجمیل کی نظموں کا مجموعہ’’جنگلی لڑکیوں کے نام‘‘، سرفراز زاہدکی نظموں کی کتاب’’لفظ میں کھڑکیاں بناتا ہوں‘‘، فاخرہ نورین کی نظموں کا مجموعہ ’’سرمئی نظمیں‘‘، جناب فہمی بدایونی کا شعری مجموعہ’’غبار‘‘،اور معروف شاعر زیب غوری کا ’’کلیات زیب غوری‘‘ شائع کیے۔
تمام کتابیں طباعت اور مواد ہر دو لحاظ سے قابل دادوتحسین ہیں۔٭ڈاکٹر رانا خالد محمود قیصر کے دو تازہ شعری مجموعے’’منزلیں اُداس ہیں‘‘اور ’’ستارے رقص کرتے ہیں‘‘کے عنوان سے شائع ہوئے، جنھوں نے اُردو ادب کے دامن کو مالا مال کیاہے۔
یہ ڈاکٹر رانا خالد محمود قیصر کی اکیس ویں اور بائیس ویں کتاب ہے۔٭محترم جاوید رسول جوہر کا شعری مجموعہ’’غزل و غزال‘‘ کے عنوان سے کراچی سے شائع ہوا، جو رومانوی غزلوں پر مشتمل ہے اور اُنھیں رومانوی شاعر ثابت کرتاہے۔٭دوحہ (قطر )سے تعلق رکھنے والی معروف شاعرہ محترمہ ثمرین ندیم ثمر کا شعری مجموعہ’’آرزوکا دیا‘‘رنگ ادب پبلی کیشنز،کراچی سے شایع ہوا جس کا مقدمہ ڈاکٹر شاداب احسانی نے تحریر کیا،اِس کی اشاعت کی نگرانی میں بھی وہ پیش پیش رہے۔٭کیلگری کینیڈا میں مقیم جناب قاضی راشد متین احمد کا شعری مجموعہ’’نخل آس‘‘لاہور سے شائع ہوا۔
کتاب مواد اور طباعت کے لحاظ سے انتہائی عمدہ اور دیدہ زیب ہے۔٭جناب کامران صدیقی کا پہلا شعری مجموعہ’’سناٹا بولتاہے ‘‘کراچی کے پلیٹ فارم سے زیورِ طباعت سے آراستہ ہوا ۔٭ڈاکٹر آفتاب مضطر کی منظومات کاکلیات’’نظم دفتی‘‘ کے عنوان سے شایع ہوا،جس میں نظم کے مختلف رنگ اور فی زمانہ جدید رنگ و آہنگ اور زبان و بیان کا سلیقہ دیکھنے میں آیا ہے۔
کلیات معیار اور مواد ہر دو کے لحاظ سے قابلِ مطالعہ اور لائق تحسین ہے۔٭معروف شاعر جناب سحرتاب رومانی کا آٹھواں شعری مجموعہ’’سفینے میں سمندر‘‘ کراچی سے عمدہ طباعت ، دیدہ زیب سرورق اور ربانی فیملی کے زرِ تعاون سے شایع ہوا۔مجموعہ غزلوں کی مقداراور معیار کے لحاظ سے قابل تعریف ہے۔٭کراچی کے تازہ کار شاعر جناب قاضی دانش صدیقی کا پہلا شعری مجموعہ ’’الست ‘‘ کے عنوان سےکراچی سے عمدہ طباعت ، دیدہ زیب سرورق اور ربانی فیملی کے زیرِ تعاون شایع ہوا۔ مجموعہ غزلوں کی خوب صورتی اور اچھی غزلوں کے لحاظ سے قابل تحسین ہے۔ ٭کراچی کے معروف شاعر جناب شبیر نازش کاتیسرا شعری مجموعہ’’سارے رنگ محبت کے‘‘جس کا دیدہ زیب سرورق اور عمدہ طباعت ہے۔
مجموعہ شاعری کے معیار کے لحاظ سے قابلتحسین ہے۔٭لیہ سے تعلق رکھنے والے معروف شاعر جناب جسارت خیالی کا مجموعۂ نعت’’مدحِ پیغمبرِ انقلاب‘‘ ٭ڈسکہ سے تعلق رکھنے والے معروف شاعر جناب وقاص عاجزکا مجموعۂ نعت ’’صحیفۂ رحمت‘‘ کے نام سےکراچی سے شائع ہوا۔ ٭پاکستان میں غزل کے معروف شاعر جناب ظفراقبال کے 18مجموعہ غزل پر مشتمل ’’اب تک‘‘کے عنوان سے تین کلیات (جلداول،دوم،اور سوم)رنگ ادب پبلی کیشنز، کراچی سے شائع ہوئے، جن کے سرورق سادہ مگر سادگی کا حُسن لیے ہوئے ہیں ،ہر جلد میں 6مجموعہ ہائے غزل شامل ہیں۔
جناب ظفر اقبال کے 30شعری مجموعوں پر مشتمل ’’اب تک‘‘ کے نام سے 5 اور کلیات منتظرِ اشاعت ہیں۔ ٭سبی (بلوچستان) سے بلوچستان کے نمائندہ شاعر جناب ریاض ندیم نیازی کا نعتیہ مجموعہ’’مدینے کا سلام‘‘کے نام سے،لاہور سے شایع ہوا،مجموعہ دل کش سرورق اور عمدہ کا غذ پر شایع ہواہے۔ ٭معروف شاعر جناب محسن اسرار کے دوشعری مجموعے ’’اندیشے‘‘ کراچی پبلی کیشنز، کراچی اور’’ردوقبول کے مابین‘‘ سلسلہ پبلی کیشنز، کراچی سے شایع ہوئے جو طباعت اورمواد کے لحاظ سے بہت اچھے ہوئے ہیں۔٭کراچی کے معروف حمدونعت گو شاعر و ثناخواں جناب یامین وارثی کی مدون و مرتب کردہ نعتیہ انتخاب ’’ہزار نعت‘‘کے عنوان سے کراچی سے شایع ہوئی، جس میں دنیا بھر سے ایک ہزار شعراکی ایک ہزار نعتیں شامل اشاعت ہیں۔یہ نعتیہ انتخاب اپنی نوعیت کے لحاظ سے ایک منفرد اور یادگارکام ہے۔اس انتخاب کی مدد سے جہاں سیکڑوں نعتیہ انتخاب ترتیب دیے جا سکتے ہیں وہاں نعت پر تحقیق کرنے والوں کے لیے یہ ایک ہی کتاب کافی ہوگی۔٭ جناب اشفاق ناصر کا شعری مجموعہ’’ازسرِ نو‘‘مکمل آب و تاب سے شائع ہوا۔ ٭اس سال معروف تازہ کار شاعرجناب دلاور علی آزرکے دو شعری مجموعے ’’آہنگ‘‘اور ’’ثریا‘‘ لاہورسے بہت خوب صورت انداز میں شایع ہوئے اور اُنھوں نے قارئینِ شعروسخن، ناقدینِ فن اور مشاہیرِ اُردو ادب سے دادو تحسین بھی وصول کی۔٭افضل خان کا شعری مجموعہ’’وہیں ملوں گا تجھے‘‘کے عنوان سے رومیل ہاؤس آف پبلی کیشنز، راولپنڈی کے پلیٹ فارم سے شایع ہوا ،جو طباعت کا اعلیٰ نمونہ بھی ہے اور مواد کے لحاظ سے قابلِ داد بھی۔ ٭جناب راشدامام کا شعری مجموعہ’’گم‘‘کے نام سے شایع ہوا۔ ٭پاکستان کے معروف اور نئی نسل کے شاعر جناب امر روحانی کا شعری مجموعہ’’خاک ور ‘‘کے نام سے شایع ہوا۔ ٭راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے معروف شاعر و ادیب اور کالم نگار جناب نسیم سحر کی دو شعری کتابیں منظر عام پر آئیں جن میں ایک’’سمن زارِ نعت‘‘(نعتیہ مجموعہ)،نعت آشنا،ملتان اور دوسرا ’’نئے عہد پر کھلیں گے‘‘(غزلیہ انتخاب)، شایع ہوئے۔ ٭جناب راشد عباسی کی نظموں کا مجموعہ ’’جہانِ ابد‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا، جو عمدہ نظم نگاری کا نمونہ ہے۔٭کراچی کے بزرگ شاعر جناب توفیق صدیقی کا شعری مجموعہ ’’صحرا میں بارش‘‘ شائع ہوا، جو ان کا پہلا شعری مجموعہ ہے، نقش اول ہی انتہائی خوب صورت، دیدہ زیب سرورق اور متاثرکن مواد لیے ہوئے ہے۔٭ محترمہ غزل جعفری کا شعری مجموعہ’’بس تم ہی رہو‘‘آداب انٹرنیشنل،کراچی سے خوب صورت سرورق اور عمدہ طباعت لیے منظر عام پر آیا۔٭محترمہ نزہت افتخار کی نظموں کا خوب صورت مجموعہ ’’سلگتی روح کا الاؤ‘‘ کے عنوان سے کراچی سے شائع ہوا۔
٭پاکستان کے معروف اور سینئر ترین نعت گوشاعرجناب حافظ عبدالغفار حافظ کا کلیاتِ نعت ’’کلیاتِ حافظ عبدالغفار حافظ‘‘ کے نام سے گیارہ سو باون صفحات کی ضخامت لیے خوب صورت طباعت اور دل کش سرورق کے ساتھ شائع ہوا، جس میں حافظ صاحب کی ساٹھ سالہ مشق سخن اور شعری کاوشوں کا نچوڑ شامل ہے۔
وہ ایک زود گو اور پختہ کار شاعرہیں، انہوں نے تمام مطبوعہ و غیرمطبوعہ تقدیسی شاعری اِس کلیات میں یک جا کر دی ہیں۔ کتاب کا مواد انتہائی اہم اور لائق صد ستائش ہے۔ یہ کتاب ادبی دنیا میں ایک خوب صورت اضافہ ثابت ہوگی ۔ان کی نمائندہ منقبت کاایک شعر پیش خدمت ہے:
حافظؔ فروغِ نعتِ رسولِ کریمﷺ
سہرا بندھا ہے جس پہ وہ ماتھا رضا کا ہے
٭… مدینۃ الاولیاء ملتان شہر سے معروف شاعر اور ماہرِ تعلیم جناب پروفیسر انور جمال کی اکثر تصانیف پنجاب کے اُردو نصاب میں شامل ہیں، اب ان کے اُردو ماہیوں کا مجموعہ’’دھوپ کی چھاؤں‘‘ کے عنوان سے’’سخن سرائے پبلی کیشنز، ملتان سے شائع ہوا، جس میں شاعر موصوف نے اُردو ماہیوں کے ساتھ ساتھ اُردو ماہیے کی وجہ تسمیہ، تاریخ اور روایت کی اجمالی بحث بھی شامل کی ہے، اِس لحاظ سے یہ کتاب تحقیقی نوعیت اختیار کر گئی ہے، مگر کتاب کا نوے فی صد حصہ شاعری پر مشتمل ہے۔
٭…پروفیسر ڈاکٹر سید محمد اقبال شاہ کی نظموں کا مجموعہ’’شامِ غم اِس طرح منائی ہے‘‘کے نام سے بہت خوب صورت طباعت اور دل کش سرورق کے ساتھ کراچی سے شائع ہوا، جس کا ہر صفحہ دیدہ زیب ڈیزائن پر مشتمل ہے ۔٭سندھ کی معروف شاعرہ محترمہ شائستہ سحر کا شعری مجموعہ’’سحر یاب‘‘ کے نام سے دل کش سرورق لیے ہوئے شائع ہوا ہے۔
کتاب میں حمدونعت اور نظم و غزل کو یک جا شائع کیا گیاہے۔پیش نظر شعری مجموعہ محترمہ شائستہ سحر کی پانچ ویں کتاب ہے۔اس کتاب میں شامل ان کا ایک نمائندہ شعر پیش خدمت ہے:
چار سو ہے فسونِ تیرہ شبی
کوئی تو شب کو سحریاب کرے
٭…تازہ کار شاعر جناب یحییٰ سرور چوہان کی شاعری کا اوّلین مجموعہ ’’قندیلِ شب ‘‘کے نام سے انتہائی حسین و جمیل پیکر لیے منظر عام پر آیا ہے۔ کتاب معیار اور مواد کے لحاظ سے انتہائی اہم ہے۔ یہ مجموعہ جناب یحییٰ سرور چوہان کی ادبی حیثیت کو اُجاگر کرنے میں سنگ میل کی حیثیت رکھتاہے۔ان کی ایک نمائندہ غزل کا ایک نمائندہ شعر ملاحظہ ہو:
خامشی، جگنو، ستارے، چاند اورچہرہ ترا
تجھ میں کیا کیا کچھ نہیں اے دامنِ زنبیلِ شب
٭…کثیرالتصانیف، قد آور ادبی شخصیت، پاکستان کے معروف شاعر جناب گہر اعظمی کے اصلاحی اور فکاہی کلام کا مجموعہ’’آئینۂ تمثال‘‘کے نام سے منظرعام پر آیا۔ کتاب کا سرورق محترمہ ہما غزنوی نے ڈیزائن کیا ہے۔
یہ جناب گہر اعظمی کی تیئس ویں کتاب ہے جس سے اُردو ادب کا نہ صرف دامن مالا مال ہوا ہے بلکہ یہ تاریخ اُردو ادب کا حصہ بھی بنے گی۔ اس کا ایک قطعہ پیش خدمت ہے:
چھوڑ دینا فرائضِ دینی
رزق کے واسطے ہے نادانی
بالیقیں ہاتھ میں ہے اللہ کے
کلھم رزق کی فراوانی
٭… ولیوں کے شہرملتان شریف سے تعلق رکھنے والے سنیئر شاعر جناب افسر علی افسر کا دوسرا شعری مجموعہ’’آدھی نیند‘‘ کے نام سے شائع ہوا، سرورق پاکستان کے نام ور مصور جناب ظفر صدیقی نے ڈیزائن کیا۔ کتاب مواد کے لحاظ سے بھی قابل تعریف ہے۔ افسر علی افسرایک طویل مدت سے شعر کہہ رہے ہیں جن کی مشق سخن قابل داد ہے، ان کی غزل سے ایک نمائندہ شعر ملاحظہ ہو:
بولنا کچھ نہیں چپ چاپ ہی تکتے رہنا
بات کرنے سے عبادت میں خلل ہوتا ہے
٭…ضلع اٹک کے معروف نعت گو شاعر جناب تصور اقبال کا تازہ نعتیہ مجموعہ ’’تصور میں مدینہ ہے‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا، جو خوب صورت پیکر لیے ہوئے ہے، سرورق نہایت دیدہ زیب اور دل کش ہے۔
تصور اقبال کی نعتیہ شاعری پر متعدد ناقدین فن شعر اور مشاہیر اُردو ادب نے اپنی آرا کا اظہار کیاہے، اُن کی نعتیہ شاعری کا مرکزو محور سیرتِ رسولِ اعظمﷺ ہے جو اصل نعت ہے۔ تصور اقبال کے نعتیہ مجموعے سے ایک شعر پیش خدمت ہے:
روزِ محشر ہے بخشش کا سامان یہ
مجھ سا شاعر جو نعتِ نبیﷺ کہہ گیا