بے سند اور جھوٹی روایات بیان کرنا جرم ہے

December 07, 2022

حافظ عبدالاعلیٰ درانی ۔۔۔۔ بریڈفورڈ
اللہ تعالیٰ نے جس طرح قرآن کریم کو ہر قسم کی مداخلت سے پاک رکھا ہے اسی طرح حضور خاتم النبیینﷺ کے فرمودات کو بھی جھوٹ سے پاک رکھنے کا انتظام فرمایا ہے اور اس کیلئے محدثین کی ایک بہت بڑی جماعت پیدا فرما دی ہے جس نے حضور اقدسﷺ کی طرف منسوب ایک ایک روایت کی صفائی کر ڈالی ہے اور حفظ و اتقان کا ایسا محفوظ و مصؤن نظام بن گیا ہے کہ کوئی روایت اس چھلنی سے صاف ہوئے بغیر صحیح نہیں کہلا سکتی ۔ شیخین کریمین حضرت الامام محمد بن اسماعیل البخاری ،حضرت امام مسلم القشیری کے علاوہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ نور اللہ مرقدہ کے بارے میں وقت کے علماء کا اتفاق تھاکہ جس حدیث کو ابن تیمیہ کہہ دیں نہیں، وہ حدیث صحیح ہو ہی نہیں سکتی اور دور حاضر میں بھی بےشمار ایسے علماء ہیں جو اس میں سند کی حیثیت رکھتے ہیں، مثلاً شیخ ابن باز علامہ ناصر الدین الالبانی،حضرت العلام حافظ محمد محدث گوندلوی وغیرہ ، عوام میں کئی ایسی روایات مشہور ہیں جن کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، ذیل میں ایسی چند بے سند روایات ملاحظہ فرمائیں، مسجد میں بال کا ہونا ایسا ہے جیسا کہ مردار گدھے کا ہونا، اس لیے مسجد سے بال نکالنا ایسا ہے جیساکہ مسجد سے مردار گدھے کو نکالنا، ایک صحابی کے چہرے پر ڈاڑھی کا صرف ایک ہی بال تھا، انھوں نے اس بال کو بھی کٹوادیا تو حضوراقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم نے وہ ایک بال کیوں کٹوادیا، اس سے تو ایک فرشتہ جھولا کرتا تھا،جب کوئی نوجوان توبہ کرتا ہے تو مشرق سے مغرب تک تمام قبرستانوں سے اللہ تعالیٰ چالیس دن تک عذاب کو دور کردیتا ہے، حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے مدینے والوں کی دعوت کی لیکن ایک صحابی مسجد نبوی میں گہری سوچ میں بیٹھے ہوئے تھے تو ان سے حضور اقدس ﷺ نے پوچھا کہ تم یہاں بیٹھے کیا کر رہےہو، تو وہ صحابی کہنے لگے کہ میں یہاں اسی فکر میں بیٹھا ہوں کہ کیسے آپﷺ کا ایک ایک امتی جہنم سےبچ کر جنت میں جانے والا بن جائے، تو یہ سن کر حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ اگر عبد الرحمٰن بن عوف ہزارسال بھی مدینہ والوں کی ایسی دعوتیں کرتا رہے تب بھی وہ تمہارے ثواب تک نہیں پہنچ سکتا، بے نمازی کی نحوست چالیس گھروں تک پھیل جاتی ہے، جس شخص کی طرف اللہ تعالیٰ ایک مرتبہ رحمت کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو اسے جہاد کیلئے قبول فرمالیتا ہے اور جس کی طرف دس بار رحمت کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو اسے حج کے لیے قبول فرما لیتا ہےاور جس کی طرف ستر مرتبہ رحمت کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو اسے اللہ کے راستے میں نکال دیتا ہے،جب استاد اور طالب علم کسی بستی سے گزرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس بستی کے قبرستان سے چالیس دن تک عذاب ہٹا لیتا ہے، جب کوئی داعی کسی قبرستان سے گزرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس قبرستان سے چالیس دن تک عذاب ہٹا لیتاہے، حضور اقدس ﷺ نے تندور میں روٹی لگائی لیکن وہ نہیں پکی، جب وجہ پوچھی گئی تو فرمایا کہ جس چیز کو محمدﷺ کے ہاتھ لگ جائیں اس کو آگ نہیں چھو سکتی،اسی طرح یہ جھوٹ سیدہ فاطمہ الزہراءصلوات اللہ و سلامہ علیھا کی طرف بھی منسوب ہے ، جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں نکلتا ہے تو اس کے گھر کی حفاظت کیلئے اللہ تعالیٰ پانچ سوفرشتے مقرر فرما دیتا ہے، مذکورہ بالا روایات کا حضور اقدس ﷺ اور حضرات صحابہ کرام سے کوئی ثبوت نہیں ملتا، ان روایات کی نہ تو کوئی صحیح سند ملتی ہے اور نہ ہی کوئی ضعیف سند، اس لیے ان کو بیان کرنے سے اجتناب کرناچاہئے، احادیث بیان کرنے میں شدید احتیاط کی ضرورت ہے، کیوں کہ کسی بات کی نسبت حضور اقدسﷺکی طرف کرنا یا کسی بات کو حدیث کہہ کر بیان کرنا بہت ہی نازک معاملہ ہے جس کیلئے شدید احتیاط کی ضرورت ہے، آج کل بہت سے لوگ احادیث کے معاملے میں کوئی احتیاط نہیں کرتے بلکہ کہیں بھی حدیث کے نام سے کوئی بات مل گئی تو مستند ماہرین اہلِ علم سے اس کی تحقیق کیےبغیر ہی اس کو حدیث کا نام دے کر بیان کردیتے ہیں جس کے نتیجے میں امت میں بہت سی من گھڑت روایات عام ہوجاتی ہیں اور اس کا بڑا نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ ایسی بے اصل اور غیر ثابت روایت بیان کرکےحضور اقدس ﷺ پر جھوٹ باندھنے کا شدید گناہ اپنے سر لے لیا جاتا ہے، ذیل میں اس حوالے سے دو احادیث مبارکہ ذکر کی جاتی ہیں تاکہ اس گناہ کی سنگینی کا اندازہ لگایاجاسکے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ،جس شخص نے مجھ پر جان بوجھ کرجھوٹ باندھا تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے، صحیح مسلم میں ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ مجھ پر جھوٹ نہ بولو، چنانچہ جو مجھ پرجھوٹ باندھتا ہے تو وہ جہنم میں داخل ہوگا، ان وعیدوں کے بعد کوئی بھی مسلمان من گھڑت اور بے بنیاد روایات پھیلانے کی جسارت نہیں کرسکتا اور نہ ہی بغیر تحقیق کیے حدیث بیان کرنے کی جرأت کرسکتا ہے، ایک اور بے احتیاطی یا جھوٹ یوں بولا جاتا ہے کہ ایک من گھڑت بات حدیث بنا کر آنحضرتﷺ کی طرف منسوب کرکے بطور حوالہ صحیح بخاری حدیث نمبر فلاں فلاں اور جب تحقیق کی جاتی ہے تو اس نمبر میں کوئی اور حدیث ہوتی ہے لہٰذا کسی صحیح حدیث کی کتاب پر بھی جھوٹ منسوب کرنا بھی اتنا ہی برا ہے جتنا نبی اقدسﷺ کی طرف جھوٹ منسوب کرنا، اس کی بہت سخت سزا ہے اور اس سے اللہ کی پناہ مانگی جائے ۔