Advertisement

دولت نہیں، عزت کمانا مُشکل ہے، علی ظفر

August 15, 2018
 

پاکستان کے مقبول ترین گلوکار، اداکار اور ماڈل علی ظفر ایک ہمہ جہت شخصیت کے حامل ہیں۔ وہ اچھےمصور، بہترین خطاط، مصنف، شاعر اور موسیقار بھی ہیں۔ انہوں نے پاکستان میںہی نہیں، بھارت جاکر بھی اپنی صلاحیتوںکا لوہا منوایا ہے۔ ان کی ہر ادا ایک خبر بن جاتی ہے۔ وہ بلاشبہ دْنیا بھر میںپھیلےہوئے اپنےلاکھوں، کروڑوں مداحوںکےدلوںکی دھڑکن ہیں۔ ٹی وی انٹرویوز میںکم نظر آتے ہیں، مگر جب جب نظر آتے ہیں، اپنی دھاک بٹھا جاتےہیں۔ اس خوبرو اور دلکش شخصیت کو لوگ دیکھنا بھی چاہتےہیںاور سننا بھی ۔ 18مئی 1980ء کو لاہور میںپیدا ہونےوالےعلی ظفر خیر سے 38 سال کےہوچکےہیں لیکن دیکھنے میںکم عمر لگتےہیں۔

انہوںنے2009ء میںاپنی پہلی محبت، عائشہ فاضلی سے شادی کی، جن سےان کےدو بچےہیں۔ ان کےوالدین پروفیسر ظفراللہ اور کنول امین پنجاب یونیورسٹی میںپڑھاتےتھے۔ علی ظفر کےایک بھائی زین امریکا میںآئی ٹی انڈسٹری سےوابستہ ہیں، جبکہ ان کے چھوٹے بھائی دانیال، حال ہی میںبھائی کےنقش قدم پر چلتےہوئے شوبزکی دنیامیںوارد ہوئے ہیں۔ علی ظفر نے گورنمنٹ کالج لاہور اور این سی اے سےتعلیم حاصل کی۔ وہ بالی ووڈ میںاب تک نو فلموںمیںکام کرچکےہیں، ان میں’’تیرےبن لادن‘‘، ’’لَو کا دِی اینڈ‘‘، ’’میرےبرادر کی دْلہن‘‘، ’’لندن پیرس نیویارک‘‘، ’’چشم بددور‘‘، ’’ٹوٹل سیاپا‘‘، ’’کِل دِل‘‘، ’’تیرےبن لادن 2‘‘ اور ’’ڈیئر زندگی‘‘ شامل ہیں۔2016ء میںانہوںنےپاکستانی فلم ’’لاہور سےآگے‘‘ میں بھی کام کیا تھا جبکہ ان کی ایک اور پاکستانی فلم ’’دیوسائی‘‘ زیرتکمیل ہے۔ بےشمار مقبول گیتوں کےعلاوہ علی ظفر نے1999ء میںپہلی بار بطور اداکار ’’کالج جینز‘‘ نامی ڈرامے سےاپنےاداکاری کےسفر کا آغاز کیا، پھر ’’کانچ کےپَر‘‘ اور ’’لنڈا بازار‘‘ جیسےڈراموںمیںکام کیا۔ ان کےمیوزک البمز ’’حقہ پانی‘‘ اور ’’جھوم‘‘ نےزبردست شہرت حاصل کی۔ علی ظفر کو اپنی ثقافت سے بھی بہت پیار ہے اُنہوں نے نے اپنے گھر میں رنگ برنگی چارپائیاں رکھی ہوئی ہیں۔ علی ظفر فائونڈیشن بھی قائم کی ہے، جہاں اسپیشل بچوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام ہے وہ ان بچوں کے ساتھ وقت گذارتے ہیں ۔

علی ظفر اپنی پروڈکشن میںبننےوالی پہلی پاکستانی فلم ’’طیفا اِن ٹربل‘‘ کےحوالےسےبھی خاصی شہرت حاصل کررہےہیں۔ فلم کی ہدایات احسن رحیم نےدی ہیں۔ علی ظفر نےہی اسےپروڈیوس کیا ،خود اس کےڈائیلاگ اور اسکرین پلے بھی لکھےہیں۔ مایا علی کےمقابل وہ خود اس فلم میںٹائٹل رول بھی ادا کررہےہیںجبکہ دیگر کاسٹ میںجاوید شیخ، محمود اسلم، نیئر اعجاز، صوفیہ خان، فیصل قریشی اور سیمی راحیل وغیرہ بھی شامل ہیں۔ یہ فلم ڈیڑھ ملین امریکی ڈالر یعنی 18 کروڑ روپےکےبجٹ سےتیار ہوئی ہے۔ مانڈوی والا انٹرٹینمنٹ اور ’’جیوفلمز‘‘ کے بینر تلے ریلیز ہونےوالی اس فلم کی پروموشن میںعلی ظفر مختلف ٹی وی چینلز پر فلم کی کاسٹ کےساتھ اکثر دکھائی دے رہےہیں۔ اسی حوالے سے اُنہوں نےجنگ میڈویک میگزین کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران نجی و فنی زندگی سے جڑے کئی دلچسپ سوالات کے جواب دیئے جو نذرِقارئین ہیں۔

٭… آپ نے اپنی فلم کا نام ’’طیفا اِن ٹربل‘‘ کیوں رکھا اوراسےبنانے کا خیال کیسے آیا؟

علی ظفر … یہ نام اس لئے رکھا کہ جب یہ فلم بڑے پردے پر دیکھی جائے گی تو اس میںسامعین کو کرداروں کے مختلف رنگ نظر آئیں گے۔ کئی سینئر آرٹسٹ بھی اس فلم میں جلوے دکھارہے ہیں اور اُن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنے کرداروں پر اچھی گرفت رکھتے ہیں۔ ہنسی مذاق، ایکشن ، رومانس، کامیڈی سب ہی کچھ ہم نے اس فلم میں دکھانے کی کوشش کی ہے۔ طیفا اِن ٹربل میں سب کچھ کور ہوگیا۔ لوگ فلم کو دیکھ کر سنیما گھروں سے باہر نکل رہے ہیں تو اپنے تمام غم بھول گئے ہیں اور اپنے تمام دوستوں سے کہہ رہے ہیںکہ یہ فلم ایک بار اور دیکھیںگے ۔ اب رہا سوال کہ میں یہ فلم کیوں بنانا چاہتا تھا ؟۔ دراصل میری خواہش تھی کہ ایک ایسی پاکستانی فلم بنائوں ،جسے پوری دُنیا اُسے دیکھے اور پاکستانیوں کے سر فخر سے بلند ہوجائیں۔ سب اُس فلم کو بڑے پردے پر دیکھ کر جھوم اُٹھیں اور حیرت زدہ ہوکر کہیں کہ،یہ ہے پاکستانی فلم ، پاکستان بھی اتنی شاندار فلمیں بنا سکتا ہے؟۔

٭… جب آپ کی فلم پوری دُنیا میں ریلیز ہوئی اس وقت آپ کے کیا جذبات تھے؟

علی ظفر … وہ جذبات میں لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا۔ ہر انسان کا ایک بڑا خواب ہوتا ہے اور جب وہ خواب پورا ہونے لگتا ہے تو آپ اُس کی خوشی کو بیان نہیں کر پاتے۔ مجھے اس سے بھی زیادہ یہ اچھا لگا کہ بہت خوبصورتی سے لوگوں نے میری فلم کے حوالے سے ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ ہماری فلم کے ٹیزر، ٹریلر، پوسٹرز اور گانوں پر جب عوام ردِعمل دیتے تو خوشی سے میرا ڈھیروخون بڑھ جاتا تھا۔ میں نے بہت دِل لگا کر اس فلم کو بنایا ہے ، زندگی بھر کام کرنے کا جو بھی تجربہ تھا، وہ میں نے اس پر خرچ کردیاہے، تاکہ میں پاکستان کیلئے ایسی فلم بنا سکوں جو بین الاقوامی سطح پر ہمارا سر فخر سے بلند کردے۔ آپ ہماری کامیابی کا اندازہ اِس فلم کے گیتوں سے لگا سکتے ہیں جو کئی عرصے تک ٹاپ ٹرینڈمیں رہے اور آج مجھے بے حد خوشی ہے کہ یہ پاکستان کی کامیاب ترین فلم بن گئی ہے۔ میرے پرستاروں نے جتنا پیار اور محبت مجھے دی ہے میں اُن کا شکریہ لفظوں سے ادا نہیں کر پارہا۔ میں سب ہی کا مشکور ہوں جنہوں نے مجھے اعتماد دیا، مجھ پر اور میرے کام پر اعتماد کیا اور یقین کریں میں اپنے چاہنے والوں کا بھروسہ کبھی نہیں توڑوں گا۔

٭… کیا طیفا اِن ٹربل نے پاکستان کی فلم انڈسٹری کو ایک بار پھر فعال کردیا ہے؟

علی ظفر … بات یہ ہے کہ بھارت کی فلم انڈسٹری ایک دَم اپنے پائوں پر کھڑی نہیں ہوئی، کئی اونچ نیچ پار کرنے کے بعد وہ اس مقام تک پہنچے ہیں۔ ہم نے بھی اچھی فلمیں بنانے کا آغاز کردیا ہے، اب ہم نے ایک درست سمت اختیار کرلی ہے لہٰذا اُمید ہے کہ ہماری فلم انڈسٹری بھی اپنے پائوں پر جلد کھڑی ہوجائے گی۔

٭… کیا مایا علی کا انتخاب کرنے کی خاص وجہ تھی؟

علی ظفر … دراصل احسن رحیم نے آڈیشنز لئے تھے، وہ نام نہیں کردار دیکھ رہے تھے کہ فلم کی ہیروئن کا کردار کون سب سے بہترین انداز میں ادا کرسکتا ہے۔ اس لئے مایا کا انتخاب ہوگیا اور مجھے خوشی ہے کہ ہماری کیمسٹری بہترین رہی ۔ نا صرف مایا نے اس فلم کیلئے انتھک محنت کی ہے بلکہ میں نے بھی صرف ایکشن دکھانے کیلئے کئی ماہ تک باقاعدہ ٹریننگ لی اس کے علاوہ کچھ کوریو گرافرز بھی باہر سے بلوائے گئے تھے۔

٭… آپ نے اپنی فلم کو کسی تہوار پر ریلیز کیوں نہیں کیا؟

علی ظفر … ہمارا بھی یہی پلان تھا کہ ہم اپنی فلم کو عید پر ریلیز کریں، میرے خیال سے سب یہی اُمید کرتے ہیں کہ چھٹی والے دِن بڑی تعداد میں لوگ فلم دیکھنے آئیں، ہماری فلم بڑے پردے پر ریلیز ہو اور سب انجوائے کریں۔ لیکن ایک دِن اچانک یہ بات ذہن میں آئی کہ ہمیں کسی بھی دوسری پاکستانی فلم کو ڈیمیج نہیں کرنا چاہئے، ہم نہیں چاہتے تھے کہ اپنی ہی فلمی صنعت سے بلا وجہ کا کمپٹیشن کریں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہر فلم کی اپنی تقدیر ہوتی ہے۔ ہم پہلی بار فلم بنا کر سامنے لارہے تھے ،لہٰذا ہم نے یہ بھی روایت قائم کرنی تھی کہ اگر فلم اچھی ہو تو وہ کسی بھی دِن کامیاب ہوسکتی ہے۔ اس انوکھی روایت کو قائم کرنے کیلئے ہم نے اتنا بڑا رسک لیا تھا۔ بات یہ ہے کہ مستقبل میں اگر پاکستان کی فلم انڈسٹری 40-50 فلمیں ریلیز کرے گی تو سال بھر میںعیدیں تو 40-50 نہیں ہوتیں ،لہٰذا ہماری خواہش تھی کہ جس دِن طیفا اِن ٹربل ریلیز ہو اُسی دِن سب کی عید ہو جائے اور سب حیران ہیں کہ ایسا ہی ہوا۔ جس دِن یہ فلم ریلیز ہوئی اس نے ریکارڈ پر ریکارڈ قائم کردیئے۔

٭… پاکستان سمیت 25 ممالک میں ریلیز کرنے کی کوئی خاص وجہ ؟

علی ظفر … ہاں! اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ جب یہ فلم 25 ممالک میں لگے گی تو مزید 25 ممالک کے دروازے ہماری فلمی صنعت کیلئے کھل جائیں گے۔ مجھے فخر ہے کہ یہ پہلی پاکستانی فلم ہے جو 25 ممالک میں مختلف زبانوں میں ریلیز کی گئی۔ ان میں سے 14-15 ممالک ایسے ہیں جہاں کبھی بھی پاکستانی فلم ریلیز نہیں ہوئی۔ یہ کراچی، لاہور، اسلام آباد کی جیت نہیں ہے، یہ پورے پاکستان کی جیت ہے، ہمارا کام کوشش کرنا تھا ، ہم نے بھر پور کوشش کی ، کامیابیاں اوپر والا دیتا ہے اور اس نے بہت کامیابیاں دی ہیں۔

٭… مستقبل میں ہدایتکاری کریں گے؟

علی ظفر … مجھے ہدایتکاری پسند ہے لیکن فی الحال تو میں گلوکاری اور اداکاری میں ہی خوش ہوں۔ بات یہ ہے کہ ہدایتکاری بہت بڑی ذمہ داری والا کام ہے اور اس کا فیصلہ مستقبل میں کروں گا۔

٭… اپنے اور گھر کے حوالے سے کچھ بتائیں؟

علی ظفر…میری عادت ہے کہ مجھے لکھنا اچھا لگتا ہے کیونکہ اس وقت کوئی بدحواسی نہیںہوتی۔ میںاپنے خیالات کاغذ پر لکھتا ہوں۔ یہ سب کرنےسےپہلےمیںاللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں اور اگر مجھےکوئی خواہش ہےیا اگر میںکوئی اُس سےالتجا کرنا چاہتا ہوںتوڈائری میں لکھتا ہوں۔جس طرحہم لوگ دعا مانگتے ہیں، مجھےایسےکرنااچھا لگتا ہے کہ اگر میری کوئی خواہشہےتو میںلکھ کر بھی اس کا اظہار کروں۔جس طرحسے اللہ عطا کرتا ہے، وہ ایک اور ہی طریقہ ہے، ایک اور ہی چیز ہے، اس کو بیان کرنا مشکل ہے۔

٭… سناہےآپ شعروشاعری بھی کرتے ہیں؟

علی ظفر:غالب کہتے ہیںکہ ؎

آتےہیںغیب سےیہ مضامین خیال میں

٭… گیت کس کیفیت میںلکھتےہیں؟

علی ظفر… گانوںکا پروسیس کچھ اور ہوتا ہے۔ جیسے’’جھوم‘‘ ایک گانا ہے، میںنےتجھےدیکھا ہنستےہوئے گالوں میں، جتنی تو ملتی جائے، اُتنی لگے تھوڑی تھوڑی، وہ بھی ایک خاص طریقہ کار اور خاص ذریعےسےآیا۔ لیکن دوسری طرف ایک راک اسٹار جیسا گانا کہ ’’کالی کالی راتوںمیںکالا چشمہ پہن کے آتا ہوں، ہر پارٹی کی جان بن جاتا ہوں، میںنہیںسنتا اپنےباپ کی، نہ کوئی ٹی شرٹ میرےناپ کی، یہ باڈی، یہ ڈولے، ہولے ہولے، تو گوگلز کرلےیار، آئی ایم آ ،راک اسٹار‘‘یہ گانا بھی کوک اسٹوڈیو میںفائنل کرنا تھا، لیرکس اس کے فائنل نہیںہورہےتھے۔ میرےپاس بڑا کم ٹائم تھا تو جلدی جلدی میںنےناشتہ کیا اور پھر دماغ میں لیرکس آئے۔ تو کبھی کبھی بڑی مزے سےچیزیںآجاتی ہیں۔

٭… کئی برس سے آپ ایسےہی نظرآ تے ہیں، نوجوان نوجوان سےکوئی خاص قسم کی خوراک استعمال کرتے ہیں ؟

علی ظفر… ایک تو جینیاتی طور پر ماںباپ کی وجہ سےایسا ہوتا ہے۔ لیکن میری ایک روٹین، ایک ڈسپلن ہے۔ میںصبحاُٹھ کر سب سےپہلےگرین ٹی میںتھوڑی ہلدی اور نیوزی لینڈ کا ایک خاص شہد ڈال کروہ چائے ضرور پیتا ہوں۔ مجھے کسی اورکا تو نہیں معلوم لیکن میںشہد ضرور کھاتا ہوں۔ دوسری چیز یہ کہ Meditation سے اپنا دن شروع کرتا ہوں۔ ورزش کرنے کے بعد یوگا کے کچھ آسن کرلیتا ہوں۔

٭… کیا آپ کے اندر روحانی عنصر بھی ہے؟

علی ظفر… روحانیت کا شروع سےایک عنصر تھا اور ایک جستجو تھی اس طرف۔

٭… آپ بیک وقت پینٹر،ایکٹر ،گلوکار، فلم ساز اور خطاط بھی ہیں ؟ اتنے سارے کام ایک ساتھ ؟؟

علی ظفر… مجھےاپنی ایک چیز پر بہت فخر ہےکہ میںنےزندگی میںبہت محنت کی ہے۔ میرے خیال میںمحنت کا کوئی متبادل نہیںہوتا۔ ریکارڈنگ کیلئے جدید آڈیو اسٹوڈیو ، ہوم تھیٹر اور خطاطی کا سامان میرے ساس، سسر نے تحفہ میں دیا ہے کیونکہ مجھے خطاطی کا شوق ہے، اس میںمختلف طرح کےقلم موجود ہیں۔خطاطی خود ڈیولپ کی ہے۔

٭… اپنا کون سا کام بہت شوق سے کرتےہیں پسند ہے ؟

علی ظفر… یہ میرےبس میںنہیںہےکہ میں خود سےیہ فیصلہ لےلوںکہ کس چیز پر توجہ مرکوز کرنی ہے۔ اگر گانے کی دُھن کی آمد ہوتی ہے تو میںاس کو روک نہیںسکتا۔ اگر شاعری کا موڈ ہےتو اس کو روک نہیںسکتا۔اگر ایکٹنگ کا دل کررہا ہےتو مجھ سے رُکا نہیںجاتا۔ اب جس طرح میں نےفلم بنائی ہے’’طیفا اِن ٹربل‘‘یہ میرا ایک خواب تھا کہ ایک ایسی فلم بنائی جا ئے پاکستان میں،جو بین الاقوامی سطحکی ہو اور ہمیںعالمی سطحپر نمائندگی ملے۔

٭… پاکستان اور بھارت کا کیسے موازنہ کرتے ہیں؟

علی ظفر… بھارتیوں نےاپنی ایک انڈسٹری تیار کی ہے اس پر کافی عرصہ لگایا ہے، وہ ایک پروسیس سےگزرےہیں، پھر جاکر اُن کی ایک انڈسٹری ڈیولپ ہوئی ہے، وہ اب لاکھوںلوگوںکو روزگار دیتی ہے۔ اس انڈسٹری کی ایک معیشت ہے۔ ہمارےیہاںبدقسمتی سےوہ انڈسٹری بن نہیںسکی اور فنکاروں کو وہ مقام اور عزت، جس کےوہ حقدار ہیں، اس طرحسےشاید نہیںمل پایا لیکن اب مجھےلگتا ہےکہ آگہی بڑھ رہی ہے،اگر آپ صرف عزت کمائیں تو پیسہ خود بہ خود بن جاتا ہے۔

٭… بھارت بڑےاداکار، گلوکار، اداکارائیں، آپ کو اپنا دوست کہتے ہیں ایسا ہی ہے ؟

علی ظفر… میں نےایک ہی زبان بولی آج تک، وہ زبان ہے پیار کی،، سلمان خان نےجب مجھے اپنےفارم ہائوس پر مدعو کیا ، پوری رات ہم گفتگو کررہے۔انہوںنےاپنی زندگی کی بہت سےذاتی چیزیں مجھے بتائیں، میںنےبھی ڈسکس کیں۔ اسی طرحشاہ رخ ہیں، ان سےایک اور طرح کا تعلق ہے۔ لیکن روزانہ کی بنیاد پر اس طرح نہیںہوتا، کیونکہ ہر کوئی اپنی اپنی زندگی میں مصروف ہوتا ہے،فلم ’’سلطان‘‘کے ڈائریکٹر علی عباس ظفر ہیں وہ بہت اچھےدوست ہیں۔ ادیتی رائو حیدری ، شاد علی، پریانکا چوپڑا ہیں، جب ’’طیفا اِن ٹربل‘‘ کا ٹیزر آیا تھا تو خاص طور پر پریانکا نےاسکےبارےمیںٹویٹ کیا تھا کہ ’’طیفا آنہیںرہا، طیفا آگیا ہے‘‘ تو مجھےبڑا مزے کا لگا۔ ان کا پیار ہے، محبت ہےکہ وہ سپورٹ کرتےہیںاور شاید مجھ میںکوئی اچھی چیز اُن کو نظر آئی ہو۔

٭…آپ نےتو کترینا کیف کے دوپٹےکو بھی سنبھالا دیا تھا

علی ظفر: دوپٹےمیں سنبھالتا رہتا ہوں۔ دوپٹےسنبھالتے سنبھالتے الزام بھی تو لگ جاتا ہے۔ لیکن کیا کہیں،دُنیا کے کئی رُخ ہیں، کئی پہلو ہیں۔

٭… آپ کا پسندیدہ گلوکار کون کون ہیں؟

علی ظفر… بڑےغلام علی خان صاحب، مہدی حسن صاحب خان صاحب، کشور کمار، محمد رفیع، لتا جی، آشا جی مجھےبہت پسند ہیں۔ ویسےفرینک سناترا، ایلوس پریسلے بھی مجھےبہت پسند ہیں۔ سوچتا ہوں کہ ایشیا میںتو چھا گئے، دُنیا میںبھی چھائیں، ہالی و وڈ بھی جائوں وہاںبھی اپنا نام کمائوں، کیونکہ خواب ہمیشہ بڑےہی دیکھنے چاہئیں۔سوال یہ بھی ہوگا کہ خواب کیسےپورے کریںگے، بس آپ دیکھتےجائیں،کچھ نہ کچھ کام تو ہو ہی رہا ہے۔

٭… کونسی شخصیت بہت پرکشش لگتی ہے؟

علی ظفر… میںنے اپنی بیگم سے کہا کہ شارلی تھیرون مجھےبڑی پسند ہے،اگر میںان سےملا تو مجھےایک وقت کا کھانا اس کےساتھ اکیلے کھانےدینا۔ اس نےکہا کہ ہاں، اس کےساتھ اجازت ہے۔ بچپن میںمجھےسلمیٰ ہائیک بڑی پسند تھیں لیکن ان سےملاقات ہوگئی۔ وہ تھوڑی سی میری فین لگ رہی تھیں ملنےکےبعد، لیکن یہ میری غلط فہمی ہے۔

٭… آپ کےخیال میںخوب صورتی کا معیار کیا ہے؟

علی ظفر…یہ دل یہ تو ہے۔جو چیز دل میںہوتی ہے، وہ چہرے پر آجاتی ہے۔ چہرہ پرکشش ہونا یا اچھا ہونا خدا کی نعمت ہے۔

٭… کوئی کیردارکرنے کی خواہش ؟

علی ظفر… ایک فلم میں ہیتھ لیجر نے ’’جوکر‘‘ کا رول پلےکیا تھا، اس طرحکاکردار کرنا چاہتاہوں،اس کے علاوہ وہ کردار جو مجھ سے میچ نہ کرے اور میر ی شخصیت سےبھی بہت مختلف ہو، وہ کرکے میںبہت انجوائے کروںگا۔

٭… کیاآپ کی شخصیت میں کوئی تضادہے؟؟

علی ظفر…عادتاً سنجیدہ اور گہری سوچ کامالک ہوں ،میرےدماغ میںصرف یہ چل رہا ہوتا ہے کہ جن لوگوںکےلیےجوکرنے والا ہوں، وہ میںکرپائوںگا۔ اگر مجھے کسی کو انٹرٹین کرنےکےلیے ایک دَم سےایک مختلف کردار میںآجانا ہے اور مزاحیہ ہوجانا ہےتو وہ میںکرلوںگا۔ میںجب کوئی سین کرتا ہوںتو اس وقت اس کردار کو اپنےاوپر طاری کرلیتا ہوں، اس کو محسوس کرکے کرتا ہوں۔

٭…کونسی کتابیں پڑھتےہیں؟

علی ظفر… میں یہ نہیںدیکھتا کہ مجھےدُنیا کے امیر ترین آدمی کی کتاب پڑھنا ہے کہ اس نےپیسہ کیسےکمایا، میںدیکھتا ہوںکہ یہ انسان عظیم کیسےبنا۔ نیلسن منڈیلا کیسےبنا۔

٭… کیا دولت کمانا پسند ہے ؟

میرا گانا ہے کوک اسٹوڈیو میں ’’جولی‘‘اس میںکہا جارہا ہے کہ دولت کمانا، عزت کمانا، ایک دن دُنیا سےسب کو ہے جانا، پیار ہی مہان ہے، باقی سب سامان ہے، آنےوالی نسلوںکو میرا یہ پیغام ہے، کہ پیسہ، جوانی، نہیںرہتےجانی، ان کا بھروسہ نہیںہے، رشتےاور ناتے، اور پیار والی باتیں، ان میںہی ہےزندگی۔ اپنےگانوںاور آرٹ کےذریعے، یہاںتک کہ میری فلم ’’طیفا اِن ٹربل‘‘کے پیچھےبھی جو میسج ہے، فلم دیکھ کر جو لوگ اسےمحسوس کریں گے کہ پیسہ کمانا مشکل نہیںہے، عزت کمانا مشکل ہے۔ میںیہ نہیںکہہ رہا کہ پیسہ کمانا برا ہے، میںکہتا ہوںکہ سب کو کمانا چاہیے۔

علی ظفر: میںنے ایک نظم لکھی تھی آج کل کےدَور کےحساب سے وہ یہ تھی کہ

چلو آئو دیکھیں کب تک چلےگا یہ سب

کچھ نہ رہےگا باقی ہم جاگ اُٹھیںگےتب

سنائیں گے پھر یہ داستاںپر سننےوالا نہ کوئی

گہری نیند میںمدہوش اور خواب بننےوالا نہ کوئی

پھر دیںگےسدا تک سدائیں

مانگیںگے گڑگڑا کےدُعائیں

کہ جگا دےہمیںاُس خوابِ غفلت سے

کہ جہاں کچھ تو غلط ہورہا ہے


مکمل خبر پڑھیں