Advertisement

ملیر جو کبھی سر سبز و شاداب علاقہ تھا

August 15, 2019
 

رمشا عروج

شہر کراچی کی قدامت کے حوالے سے محققین اور مورخین کبھی ایک نہ ہو سکے کچھ مورخین کا کہنا یہ ہے کہ شہر کراچی کا آغاز 1729 میں بھوجو مل نامی تاجر نے کیا تو کچھ کا ماننا یہ ہے کہ یہ شہر مائی کولاچی کا شہر ہے جبکہ بعض مورخین اسے پتھر تانبے اور کانسی دور سے بھی جوڑتے ہیں، مگر بات کچھ بھی ہو تمام کا یہ ماننا ہے کہ یہ شہر انتہائی قدیم شہر ہے، جس کا آغاز منوڑہ کے جزیرے سے ہوا لیکن ان محققین اور مورخین میں سے بہت کم نے کراچی سے جڑے مضافاتی علاقوں لانڈھی ،کورنگی،گزری اور ملیر پر روشنی ڈالی ہے، جس کی وجہ سے آج بھی ان علاقوں کی قدامت آنکھوں سے اوجھل ہے ۔اب جہاں تک کراچی یا کولاچی کی قدامت کا تعلق ہے تو قومی شاہراہ کے ساتھ آباد ملیر کو اس سلسلے میں خصوصی اہمیت حاصل ہے ۔

یوں تو ملیر سندھی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہی ہر یالی اور خوشحالی کے ہیں اور عملی طور پر بھی یہ علاقہ ہمیشہ سر سبز و شاداب رہا ہے، جہاں گنگناتی ندی کے ساتھ ساتھ لہلاتی فصل اور پھلوں کے باغات تھے اور اسی وجہ سے اس کی آب و ہوا ماضی میں انتہائی معتدل تھی۔ اسی وجہ سے اس وقت کے ہندو بیو پاریوں نے یہاں اپنے رہنے کے لئے بڑی بڑی کوٹھیاں بنا رکھی تھیں، جن میں کیا مل بلڈنگ، دولت رام بلڈنگ ،رام بازی بلڈنگ ،گروگل پاٹھ شالہ اور شانتی کٹی جیسی عمارتیں شامل ہیں۔ ہندؤں نے اس علاقے میں مندر اور پارسیوں نے صحت گاہیں قائم کر رکھی تھیں، جہاں ہر قسم کے پھلوں، پھولوں کے درخت پائے جاتے تھے، جبکہ اس کے چاروں طرف لہلہاتی فصلیں دیکھنے میں بھلی معلوم ہوتی تھیں ۔

ملیر کا یہ علاقہ جو کہ ماضی میں انتہائی پر فضا مقام رکھتا تھا جہاں دور دور سے لوگ آب و ہوا کی تبدیلی کے لئے لوگ آیا کر تے تھے، وہاں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح بھی قیام پاکستان سے قبل اپنی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کے ہمراہ ڈملوٹی بنگلے میں جو آج بھی خستہ حالت میں موجود ہے میں نا صرف قیام کیا کر تے تھے بلکہ بعض بزرگوں کاکہنا ہے کہ وہ اسی بنگلے میں بیٹھ کر نا صرف سیاسی امور نمٹاتے تھے بلکہ غالباََ یہ وہی ریسٹ ہاؤس تھا، جس سے انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کے ٹکٹ بھی تقسیم کئے تھے۔

ملیر میں موجود قدیم کوٹھیاں ،مندرو دیگر قدیم مقامات اس کی قدامت بتانے کے لئے کافی نہیں کیونکہ مورخین اسے موہن جودڑو اور ہڑپہ کا ہم اثر قرار دیتے ہیں، جبکہ محکمہ آثار قدیمہ جوکہ قیام پاکستان سے قبل ہی قائم تھا نے یہاں جب مختصر علاقوں کی صرف 18 فٹ کھدائی کی تو انہیں وادی ملیر کے علاقے نل بازاراور تھانہ بولا خان اور ڈملوٹی کے گردونواح سے تین سے زیادہ اجڑی بستیوں کے آثار ملے تھے۔ یہاں سے پتھر کے اوزار ،ٹھیکریاں ،برتن کے ٹکرے، یہاں تک کے ہڑپہ کے جانوروں کے نشانات اور رسم الخط کے آثار بھی دریافت ہوئے، جو کہ آج بھی قومی عجائب گھر کراچی میں محفوظ ہیں جس سے اس وادی کی قدامت کا کم از کم 5000سال پراناخیال کیا جاتا ہے۔

بعض قدیم سیاحوں نے اپنی تصانیف میں اسے دریائے ملیر لکھا ہے اور کچھ کا یہ بھی خیال ہے کہ محمد بن قاسم نے سندھ پر حملے کے وقت اسی علاقے میں دریا کنارے قیام کیا تھا ۔ اس شہر میں ملیر جیسی مضافاتی بستیاں بھی موجود ہیں، جن کی قدامت ہزاروں برس پرانی ہے۔اس قدیم بستی آج تک پورے شہر کو سبزیاں، پھل فراہم کر تی ہے، جس کے لئے اس علاقے کا جتنا بھی احسان مند ہوا جائے وہ کم ہے۔ اس علاقے کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ اس نے 80 فٹ 10کنوؤں کے ذریعے صدیوں قبل 19میل لوہے کی بچھائی گئی پائپ لائنوں کے ذریعے اس شہر کو پانی فراہم کیا۔ ابتداء میں ڈملوٹی کنویں کے ذریعے اہل شہر کو 3ملین گیلن پانی، جبکہ 1945 میں 10.5ملین گیلن پانی فراہم کیا جاتا تھا۔

آج بھی ڈملوٹی کنویں کی یہ نشانیاں باقی ہے ۔ قدیم ترین ڈملوٹی کنویں شہر کراچی کے پینے کے پانی کا واحد ذریعہ تھے۔ اس سے پہلے شہر کراچی جہاں پینے کے پانی کا مسئلہ ہمیشہ در پیش رہا انگریزوں نے کبھی لیاری ندی کے نزدیک پانی کے کنویں کھود کر قلت آب دور کر نے کی کوشش کی تو کبھی شہر میں پانی کے 5 چشمے جو کہ اچل سنگھ ایڈوانی پارک، حضرت عالم شاہ بخاری، رام باغ ،رتن تلاؤ ،لارنس روڈ کے قریب مو جود تھے سے شہر میں پانی کی قلت کو دور کر نے کی کو شش کی، مگر پھر بھی شہر پیاسے کا پیاسا رہا ۔

1865تک پانی کی قلت سنگین صورتحال اختیار کر چکی تھی انگریز فوجیوں ،کے لئے کوٹھری سے پانی لایا جاتا تھا جو کہ انتہائی مہنگا پڑ رہا تھا، جسے دیکھتے ہوئے تاجروں کی مالی اعانت سے 1883 میں 10 گہرے کنویں کھداوائے گئے ،جن کی گہرائی 80 فٹ سے زیادہ تھی اسی کے ساتھ ایک پانی کاوسیع ٹینک بھی بنایا گیا اور 19 میل لمبی لوہے کی لائن شہر تک بچھا کر پانی کی سپلائی شروع کی گئی اور پھر 60سالوں تک اہل کراچی انہیں ڈملوٹی کنوؤں کا پانی پیتے رہے، جبکہ ملیر کے گوٹھوں میں اسی پانی کی مدد سے سبزیاں اور پھل اگائے جانے لگے۔

یہاں آج بھی حیات محمد جوکھیو گوٹھ جیسے قدیم گوٹھ کے آثار موجود ہیں، جس کے بارے میں محقیقین کا کہنا یہ ہے کہ اس گوٹھ کے نیچے بازار کے آثار موجود ہیں، جبکہ اﷲ ڈنو اور نل بازار کے قریب واقع ٹیلے کے نیچے آج بھی اس مہذب قوم کے مکانات کے آثار موجود ہیں، جنہوں نے پتھر ،کچی اینٹوں اور مٹی سے اپنے مکانات بنائے تھے۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں 1973-1974میں انگریز ماہر آثار قدیمہ کو کھدائی کے دوران 730 پتھر کے اوزار و دیگر سامان کے علاوہ تندور ،پانی کو زخیرہ کر نے کے لئے بڑے بڑے مٹی کے برتن کے علاوہ سونے کے زیورات بھی ملے تھے جو کہ آج بھی قومی عجائب گھر اور کراچی یونیورسٹی کے میوزیم میں محفوظ ہیں ۔

رائل برٹش گورمنٹ نے 11 اکتوبر1941 میں پی او ڈبلیو کیمپ بھی قائم کیا اور یہاں باقاعدہ طور پر فوجی چھاؤنی بھی تعمیر کی گئی، جہاں سے انگریز فوجیوں نے دوسری جنگ عظیم میں بھی حصہ لیا اور اس کے بعد آج یہی ملیر چھاؤنی ہماری افواج پاکستان کے زیر استعمال ہے۔

ملیر کا یہ علاقہ جو کہ اپنی قدامت کے اعتبار سے دنیا بھر میں شہرت حاصل کر سکتا تھا ، مگروہ شہرت حاصل نہیں کر سکا جو ان کا خاصہ تھا ۔


مکمل خبر پڑھیں