• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی کے فٹ پاتھ عوام کے بڑے ٹھکانے بن چکے ہیں، بے گھروں کے لئے یہ بہت بڑا آسرا ہیں۔ اس پر بھیک مانگنے والوں کی صدائیں، کھلونے بیچنے والوں کا شور اور کاروبار کرنے والوں کے قبضے ہیں، کاغذ چننے والے بچے بھی یہاں بے خبر سوئے ہوئے ملتے ہیں اور معذوروں کے بھی یہی بسیرے ہیں، کہیں کسی کونے پر خانہ بدوشوں کے خاندان قیام کرتے ہیں جو مختلف تہواروں میں امڈ آتے ہیں، محنت مزدوری کرنے والے دو گھڑی کے لئے یہاں آرام کرلیتے ہیں سستے کپڑوں کے اسٹال سجائے نوجوان بھی ایک آس لئے یہاں انتظار کرتے ہیں، اپنی قسمت سے بے خبر طوطے سے فال نکالنے والے بھی یہیں براجمان ہیں ، دوسروں کے جوتے گانٹھنے والے موچی اپنے پیروں کے چھالے چھپا لیتے ہیں، زنگ آلود سامان لئے حجام بھی اپنے کام میں مصروف ہوتے ہیں، مٹی کے برتن سجائے کوئی بوڑھی خاتون خود مٹی میں مل جاتی ہے اور فٹ پاتھ کنارے سڑک پر زندگی تیر رفتاری سے گزر جاتی ہے۔

صدر، بوہری بازار، جونا مارکیٹ، ایم اے جناح روڈ کی طویل گزرگاہوں پر پیدل چلنے والے کم اور کاروبار کرنے والے زیادہ دکھائی دیتے ہیں، دنیا بھر میں فٹ پاتھ کو پیدل چلنے والوں کے لئے ایک خاص مقام حاصل ہے، یہ بازار، اسکول اور عبادت گاہوں میں جانے والوں کے لئے بنائے گئے ہیں مگر کراچی میں کاروباری مراکز بنا لئے گئے۔ کلفٹن میں باغات اور ساحلی جگہوں پر بنے فٹ پاتھ کو خاص اہمیت حاصل ہے اس کے مضبوط فرش اور رنگین ٹائلز، صاف شفاف رہتے ہیں۔ 

لوگ یہاں پیدل چلنے میں زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں۔ سول اسپتال کے آس پاس بنے فٹ پاتھ مریضوں کے وارڈ بن چکے ہیں، اندرون سندھ اور دیگر علاقوں سے آنے والے مریض اور انکے رشتہ دار یہاں مہینوں ڈیرے ڈالے رکھتے ہیں، پیدل چلنے والوں کے لئے یہاں کوئی جگہ نہیں ہے۔ یہ جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہیں راستہ پورا چھپ گیا ہے، کہیں کوئی خالی جگہ مل بھی جائے تو اس پر موٹر سائیکل پارک کرلی جاتی ہیں۔ آئی آئی چندریگر روڈ، زینب مارکیٹ اور سوک سینٹر کے آس پاس فٹ پاتھ پر گاڑیوں کا قبضہ ہے جہاں بیس روپے لے کر پولیس والوں سے بچائو کا انتظام کرلیاجاتا ہے۔ 

عیدگاہ کے سامنے جامع کلاتھ کے فٹ پاتھ پر سیکڑوں اسٹال سجے ہوئے ہیں جس پر برقعے، دوپٹے، چوڑیاں، میک اپ کا سامان لئے لوگ خریداروں کا انتظار کرتے رہتے ہیں، نالوں پر بنی دکانیں توڑ دی گئیں تو ان کے مالکان اپنا سامان فٹ پاتھ پر لے آئے اس کے علاوہ بھی بجلی کے بل ،دکان کا کرایہ بچانے والے بھی اسی نسخے پر عمل کرتے ہیں یہ لوگ رات ہوتے ہی سارا سامان قریبی گودام وغیرہ میں رکھوا دیتے ہیں۔ 

لیاری کے فٹ پاتھ پر اسکول بھی لگتے ہیں انہیں صاف ستھرا کرکے علم کی روشنی پھیلائی جارہی ہے، پہلے مختلف این جی اوز کے ذریعے یہ کام پھیل رہا تھا مگر شہر میں کشیدگی اور خراب حالات نے ان شمعوں کو بجھا دیا ہے، غربت کے باعث والدین اپنے بچوں کو شام کے وقت ان فٹ پاتھ اسکولوں میں بھیج کر خوشی محسوس کرتے تھے۔ ان اسکول میں لڑکوں کے ساتھ ساتھ بچیوں نے بھی رخ کیا اورحصول تعلیم میں ان کا شوق بڑھتا گیا۔ 

بوہری بازار میں ایمپریس مارکیٹ کے آس پاس فٹ پاتھ پر کپڑوں کی سیل لگی رہتی ہے خصوصاً اتوار کے روز یہاں خواتین کا جھمگٹا رہتا ہے۔ مہنگی دکان کے بجائے ان فٹ پاتھوں پر سستی خریداری ہوجاتی ہے۔ پولیس والوں کو تھوڑا بہت بھتہ دینے کے بعد ان کا کاروبار چل پڑتا ہے ،یہاں لمبی چوڑی گاڑیوں میں سوار بھی خواتین بھائو تائو کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ کپڑا بیچنے والے بیشتر لوگ پختون ہیں جو پشاور اور نوشہرہ سے اچھا اور سستا کپڑا فروخت کرتے ہیں۔

فٹ پاتھ پر کاروبارکرنے والے ہروقت پریشان رہتے ہیں فائرنگ، ہڑتالیں، جلسے جلوس ان کی پرسکون زندگی میں ہلچل مچا دیتے ہیں، پولیس کے خوف اور بلدیہ کے اہلکاروں سے انہیں الگ خطرہ رہتاہے ،کبھی انہیں احکامات مل جائیں تو تمام پتھارے، کیبن اور سامان کو ٹرکوں میں لاد کر لے جاتے ہیں اور یہ لوگ سوائے ہاتھ ملنے کے کچھ نہیں کرسکتے، یہ آپریشن عموماً ایمپریس مارکیٹ، ایم اے جناح روڈ یا لی مارکیٹ وغیرہ میں ہوتے ہیں یہ اہلکار پوش علاقوں میں خرگوش اور اولڈ ایریا میں شیر بن کر اپنا کام کرتے ہیں۔ 

صدر میں پارسی سیٹھ ڈنشا نامی ڈسپنسری کے فٹ پاتھ پر سانپ اور نیولے کی لڑائی کرانے والے شعبدہ بازوں کے قبضے ہیں،یہاں ہروقت ہجوم لگا رہتا ہے تالیاں پیٹی جاتی ہیں، سانڈے کے تیل فروخت کرنے والوں کی پراثر تقریروں کو سننے کے لئے لوگ ہمہ تن گوش رہتے ہیں۔ اسی طرح ریگل چوک کے سامنے گلی میں فٹ پاتھ پر قیمتی کتابیں رکھی رہتی ہیں ۔ فیض، فراز، منٹو، کرشن چندر کے نام مٹی میں ملے ہوتے ہیں دکانوں کے آگے گندا پانی کیچڑ کی صورت موجود ہوتا ہے لوگ وہاں کھڑے ہوکر ’’مطالعے ‘‘میں مصروف دکھائی دیتے ہیں، کچھ لوگ کپڑا بچھانے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے اور گندے فٹ پاتھ پر یہ قیمتی سرمایہ قدموں تلے آتا رہتا ہے۔ یہیں پر کراچی کے بڑے بڑے صحافی، وکلا اور دانشوروں کی آمدورفت رہتی ہے مگر کوئی آواز نہیں اٹھاتا کہ ان کتابوں کے لئے فٹ پاتھ پر کم از کم اسٹال ہی لگا کر دے دیئے جائیں۔

این جے وی اسکول کے فٹ پاتھ پر کھلونے بیچنے والے خانہ بدوش دکھائی دیتے ہیں خصوصاً رمضان سے عید اور محرم کے دنوں میں ان کی بڑی تعداد کے بسیرے یہ فٹ پاتھ ہی ہے۔ انہیں اکثر لوگ فقیر اور مانگنے والے سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں یہ لوگ ملک کے دوردراز علاقوں سے آکر پیٹ کی آگ بجھانے کراچی آتے ہیں ، یہ بہترین ہنرمند ہیں۔ مٹی کے کھلونے اور رلّی بنانے میں کمال رکھتے ہیں مگر فٹ پاتھ پر رہنے والوں کو کم تر ہی سمجھا جاتا ہے۔

ان کے مردوں کو کہیں نوکری نہیں ملتی یہ خالی پیٹ ہی فٹ پاتھ پر سوجاتے ہیں۔ ایمپریس مارکیٹ کے فٹ پاتھ پر ان ہندو خواتین کی اجارہ داری ہے جو خشک میوے فروخت کرتی ہیں۔ یہ خواتین کیماڑی، لیاری، نانک واڑہ اور بھیم پورہ کے علاقوں سے رکشہ میں بھر کر اپنا مال لاتی ہیں جو ان کا اپنا نہیں ہوتا کہ روز کی دیہاڑی پانچ چھ سو روپے میں دن بھر فٹ پاتھ پر بیٹھ کر گاہکوں سے لڑتی جھگڑتی ہیں، بازار میں بیٹھی ان میوے والیوں کا سامنامختلف لوگوں سے پڑتا ہے، یہ گاہکوں کی نظروں اور زبان کو سمجھ کر ان سے ویسا ہی برتائو رکھتی ہیں۔

کراچی میں تقسیم کے کچھ عرصے بعد تک ان فٹ پاتھوں کی صورت وہی تھی جوآج لندن یورپ وغیرہ میں ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہرچیز بگاڑ کی صورت ہوتی گئی۔ ان فٹ پاتھوں کی دیکھ بھال بھلا دی گئی، ان پر قبضے ہوگئے ، شہرقائد کی فٹ پاتھوں پر پھول لگانے کے بجائے کانٹے بچھا دیئے گئے۔ لوگوں کے قبضوں کے بعد ان کا وجود چھپ چکا ہے پیدل چلنے والے کو دھکیل کر سڑک پر پہنچا دیا گیا۔ 

سیاسی پارٹیوں کے کارکنان اور بااثر لوگوں نے اپنی سہولت کی خاطر یہاں کیبن اور ٹھیّے بنا دیئے جن سے روز کی دیہاڑی میں حصہ وصول کیا جاتاہے۔ ایک بزرگ کھلونے لئے حسرت ناک نگاہوں سے آسمان کو تک رہا تھا ہم نے احوال دریافت کیا تو بولے میں ہر روز یہاں کمہار واڑہ سے پیدل آتا ہوں اب دم خم نہیں رہا اللہ کے آسرے پر گزربسر ہورہی ہے۔ میرا ایک ہی بیٹا ہے وہ بائولا ہے بس ایک امید کے سہارے بیٹھا ہوں ورنہ تو…اس نے اپنے کھلونوں کو دیکھ کر بھرائی ہوئی آواز میں کہا

ہوش و حواس و تاب وتواں داغ جاچکے

اب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا