• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صائمہ علی

آج شام کی چائے بناتے ہوئے میرا ہاتھ جل گیا ،جلنے کی تکلیف سے آنکھوں میں آنسو آگئے۔ بابا نے میری آنکھوں میں آنسو دیکھے تو تڑپ گئے۔ میرے ہاتھ سے چائے کی پیالی لی اور فوراً مرہم لگانے لگے۔ مرہم لگاتے ہوئے غصے سے امی سے کہنے لگے کیوں بھیجتی ہو اسے کچن میں ،میں نے ہزار مرتبہ منع کیا ہے کہ اس سے کوئی کام نہیں کرایا کرو۔

میرا ہاتھ جلا دیکھ کر امی خود پریشان ہوگئی تھیں اور کرب ان کی آنکھوں میں دیکھ رہاتھا ۔کہنے لگیں ! میں کہا خوشی سے بھیجتی ہوں لیکن کل کواس کی شادی ہوگی کوئی کام نہیں آئے گا تو لوگ کیا کہیں گے۔ ماں نے کچھ نہیں سکھایا۔ امی بہت دکھی لہجے میں وضاحت دے رہی تھیں ۔بابا نے تلخ لہجے میں کہا ہاں تو کہتے رہیں لوگ جو ان کو کہنا ہے ،لوگوں کا تو کام ہی کہنا ہے ،مگر اب یہ کچن میں نہیں جائے گی ۔

بابا نے مجھے بے ساختہ گلے لگایا اور امی کو تنبیہہ کیا ۔اس بات پر مجھے خوش ہونا چاہیے تھا ،مگر میں نہیں ہوئی !!میں بس ٹٹکی بندھے امی کا ہاتھ دیکھتی رہی جن کی انگلیوں پر سبزیاں کاٹنے کے نشان تھے ،کتنی ہی باراُن کا ہاتھ جلا تھا ان کے نشان موجود تھے۔ البتہ زخم مندمل ہوچکے ہیں ۔ابھی تھوڑی دن پہلے چھُری سے انگلی پر کٹ لگا تھا ،بہت خون بہا لیکن امی نے پٹی نہیں باندھی یہی کہتی رہیں کہ خود ہی ٹھیک ہو جائے گا ،مگر کچھ بھی تو ٹھیک نہیں تھا ،میں بابا کو بتانا چاہتی تھی کہ امی بھی کسی کی بیٹی ہیں ان کے بابا نہیں رہے تو کیا ہوا ان کے شوہر تو ماشااللہ حیات ہیں ۔

آپ اپنی بیٹی کی ذرا سی تکلیف پر تڑپ اُٹھے ہیں اور بیوی کےدرد کی کوئی پروانہیں ہے ۔وہ اپنا درد کسے جا کر بتائیں ؟ ان کا درد کون محسوس کرے گا ؟وہ کسی کی بیٹی نہیں ہیں کیا ؟؟کاش ! دنیا کے تمام شوہر جس طرح اپنی ماں ،بہن اور بیٹی کے لیے حساس ہوتے ہیں بالکل اسی طر ح بیوی کے لیے بھی فکر مند ہوجائیں تو دنیا کی کتنی ہی عورتیں حقیقتاً جی اُٹھیں گی۔