ضلع چترال سے 45 کلومیٹر کے فاصلے پرواقع مُسحور کُن پُراسرار وادی، وادئ کیلاش کی ثقافت جداگانہ خصوصیات کی حامل ہے، جسے دیکھنے کے لیے دنیا کے مختلف ممالک کے سیّاح بڑی تعداد میں یہاں کا رُخ کرتے ہیں۔ کیلاش قوم کے منفرد رسم و رواج اور طرزِ زندگی ہی انہیں دنیا سے الگ مقام دلاتی ہے۔ تاہم، اس وادی کا ملکوتی حُسن، قدرتی مناظر اور قدیم زندگی کے آثار سیّاح کو ہزاروں سال پہلے کے دَور میں پہنچا دیتے ہیں۔ یہاں کے قبائل کی مذہبی روایات کے مطابق قربانی دینے کا رواج عام ہے، جو اُن کی تین وادیوں بمبوریت، رامبور اور بریرمیں خوش حالی اور امن کی ضمانت سمجھی جاتی ہے۔ حال ہی میں یونیسکو کی انٹر گورمینٹل کمیٹی کی جانب سے کیلاش کی ثقافت کو بین الاقومی ثقافتی ورثہ قراردینے اور حکومتِ پاکستان کی جانب سے اسے وفاقی وزراتِ تعلیم میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
کیلاشی باشندے، موسمِ بہار کی آمد پر اپنا تین روزہ تہوار ’’چلم جوشی‘‘ روایتی جوش و خروش سے مناتے ہیں، جسے دیکھنے کے لیے ملک اور بیرونِ ملک سے سیّاحوں کی ایک کثیر تعداد یہاں کا رُخ کرتی ہے۔ کیلاشیوں کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ سکندرِ اعظم کی فوج کے باقیات میں سے ہیں، جو اس خطّے میں آمد کے بعد سے یہیں رہ گئے تھے۔ یہ اپنے قدیم مذہب اور رہن سہن سے پہچانے جاتے ہیں۔ اُن کی ثقافت، منفردتہذیب واور تاریخ سے متعلق بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ تاہم، زیادہ تر کیلاشیوں کا تعلق یونانیوں ہی سےجوڑا جاتا ہے، جب کہ کچھ لوگ انہیں یہیں کے قدیم باشندے بتاتے ہیں۔ عرفِ عام میں اس سرزمین کو’’ کافرستان‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں کی خواتین سیپیوں اور موتیوں سے مزیّن سیاہ پوشاکیں پہنتی ہیں، جب کہ مرد عموماً شلوار قمیص میں ملبوس نظر آتے ہیں۔
چترال کی اس مسحور کن وادی کی سیّاحت ہمارا دیرینہ خواب تھا۔ کئی بار جانے کا پروگرام بنایا، مگر شومئی قسمت، خواب تشنہ ہی رہا۔ پھرسالِ رواں کے اوائل میں چند دوستوں نے چترال کی پُراسرار وادیوں کی سیّاحت کی خواہش کا اظہار کیا، تو حتمی پروگرام تشکیل دے کر اپنی دیرینہ خواہش کی تکمیل کے لیے نکل کھڑے ہوئے اور کراچی سے بذریعہ ٹرین پنڈی پہنچ گئے۔ پنڈی سے چترال کے لیے بہت سی گاڑیاں چلتی ہیں، لیکن ہم نے نجی ویگن کا انتخاب کیا۔ رات نو بجے پنڈی سے ہمارے سفر کا آغاز ہوا اور براستہ ٹیکسلا، مردان ہوتے ہوئے درگئی پہنچ گئے۔
یہاں کچھ دیر رُکنے اور رات کے کھانے کے بعد دوبارہ سفر شروع ہوا، تھوڑی دیر بعد مالاکنڈ کی چڑھائی شروع ہوگئی۔ موڑ دَر موڑ چڑھائیاں چڑھتے ہم بلندی پر پہنچتے جارہے تھے، اس بَل کھاتے راستے پر لوئر اور اپر دِیر کی تحصیلوں کے سنّاٹے میں ڈوبے بازار، ساتھ ساتھ ہریالی اور قابلِ دید مقامات کی خُوب صُورتی، اندھیرے کے باعث اگرچہ نظروں سے اوجھل تھی، لیکن ہوا میں موجود خوش گوار مہک اور خنکی سے اپنا احساس دلارہی تھی۔ یہاں کئی مقامات پر سیکیوریٹی چیکنگ کے لیے گاڑی روکنی پڑتی ہے۔ چترال جاتے ہوئے شناختی دستاویز لازمی اپنے ساتھ رکھیں، کیوں کہ جگہ جگہ پاک فوج کی چیک پوسٹس قائم ہیں، جہاں سے شناخت اور اینٹری کے بعد ہی آگے جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ یہاں سے افغانستان کی سرحد بھی ملتی ہے اور کچھ عرصہ قبل یہ تمام علاقہ دہشت گردی سے متاثر تھا، سیکیوریٹی چیک تو لازم ہے۔تاہم، اب پاک فوج کا مکمل کنٹرول ہونے کی وجہ سے امن و امان کی صورتِ حال خاصی بہتر ہوگئی ہے۔
صبح ساڑھے پانچ بجے سوتی جاگتی آنکھوں سے دل کش و خوش نما مناظر اور پہاڑوں کی اوٹ سے بہتے دریا پر نظر پڑی، تو جیسے سفر کی ساری کوفت زائل ہوگئی۔ یہ دِیر سٹی تھا، اس کے بعد لواری درّہ آجاتا ہے۔ لواری ٹنل کا ذکر تو بہت سُنا تھا، اور اس میں سفر کی بھی بہت خواہش تھی، لیکن وہاں پہنچے، تو پتا چلاکہ ٹنل بند ہے۔ لواری ٹنل کی تعمیر سے گھنٹوں کا دشوار گزار راستہ منٹوں میں تبدیل ہوگیا ہے، لیکن سردیوں میں شدید برف باری کے باعث اسے بند کردیا جاتا ہے۔ لواری ٹنل کی تعمیر سے قبل پہاڑوں کے اُس پار چترال جانے کے لیے تقریباً دس ہزار فٹ کی بلندی پر واقع گلگت کا راستہ اختیار کیا جاتا تھا، اگرچہ دوسرا ذریعہ ہوائی جہاز کا بھی ہے، تاہم وہ بھی زیادہ تر موسم کے رحم وکرم پر ہوتا ہے۔
اکثر خراب موسم کے باعث چترال جانے والی پروازیں منسوخ ہوجاتی ہیں۔ درئہ لواری پر جیپ اور کوسٹرز کے ساتھ ساتھ چیونٹی کی رفتار سے چلتے مال بردار ٹرکس کا ریلا بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ یہاں کے مشّاق ڈرائیورز کو دشوار گزار تنگ موڑ کاٹتے دیکھ کر اُن کی مہارت اور ہمّت کو سلام پیش کرنے کو جی چاہتا ہے۔ اکثر موڑ پر راستے اس قدر تنگ اور خطرناک ہیں کہ سامنے سے آنے والی گاڑی کو راستہ دینے کے لیے قدرے چوڑی جگہ پر رُک کرگزرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ اس موقعے پر معمولی سی غلطی ہزاروں فٹ گہری کھائی تک پہنچاسکتی ہے۔
چڑھائی پر سفر کرتے ہوئے کچھ خوف محسوس نہیں ہوتا، تاہم نشیبی راستوں پر سفر کرتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ ہزاروں فٹ گہری کھائیاں دیکھ کر خوف سے کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔ درّئہ لواری کے خطرناک موڑ اپنی دہشت کے باعث بہت مشہور ہیں، لیکن مقامی افراد اُن کے عادی ہیں۔ موڑ دَر موڑ خطرناک سفر کا سلسلہ ختم ہوا، تو زیارت نامی قصبہ آگیا، جہاں گرما گرم حلوہ پوری سے ناشتے کا لُطف اٹھانے کے بعد دوبارہ محوِ سفر ہوگئے۔ دل کش و دل فریب مقامات کا نظارہ کرتے آگے بڑھے، تو دروش کے مین بازار جاپہنچے۔ چترال سے بمبوریت ویلی کا راستہ تقریباً چالیس کلومیٹر اور لگ بھگ دو گھنٹے پر محیط ہے۔ ہم اپنے اطراف حَسین وادیوں کی دل کشی میں کھوئے ہوئے تھے، ایسے میں ڈرائیور نے ٹیپ ریکارڈر آن کردیا اور مشہور پاکستانی گیت ’’موسم حسین ہے لیکن، تم سا حسیں نہیں ہے۔‘‘
کانوں میں رَس گھولنے لگا۔ اگرچہ یہ نغمہ ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں، لیکن ان حسین وادیوں، پربتوں پر سفر کے دوران سننا بہت اچھا لگا۔ گانے سنتے اور ہنسی مذاق کرتے بمبوریت پہنچے، تو شام کا اندھیرا پھیلنے لگا تھا۔ یہاں سے آگے شالی کے مقام پر گرم چشمہ جانے والے راستے میں ’’مار خور ویو پوائنٹ‘‘ ہے، جہاں مارخور پانی پینے کے لیے نیچے اترتے ہیں اور دریا کے دوسری جانب سیّاح اپنے کیمرے سنبھالے اُن کی آمد کے منتظر رہتے ہیں۔ ان ہی خشک پہاڑوں تلے گرم چشمے کی جانب سے آنے والے دریائے لٹکوہ اور مستوج کی جانب سے آنے والے دریائے مستوج کا سنگم ہے، جو دریائے چترال کہلاتا ہے۔ بہتے دریا پر لکڑی سے تعمیر شدہ طویل اور مضبوط پُل کے بیچوں بیچ کھڑے ہوکر شان سے بہتے دریائے چترال کا شورسننا نہایت مسحور کن محسوس ہورہا تھا۔
کچھ دیر یہاں موج مستی، تفریح اور حسین مناظر کو کیمروں میں قید کرنے کے بعددوبارہ سفر کا آغاز ہوا، جو تنگ پہاڑی راستے پر محیط تھا۔ راستہ انتہائی خستہ، ٹوٹا پھوٹا، دھول مٹّی سے اٹا ہوا تھا۔ کیلاش کی وادیوں میں جانے کے لیے ایک راستہ ایون ویلی سے بریر ویلی کی طرف بھی نکلتا ہے۔ ان راستوں پر کئی موڑ تو ایسے آتے ہیں، جہاں چڑھائی کے لیے گاڑی کو ریورس کرکے فل اسپیڈ میں آگے بڑھایا جاتا ہے۔ یہاں صرف مقامی ڈرائیور ہی اپنی مہارت اور تجربے کے سبب ڈرائیو کرسکتے ہیں۔ ایک طویل، دشوار گزار سفر کے بعد آخرکار انتظار ختم ہوا اورتحیّر انگیز داستانوں پر مبنی وادئ کیلاش کے آثار شروع ہوگئے۔ کھیتوں میں کیلاشی خواتین اپنے روایتی ملبوسات میں نظرآرہی تھیں۔ سڑک کنارے دائیں طرف کہیں کہیں ہوٹلز تھے، جب کہ اوپر ڈھلوانوں پر بنے بے ترتیب گھر اور اُن سے اوپر پہاڑ اور بائیں طرف شور مچاتی ندی۔ ہم رُکے بغیر اس اکلوتی سڑک پر سیدھے چلتے رہے، راستے میں اونگ، انیش، کراکال، برون نامی چھوٹے چھوٹے گائوں آتے رہے۔
ہمیں یاد آرہا تھا، معروف ادیب مستنصر حسین تارڑ نے جب یہاں کا سفر کیا، تو خُوب صُورت ڈراما سیریل ’’کیلاش‘‘ لکھا، جو کافی مقبول بھی ہوا تھا۔ ایک مناسب جگہ دیکھ کر ہم نےگاڑی رکوائی اور فطرت کے حسین نظاروں میں کھوجانے کے لیے سایہ دار درختوں تلے ہَرے بَھرے کچّے راستے پر پیدل ہی چل پڑے۔ کچھ آگے بڑھے، تو چشمے کا صاف شفّاف پانی بہتا نظر آیا۔ اس راستے کا اختتام کیلاش کے ایک قدیم قبرستان پر ہوتا ہے، جہاں آج بھی کیلاشیوں کے قدیم رسم و رواج کی باقیات موجود ہیں۔ یہاں مرنے والوں کو دفنایا نہیں جاتا، بلکہ مُردے کوتابوت میں اس کی مختلف چیزوں سمیت رکھ دیا جاتا تھا۔ قبرستان میں ایسے تابوت جابجا بکھرے پڑے تھے، جن میں گلی ہوئی ہڈیوں کے ساتھ مُردے کی استعمال شدہ کچھ چیزیں بھی تھیں۔
قبرستان کے سامنے ہی ہینڈی کرافٹ کی کچھ دکانیں ہیں، جہاں سیّاحوں کا خوب رش رہتاہے۔ ’’کیلاش فیسٹیول‘‘ کے حوالے سے مقامی باشندوں سے دریافت کیا، توپتا چلا کہ کل ہوگا، یعنی ہمیں آج یہیں قیام کرنا ہوگا۔ ہم نے گائوں سے نیچے اترکر ندی کا پل عبور کیا اور دوسری سمت آگئے۔ یہاں صرف گائوں کےمقامی باشندوں کے گھر تھے اور سیّاحوں کا داخلہ ممنوع تھا۔ ایک اندازے کے مطابق اب کیلاشی باشندوں کی تعدار چار ہزار کے لگ بھگ رہ گئی ہے۔
رات بسر کرنے کے لیے جس ہوٹل بھی جاتے، فیسٹیول کی وجہ سے بھرا ملتا۔ بڑی مشکلوں سے ایک ہوٹل میں کمرا حاصل کرنے میں کام یاب ہوئے اور کمرے میں پہنچتے ہی ناقابلِ برداشت سردی اور دن بھر کے سفر کی تھکان کی وجہ سے جلد ہی رات کا کھانا کھاکر سوگئے۔ دوسرے روزعلی الصباح بیدار ہوکر ناشتے کے بعدہوٹل سے باہر نکلے، حسبِ توقع موسم انتہائی سہانا اور دل فریب تھا۔ہوٹل سے ایک نشیبی سڑک برون گائوں کی طرف جاتی ہے،وہاں کی خُوب صُورتی، ہریالی اور دل کشی دل موہ لیتی ہے۔ یہاں ایک میوزیم بھی ہے، میوزیم کی نچلی منزل میں کیلاش قبائل کی تاریخی نوادرات محفوظ کی گئی ہیں، جو ان کی تہذیب، رہن سہن اور تاریخ و تمدّن کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ’’کیلاشہ دور میوزیم‘‘ جس کے معنی کیلاش کے لوگوں کا گھر ہے، ایک لکڑی سے بنی ہوئی عمارت ہے، جو نہ صرف انتہائی مضبوط بلکہ شان داربھی ہے۔ یہ یونان کی ایک این جی او کے تعاون سے بنائی گئی ہے، جس میں اسکول، لا ئبریری اور ریسرچ سینٹر قائم ہے۔ میوزیم کی بالائی منزل سے وادی کا بھرپور نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ نیچے ایک سوینیئر شاپ ہے،جہاں مقامی باشندوں کے بنائے ہوئے ہینڈی کرافٹس اور چترال کے دیگر ملبوسات کے اسٹال لگے ہوئے تھے۔
کیلاش لاکھ پس ماندہ سہی، لیکن یہاں کی خواتین اپنی زندگی کے فیصلوں میں خود مختار ہیں۔ ’’چلم جوشی فیسٹیول‘‘ میں لڑکیاں اپنے جیون ساتھی کا انتخاب کرتی ہیں، جس پر کسی کو بھی اعتراض کا حق نہیں۔ حتیٰ کہ اگر شادی کے بعد میاں بیوی میں نباہ نہ ہوسکے، تو وہ لڑکی کسی اور سے شادی کرسکتی ہے، لیکن اس کے لیے لڑکی کے نئے امیدوار کو، سابقہ شوہر کے اخراجات کا دگنا معاوضہ ادا کرنا پڑتا ہے، مثلاً اگر پہلے شوہر نے لڑکی کے گھر والوں کو چار گائیں دی تھیں، تو یہ نیا امیدوار اُسے آٹھ گائیں واپس کرے گا۔ کیلاشی لڑکیاں نہایت حسین ہونے کے ساتھ خاصی سمجھ دار، باشعور اور تعلیم کی بھی شوقین ہیں۔
بنیادی طور پر یہ باشندے سادہ مزاج اور مہمان نواز ہیں، لڑائی جھگڑے سے دُور رہتے ہیں۔ گائوں میں ایک کُھلی جگہ پر چند نوجوان زور و شور سے ڈھول پیٹ رہے تھے، جو فیسٹیول شروع ہونے کا اعلان تھا۔ چھوٹی چھوٹی معصوم بچّیاں، ننّھی پریوں کی مانند ایک دوسرے کے کاندھوں میں ہاتھ ڈالے رقص کر رہی تھیں۔ تھوڑی دیر میں بڑی عمر کی خواتین بھی ان میں شامل ہوگئیں۔ سیّاح اُن کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے تھے اورغیر ملکی انہیں حیرت اور خوشی سے تک رہے تھے۔ آس پاس چترال پولیس الرٹ تھی، اوپر پہاڑوں پر بھی ڈیوٹی پر مامور جوان کسی بھی ممکنہ دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے چاق چوبند کھڑے تھے۔
ایک کُھلی جگہ پر عورتیں ٹوکروں میں بھرے شہتوت اور اخروٹ سیّاحوں میں تقسیم کررہی تھیں۔ پاس ہی ایک مذہبی رہنما اونچی جگہ سے گلاس میں پانی لے کر قبیلے کی خواتین پر چھڑک رہے تھے۔ یہ غالباً اُن کی کوئی مذہبی رسم تھی۔ کچھ ہی دیر بعد بتریک گائوں کےاوپن ائر ڈانسنگ ہال (رقص گاہ) میں بڑا پروگرام منعقد ہونے والا تھا۔یہاں سخت سیکیوریٹی کے بعد سیّاحوں کو داخلے کی اجازت تھی۔ تمام سیّاح پہلے سے آکر چاروں جانب بیٹھ گئے تھے کہ باآسانی جشن دیکھ سکیں۔پروگرام شروع ہونے میں کچھ دیر تھی۔ ہم ٹہلتے ہوئے کراکال گائوں چلے گئے، جہاں ایک کھلی جگہ پر کچھ افراد رقص میں مصروف تھے، لوگوں کا ایک ہجوم انہیں گھیرے ہوئے تھا۔
سیّاح خواتین بھی کیلاشی لباس پہنے رقص میں شامل ہورہی تھیں، برون کی نسبت یہاں زیادہ رش تھا، جن میں سیّاح بھی شامل تھے اور کیلاشی اپسرائیں بھی۔ یہاں خاصا ہجوم تھا، لوگ ایک جلوس کی شکل میں اپنے ہاتھوں میں پتّے اٹھائے بتریک ڈانسنگ پلیس پہنچنے لگے۔ گویا ساری وادی جمع تھی، بچّے، بوڑھے، جوان، لڑکے، لڑکیاں ایک دوسرے کے گرد بڑا سا دائرہ بنا کر رقص کررہے تھے۔ آنکھوں میں خاص چمک اور چہروں پر قابلِ دید خوشی لیے پورے جوش و خروش سے بہار کو خوش آمدید کہہ رہے تھے اور چاروں جانب کھڑے سیّاح ان دیوانوں کو شوق سے تکتے ہوئے اپنے کیمروں میں اس منظر کو محفوظ کررہے تھے۔ اور آج ہم نے بھی اپنی جاگتی آنکھوں سے ایک خواب کی تعبیر پالی تھی۔
تین روزہ ’’چلم جوشی فیسٹیول‘‘ کے بعد سیّاحوں کے قافلے واپسی کے لیے روانہ ہورہے تھے۔ ہم نے بھی گھر کی راہ لی، مگر دل شاید وہیں کہیں چھوڑ آئے۔