• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سارہ علی

’’آج کھانا تم بناؤگی‘‘ ۔ جس نے پانی کا گلاس اٹھ کے کبھی نہیں پیا تھا ، اسے یعنی میری بیوی کو میری ماں نے حکم دیا ۔وہ اٹھی ، جیسے تیسے کر کے 3 ، 4 گھنٹے لگائے کر کھانا بنالیا ،مگر نمک مرچ ایسا نہیں تھا۔ جسے پرفیکٹ کہا جاتا ۔ اس لیے کھانا گھر کے کسی فرد نے نہیں کھایا اور اس پر خوب طنز کیا۔ ’’اپنی ماں کے گھر سے یہ سیکھ کے آئی ہو‘‘ ،نمک مرچ کا بھی اندازہ نہیں۔

میں 8 گھنٹے کی ڈیوٹی کے بعد ابھی گھر میں داخل ہی ہوا تھا کہ امی کہنے لگیں ،’’ہم تو صبح سے بھوکے بیٹھے ہیں ،کچھ بازار سے کھانے کے لیے لے آئو‘‘۔ میں نے ایک نظر اپنی سہمی ہوئے بیوی کو دیکھا اور چلا گیا ۔کھانا لے کر آیا تو سب کھانے لگے ۔لیکن میں اپنے بیگم کو کچن میں لے کر گیا اور پوچھا آج کیا پکایا ہے؟ اس نے آنسو آنکھوں میں ہی روکے ہوئے تھے ،میری بات سن کر مسکرا دی اور پوچھا باقی سب کی طرح آپ بازار والا کھانا نہیں کھائیں گے ؟ 

میں نے جواب دیا نہیں مجھے تو تمہارے ہاتھ کا بنا کھانا کھانا ہے۔اس نے میرے لیے کھانا میز پر لگا دیا ،جب میں نے کھایا تو اتنا بھی بد ذائقہ نہیں تھا کہ کھایا نا جاتا ،مگر اسے اتنا موقع دیا ہی نہیں گیا کہ وہ کھانے میں جوکمی بیشی تھی، اُسے صحیح کرلیتی ۔اس میں ۔۔۔۔۔!قصور میری بیوی کا بھی نہیں تھا کہ وہ ماسٹرز کر رہی تھی اور شادی ہوگئی ۔پڑھائی نے گھرداری کرنےکی فرصت ہی نہیں دی۔ قصور میری ماں کا بھی نہیں تھا،جنہوں نے گھریلو خاتون بن کے ساری زندگی اپنے بچوں کے لئے اچھا کھانا بنایا تھا ، پھر وہ بہو کے ہاتھ کا بنا بدمزہ کھانا کیسے کھا سکتی تھی . . . . . .میں نے اس دن اپنی ماں کی بات بھی مان لی اور  بیوی کے ہاتھ کا بنا کھانا بھی کھا لیا ۔

میرے ایک عمل نے مجھے اپنی جیون ساتھی کی نظر میں ہمیشہ کے لئے معتبر کر دیا۔ اور اس ایک محبت بھرے عمل سے آج وہ ہر قسم کی ڈش بنانا سیکھ گئی ہے۔ اس دن اگر باہر سے کھانا نہیں لے کے آتا تو ماں ناراض ہوجاتی اور اگر میں اپنی ماں کی بات سن کر سب کے سامنے بیوی کو ڈانٹ دیتا تو وہ شاید مجھ سے بدگمان ہوجاتی۔

رشتوں میں توازن قائم کریں اور اتنا موقعہ ضرور دیں کہ آنے والی لڑکی ایڈجسٹ ہونا سیکھ لے۔ محبت کا جذبہ کبھی نا ختم ہونے دیں، کیوں کہ میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں۔ اور اگر لباس خراب ہو جائے تو اسے پھینکنے کے بجائے پیوند لگا کر صحیح کیا جاتا ہے ،بالکل اسی طر ح رشتوں میں بھی محبت ،پیار اور خلوص کاپیوند لگاکر اس کو مزید خوب صورت اور مضبوط بنائیں۔