• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہر زبان ایک تہذیب کی نمائندگی کرتی ہے اور ایک ثقافتی مظہر ہوتی ہے۔ اردو بھی ایک تہذیب کا نام ہے۔ ایک ایسی تہذیب جو وطنِ عزیز کے تمام ثقافتی گروہوں کو ایک مالا کے موتیوں کی طرح جوڑتی ہے۔ انھیں احساس کی ایک ڈوری میں پروتی ہے۔ اردو کا اختصاص صرف یہ نہیں کہ یہ ملک میں سب سے زیادہ بولی اور سمجھی جانے والی زبان ہے، اس کی ایک اہمیت یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعے ملک کے مختلف ثقافتی گروہ، اپنے انفرادی مظاہر کے ساتھ اس کے وسیع دائرے میں ایک دوسرے کے قریب آسکتے ہیں، ہم آہنگ ہوسکتے ہیں۔ اس طرح یگانگت کا وہ منظرنامہ ابھرتا ہے جو ہماری قومی شناخت اور ہمارا امتیازی نشان ہے۔ 

سیاست دانوں کی اپنی ضرورتیں اور مصلحتیں ہوتی ہیں، بیورو کریسی کے اپنے مسائل ہوتے ہیں۔ اردو کے قومی زبان کی حیثیت سے رائج ہونے میں اُن دونوں کا اپنا اپنا رویہ ہے جو رکاوٹیں پیدا کرتا رہتا ہے۔ اس کے بارے میں بہت باتیں ہوچکی ہیں، اب بھی ہوتی رہتی ہیں، سو انھیں باربار دُہرانے کا فائدہ نہیں۔ البتہ عام آدمی کو یہ حقیقت آسانی سے سمجھ آسکتی ہے کہ چاہے وہ کسی بھی ثقافتی گروہ سے تعلق رکھتا ہو، لیکن اُس کی طاقت اور مفاد دونوں کا انحصار دراصل اُس کے قومی دھارے میں شمولیت پر ہے۔ یہ شمولیت اُسے سماجی اور معاشی دونوں سطحوں پر بڑے مواقع فراہم کرتی ہے۔ اُس کے لیے بہت سی رکاوٹیں دور کرکے نئے راستے کھولتی ہے۔ لہٰذا کسی بھی الجھن اور تعصب کے بغیر اُسے سمجھنا چاہیے کہ اردو زبان اس کے لیے نفاق کی بنیاد نہیں، بلکہ استحکام کا ذریعہ ہے۔

ترقی کے راستے پر چلنے والی قوموں کی ایک پہچان یہ بھی ہوتی ہے کہ اُن کی اجتماعی شناخت کا کوئی حوالہ ہو یا ثقافتی مظہر، وہ اُن کے استحکام کو نمایاں کرتا ہے۔ ایسا اُسی وقت ممکن ہے، جب قوم کو من حیث المجموع نفاق کا مرض لاحق نہ ہو۔ اب یہ نفاق کا مرض کیا ہے ؟ نفاق وہ بیماری ہے کہ جب کوئی قوم اِس میں مبتلا ہوتی ہے تو فرد کا رشتہ اپنے اجتماع سے کٹ جاتا ہے۔ وہ اپنی ذات کا اسیر ہوکر رہ جاتا ہے۔ اندر سے اپنے اجتماع سے لاتعلق ہوجاتا ہے، لیکن بظاہر وہ اُس سے مربوط نظر آتا ہے، بلکہ اس کے لیے فکرمند بھی۔

کسی قوم کو نفاق کا مرض اُس وقت لاحق ہوتا ہے جب اس کے معلم اور سیاست دان فرائض سے کوتاہی برتتے اور اپنی ذاتی منفعت کے حصول میں لگ جاتے ہیں۔ اس بیان کی صداقت کو پرکھنے کے لیے ہمیں کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں، خود اپنی قومی صورتِ حال کا جائزہ لینا کافی ہوگا۔ نہ صرف یہ بلکہ تعلیم یا علم کے شعبے میں بھی جاہ پسند اور مال پرست لوگوں کی بھرمار ہوچکی ہے۔ 

اب سے صرف تیس پینتیس برس پہلے اس شعبے میں وہی لوگ نظر آیا کرتے تھے جن کی فطرت میں ایثار اور قناعت کا جوہر نمایاں ہوتا تھا۔ اُن کی زندگی کا مقصد علم کی روشنی کو پھیلانا اور فکر و شعور کے نئے چراغ روشن کرنا ہوتا تھا۔ یہ لوگ مالی لحاظ سے بہت خوش حال نہیں ہوتے تھے، لیکن معاشرے میں ان کے احترام اور وقار کا یہ عالم ہوتا کہ ان کے سامنے بڑے بڑے عہدوں اور بہت مال و زر والے لوگ بھی گردن اکڑا کر نہیں کھڑے ہوتے تھے، آواز کو اونچا نہیں کرپاتے تھے۔

معاشرے میں جس رفتار سے خیر کا عمل ماند پڑتا ہے، اس سے دُگنی رفتار سے شر کا عمل فروغ پاتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ چھوت چھات کی بیماری کی طرح نفاق پھیلنے لگتا ہے۔ اس وقت ہم قومی سطح پر اسی حالت میں ہیں۔ حالات واقعی افسوس ناک ہیں، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اندھیرا ابھی پوری طرح ہم پر غالب نہیں آسکا ہے۔ کہیں نہ کہیں کوئی کرن جاگ اٹھتی ہے، کوئی شگوفہ پھوٹتا ہے اور اندھیرے میں یہاں سے وہاں تک دراڑ ڈال دیتا ہے۔

کوئی آواز بے حسی کے سناٹوں کو چیرتی ہوئی آتی ہے اور ہمارے قومی وجود میں حرارت کا احساس دوڑ جاتا ہے۔ زندگی کی امید ایک بار پھر جاگ اٹھتی ہے۔ اس کا تجربہ ہم میں سے جس کو اور جب بھی ہو، اسے ذمے داری کے ساتھ دوسروں کو اس میں شریک کرنا چاہیے۔ قومی شعور، اجتماعی ضمیر کی بیداری اور مثبت سوچ کو پھیلانے کے لیے یہ بے حد ضروری ہے۔

گزشتہ دنوں اِس کا تجربہ ہمیں اُس وقت ہوا جب قومی زبان کے مسئلے پر اظہارِ خیال کیا گیا۔ کئی لوگوں نے اس پر رائے یا ردِعمل کا اظہار کیا۔ ان میں جواں سال محققین، اساتذہ اور طلبہ بھی شامل تھے۔ یہ احساس کس قدر خوش کن اور حوصلہ افزا ہے کہ جدید دنیا کے اس نقار خانے میں جہاں تہذیب، ادب، زبان، تاریخ اور قومی حسیت کے حوالے سے آوازہ بلند کرنے والے کسی طوطی کا وجود اب کسی شمار میں نہیں رہا، وہاں ایک بے مایہ سی آواز بھی سنی جاتی ہے۔ صرف سنی ہی نہیں جاتی، بلکہ اس کو ڈوبنے سے بچانے اور استحکام دینے کے لیے کئی آوازیں اس کی گمک کا سامان مہیا کرتی ہیں۔

کسی قومی سطح کے مسئلے پر ہم خیالی تو واقعی بڑی چیز ہے۔ اس لیے کہ کسی قوم کی قوت اور استحکام کے حصول کا سب سے بڑا اور مؤثر ذریعہ بنتی ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ زندہ افراد اور زندہ معاشرے میں اختلافِ رائے کے مواقع بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ اختلافِ رائے کوئی بری چیز نہیں ہے،اگر اس کا مقصد وسیع تر اجتماعی مفاد اور بہتر سے بہتر نتائج تک پہنچنا ہو۔ چناںچہ اگر کسی نوجوان کے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ اس ملک میں دس فی صد سے بھی کم ہیں وہ لوگ جن کی مادری زبان اردو ہے تو کیا اِس دس فی صد کی زبان کو باقی نوے فی صد پر جبراً نافذ کرنا انصاف کی بات ہے؟ 

یا اگر یہ محسوس کرتے ہیں کہ انگریزی کی طرح اردو بھی اپنی ایک اشرافیہ اور اپنا ایک طنطنہ رکھتی ہے، اور غیر اہلِ زبان کو یہاں بھی ٹاٹ باہر رکھا جاتا ہے، یا اگر کسی کو خیال گزرتا ہے کہ اردو کا تعلق تو مدارس سے ہے، اس لیے اب یہ پاکستان کی نہیں ہے بلکہ دہشت گردوں کی زبان ہے تو ایسے کسی بھی ردِّ عمل یا سوال کو ہمیں ٹھنڈے دل سے سننا اور جھنجھلاہٹ کے بغیر اس پر غور کرنا چاہیے۔ اپنی رائے کے اظہار سے پہلے اُس کے تمام تر پہلوؤں پر سوچنا چاہیے اور اجتماعی قومی مفاد کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے بات کرنی چاہیے۔

یہ کہنا کہ دس فی صد کی زبان کو نوے فی صد پر نافذ کرنا درست نہیں۔ اتفاق یہ ہے کہ ان دنوں ملک میں مردم شماری کا عمل جاری ہے۔ جلد ہی نئے اعداد و شمار سامنے آجائیں گے۔ پچھلے اعداد و شمار کے مطابق تو ایسے لوگ ملک میں دس فی صد سے بھی کم ہیں جن کی مادری زبان اردو ہے۔ یہ زمینی حقائق ہیں، جنھیں رد نہیں کیا جاسکتا۔ 

تاہم دیکھنا چاہیے کہ اردو کو قومی/ سرکاری زبان کا درجہ دینے کے پس منظر میں کیا اس کی آبادی کے تناسب کو سامنے رکھا گیا تھا؟ ظاہر ہے، نہیں۔ اس لیے کہ ہمارے یہاں ایسے لوگوں کا تناسب کبھی ستر یا اسّی فی صد نہیں رہا جن کی مادری زبان اردو رہی ہو۔ اس لیے اردو کے قومی زبان قرار پانے کا جواز عددی برتری تو کبھی ہو ہی نہیں سکتا۔

ایسا ہمارے یہاں ہی نہیں اور بھی کتنے ہی ایسے ملکوں میں دیکھا جاسکتا ہے جہاں مختلف ثقافتی گروہ پائے جاتے ہیں۔ مثلاً روس، چین اور امریکا وغیرہ۔ وہ سب ممالک جو کثیر ثقافتی یا کثیر لسانی ہوتے ہیں، ان میں بالعموم قومی زبان کا تعین کسی عددی برتری کے ذریعے نہیں ہوا کرتا۔ اس کے برعکس یہ دیکھا جاتا ہے کہ قومی زبان وہ ہو جس کے ذریعے معاشرے کے مختلف طبقات اور سارے ثقافتی و لسانی گروہوں میں باہمی رابطے کی صورت آسانی سے اور وسیع پیمانے پر ممکن ہو۔ 

اس اصول کی بنیاد پر دیکھیے تو اردو بجا طور پر ہماری قومی زبان قرار پاتی ہے۔ کراچی سے کوئٹہ تک، ملک کے ہر حصے میں اس زبان کے بولنے اور سمجھنے والے لوگ سب سے زیادہ تعداد میں ہیں۔ ملک کے بیشتر علاقوں میں مختلف لسانی پس منظر رکھنے والے لوگ اس زبان کو اظہار و ابلاغ کے لیے کسی خارجی دباؤ کے تحت استعمال نہیں کرتے، بلکہ یہ عمل ازخود یعنی بالکل فطری طریقے سے ہوتا ہے۔ 

اردو سرکاری مشینری کی قوت سے ملک میں رائج نہیں ہے، بلکہ اس وجہ سے کہ یہ قومی سطح پر اظہار و ابلاغ کی ضرورت پوری کرنے کا سب سے آسان اور مؤثر ذریعہ ہے۔ ملک میں بولی جانے والی دوسری کوئی زبان اس ضرورت کو اتنی سہولت سے پورا نہیں کرتی یہ سب زبانیں محترم ہیں۔ ان کی شرکت سے قومی دھارے کی رنگا رنگی اور وقعت بڑھتی ہے۔ ان کو آپس میں ٹکرا کر انتشار کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔

ہر زبان کی ایک اشرافیہ بہرحال ہوتی ہے۔ یہ مادری زبان والا طبقہ ہوتا ہے جس کے یہاں کسی نہ کسی سطح پر ایک طرح کا الیٹ ازم نظر آتا ہے۔آج بھی فرانس اور جرمنی میں دیکھ لیجیے، زبان کی یہ اشرافیہ وہاں بھی نظر آتی ہے۔ انگریزی آج دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے، لیکن آج بھی اس کا ایک الیٹ ازم قائم ہے۔ امریکی اور برطانوی انگریزی کا فرق ہمارے سامنے ہے اور اس کے بارے میں اہلِ زبان انگریزوں کا رویہ بھی۔ ہم برطانیہ کی کالونی رہے ہیں اور ہمارے یہاں انگریزوں سے اچھی انگریزی بولنے اور لکھنے والے بھی پیدا ہوئے ہیں، لیکن ان سے اہلِ برطانیہ کا طرزِ عمل آج بھی تاریخی حوالوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ 

ایک زمانے میں برِصغیر کی اشرافیہ اور اقتدار کی زبان فارسی تھی۔ اس کے باوجود ہندوستان کے فارسی لکھنے بولنے والوں کے سلسلے میں ایسے ہی الیٹ ازم کا اظہار کیا جاتا تھا۔ بیدل جیسے شاعر کا کلام سبکِ ہندی شمار ہوا ہے۔ یہی نہیں، بلکہ خود ہمارے یہاں انشا اور نظیر کے ساتھ جو طرزِ عمل اختیار کیا گیا، وہ بھی اسی الیٹ ازم کا مظہر تو ہے۔ ان سب مثالوں کو پیش کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ جسے اردو کی اشرافیہ اور اس کا طنطنہ کہا جاتا ہے، وہ طبقہ اور طرزِ عمل کم و بیش ہر زبان میں پایا جاتا ہے۔

اس لیے ایسے کسی حوالے کو بنیاد بناکر اردو سے بدظن ہونا درست نہیں۔ دوسری بات یہ کہ وہ زمانہ مدت ہوئی رخصت ہوچکا جب اردو زبان، ’’اردوے معلی‘‘ تھی۔ اب وہ ’’اردوے محلہ‘‘ ہے۔ آج وہ کسی امتیاز کے بغیر عوام کی زبان ہے۔ تیسری بات یہ کہ اردو نے صرف اقتدار اور اشرافیہ ہی کے لیے نہیں، شعرا اور صوفیہ کے لیے بھی دامنِ دل کشادہ رکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اُن کے مزاج کا رنگ آج اس کی سرشت کا سب سے نمایاں اور غالب حصہ ہے۔ ان حقائق کو بھی تو ایمان داری کے ساتھ پیشِ نظر رکھا جانا چاہیے۔

یہ کہنا کہ اردو مدارس کی زبان ہے، اس لیے اس کا تعلق دہشت گردوں سے ہے، زیادہ قابلِ غور ہے۔ مدارس ہمارے یہاں آج کے نہیں ہیں، صدیوں سے ہیں اور سیکڑوں نہیں، ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔ اس سچائی سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ غلامی کے دور میں ہماری تہذیب و زبان بقا کے لیے ان مدارس نے بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ انھوں نے فقہ کے ہی نہیں، ادب، فلسفہ، تاریخ اور سیاسیات کے بھی بڑے بڑے لوگ پیدا کیے ہیں۔

آج اگر ان میں سے کچھ افراد دہشت گردوں کے آلۂ کار یا سہولت کار بن گئے ہیں تو ہمیں ان کو الگ سے پہچاننا اور ان کے خلاف بولنا چاہیے۔ سب مدارس کے خلاف جھاڑو پھیر قسم کا بیان نہیں دینا چاہیے۔ یہاں یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے کہ دہشت گردی اس وقت عالمی مسئلہ ہے۔ افغانستان، لیبیا، شام، مصر، ترکی، فرانس اور برطانیہ میں ہونے والی دہشت گردی کا کوئی تعلق اردو سے نہیں ہے۔ دہشت گردی کا عذاب بے شک، ہم بھی جھیل رہے ہیں، لیکن اس کی جڑیں ہمارے یہاں نہیں ہیں، مراد یہ کہ ہماری زبان یا تہذیب میں نہیں ہیں۔ اس لیے ہمیں اردو یا اپنی کسی بھی دوسری زبان کے لیے ایسی باتیں نہیں کرنی چاہییں۔ یہ ذہنی رویہ ہمارے یہاں بگاڑ اور ٹکڑاؤ کا باعث بنے گا۔ اس کے ذریعے نفاق پھیلے گا۔ جب کہ قومی استحکام کے لیے ہمیں اس وقت بالخصوص قومی ہم آہنگی اور یک جہتی کی ضرورت ہے۔

بات صرف اردو ہی کی نہیں، کوئی بھی زبان ہو، اُس کی فطرت میں فاصلے پیدا کرنے کا نہیں، فاصلے ختم کرنے کا جوہر ہوتا ہے۔ دُوریاں اور اجنبیت ختم کرکے، وہ انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ انھیں ایک دوسرے کو پہچاننے، سمجھنے اور ایک دوسرے کے احساس میں شرکت کا موقع دیتی ہے۔ انسان نے زبان ایجاد کی تھی تو اس کا مقصد یہ تھا کہ خاموشی کے ہول ناک اور جاں گسل صحراؤں کو عبور کرکے وہ اپنے جیسے دوسرے شخص کے پاس پہنچ سکے۔ زبان اپنی سرشت میں وصل کا سامان رکھتی ہے، فراق کا نہیں۔ ان سب باتوں کا اطلاق بعینہٖ اردو زبان پر بھی اسی طرح ہوتا ہے جیسے کسی بھی دوسری زبان پرہوتا ہے۔